News Search
Home News Dictionary TV Channels Names Weather Live Cricket Videos Photos Results Naats
Home Taza Tareen
ماہر چوروں نے جیولری شاپ سے سونے کے 60 کلو زیورات چوری کر لئے     موصل پر امریکی اتحاد کی بمباری، 230 شہری جاں بحق     خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی احسن اقبال سے ملاقات     خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی وفاقی منصوبہ بندی وترقی احسن اقبال سے ملاقات     لندن، دہشت گردی سے خوف زدہ خاتون دریا میں کود پڑی     ” عمر انکی 28 سال کیوں نہ ہو جائے ، دماغ ا ن کا 16 سال سے بڑا ہی نہیں ہوتا“     تیس کمپنیوں اور افراد پر امریکی پابندیاں لگ گئیں     کراچی: بچوں کو صحت کی مفت معیاری سہولیات کی فراہمی     عالیہ بھٹ نے انوشکا شرما سے متاثر ہو کر انہیں آئیڈیل مان لیا     2018 میں عمران خان سے خیبر پختونخوا بھی چھین لیں گے: آصف کرمان     
Urdu News
Maulana Tariq Jamil
a
Naat Khawan
Amjad Sabri Farhan Ali Qadri
Fasih Uddin Soharwardi Ghulam Mustafa Qadri
Imran sheikh Attari Junaid Jamshed
Owais Raza Qadri Shahbaz Qamar Faridi
Syed Mohammad Furqan Qadri Ummeh Habiba
Waheed Zafar Qasmi Zulfiqar Ali
UrduWire Names Directory
Muslim Names Arabic Names
Muslim Boy Names Muslim Girl Names
Pictures Gallery
Cleaning The Kaaba Area - One Of The Best Jobs In The World Cleaning The Kaaba Area - One Of The Best Jobs In The World
Dream World Water Park Resort Hotel Ticket & Membership Price 2017 Karachi Dream World Water Park Resort Hotel Ticket & Membership Price 2017 Karachi
Hawksbay Beach Huts Picture & Contact Numbers For Booking Huts Hawksbay Beach Huts Picture & Contact Numbers For Booking Huts
View all Pictures

 

Home >> Urdu News >> BBC Urdu
سائنس اور ٹیکنالوجی Share your views
جنگوں کے باوجود بچ جانے والا نایاب ہرن  [بی بی سی اردو] 19 Sep, 2016
یہ ہرن سرخ ہرن کی ایک نایاب نسل ہے 40 سال سے لوگوں کو اس بات کا یقین تھا کہ افغانستان سے باختری ہرنوں کی نسل کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ ملک میں ایک عرصے سے جاری مسلح تنازعات کی وجہ سے اس خیال کو مزید تقویت ملتی تھی۔ لیکن پھر اچانک سنہ 2013 میں ماہرِ ماحولیات زلمی محب اور محققین کی ایک ٹیم کو یہ ہرن نظر آیا۔محب کے لیے یہ ایک یادگار لمحہ تھا جس کے ذریعے یہ کہانی معلوم ہوتی ہے کہ کیسے تمام تر ناموافق حالات کے باوجود یہ جانور اور یہ ملک ابھی بھی موجود ہیں۔ محب کا کہنا تھا کہ ’ ہم نے اپنے آپ سے کہا زبردست، گذشتہ 45 سالوں میں یہ پہلا موقع ہوگا جب ہم اس ہرن کی موجودگی کی تصدیق کریں گے، قدرتی وسائل کے تحفظ کے ماہرین اس ہرن کو دوبارہ دیکھنے کی امید کھو بیٹھے تھے۔‘خیال رہے کہ دریا کنارے پر موجود درختوں اور جھاڑیوں میں رہنے کا شوقین یہ ہرن بخارا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔وسطی ایشیا میں پایا جانے والا یہ جانور سرخ ہرن کی ایک نایاب قسم ہے۔1970 کی دہائی میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس ہرن کی نسل ختم ہونے کے قریب ہے۔ اس وقت محققین نے خبردار کیا تھا کہ افغانستان میں صرف 120 ایسے ہرن رہ گئے ہیں۔ملک میں اس کے بعد ہونے والی جنگوں سے یہ خدیشہ مزید تقویت پکڑ گیا تھا کہ باختری ہرن کی نسل ختم ہو گئی ہے۔میسا چوسٹس یورنیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالبعلم محب کے بقول’ شروع میں ہم زیادہ پر امید نہیں تھے، لیکن ہم نے پھر بھی اس ہرن کی تلاش جاری رکھی۔آخر کار ہم اسے ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے اور یہ بہت باعثِ مسرت تھا۔‘ان کا مزید کہنا ہے کہ جب انھیں ایک باختری ہرن نظر آیا تو وہ پر امید تھے کہ یقیناً اس نسل کے اور ہرن بھی ملک میں موجود ہوں گے۔ جنگوں کی وجہ سے افغانستان میں جنگلی حیات بری طرح متاثر ہوئی ہیں جب محب اور ان کی ٹیم نے اس ہرن کی تلاش شروع کی تھی تو وہ زیادہ پر امید نہیں تھے کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ ملک میں جاری جنگوں کے باعث جنگلی حیات یقیناً متاثر ہوئی ہوں گی۔محب کے بقول ’ جنگوں سے ہمیشہ جنگلی جانور اور ماحول متاثر ہوتے ہیں، خوراک کے لیے شکار اور جنگلات کی کٹائی ایسے عوامل تھے جن سے باختری ہرن متاثر ہوئے تھے۔‘ہتھیاروں تک رسائی کا مطلب تھا کہ کوئی بھی شخص ان ہرنوں کا شکار تھا جس کے باعث ان کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی۔یہ ہرن افغانستان اور تاجکستان کی سرحد کے قریب پائے جاتے ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ جنگ کے دوران یہ ہرن نقل مکانی کرکے تاجکستان چلے گئے تھے شاہد اسی لیے ان کی نسل ختم ہونے سے بچ گئی ہے۔آج افغانستان میں مختلف سرکاری اور غیر سرکاری تنظیمیں ملک کے مختلف علاقوں میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہیں۔محب کے بقول باختری ہرن افغانستان کے آس پاس کے علاقوں قزاقستان، تاجکستان اور ازبکستان میں بھی پائے جاتے ہیں۔محب کا کہنا ہے کہ ’ باختری ہرن کی موجودگی افغانستان کے لیے بہت ضروری ہے، یہ ملک کے قدرتی ورثے کا حصہ ہیں۔‘
View News As Image
Post Your Comments
Select Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

Name: Email:(Will not be shown) City:
Enter The Code:

 
Home | About Us | Contact Us |  Profiles |  Privacy Policy & Disclaimer | What is Meta News?
Top Searches: Jang News Cricinfo Express Tribune,  , SSC Part 1 Results 2016   Dunya News Bol News Live Samaa News Live Metro 1 News Waqt News Hum TV PTV Sports Live KTN News
Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on "as it is" based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Please read more!

UrduWire.com - First ever Urdu Meta News portal