News Search
Home News Dictionary TV Channels Names Weather Live Cricket Videos Photos Results Naats
Home Taza Tareen
انگلیاں آپ کی شخصیت کے بارے میں کیا کہتی ہیں، جانئے اس خبر میں !     آزادکشمیرسے راولپنڈی جانے والی مسافروین کھائی میں گر گئی،10 جاں بحق     ایل او سی سےمتعلق بھارتی پروپیگنڈا کوکامیاب نہیں ہونےدیںگے:آرمی چیف     گستاخانہ مواد: مسلم ممالک معاملہ عرب لیگ، او آئی سی اور اقوام متحدہ میں اٹھائیں گے، دنیا مذہب کی بے حرمتی کو بھی دہشتگردی تسلیم کرے: نثار     متحدہ عرب عمارات میں کشمیری تارکینِ وطن کا دلچسپ اجتماع     کینیڈا کے ساتھ پائپ لائن منصوبہ’’بہترین قومی مفاد میں‘‘: محکمہٴ خارجہ     مردم شماری جائزہ اجلاس؛ عالمی معیار مدِ نظر رکھنے کی ہدایت     قصور میں فائرنگ سے 2 پولیس اہلکار جاں بحق     مقبوضہ علاقوں میں یہودی آباد کاری کو مسترد کرتے ہیں: میرکل‎      تینوں خانوں میں شاہ رخ خان کیساتھ کیمسٹری سب سے اچھی رہی     
Urdu News
Maulana Tariq Jamil
a
Naat Khawan
Amjad Sabri Farhan Ali Qadri
Fasih Uddin Soharwardi Ghulam Mustafa Qadri
Imran sheikh Attari Junaid Jamshed
Owais Raza Qadri Shahbaz Qamar Faridi
Syed Mohammad Furqan Qadri Ummeh Habiba
Waheed Zafar Qasmi Zulfiqar Ali
UrduWire Names Directory
Muslim Names Arabic Names
Muslim Boy Names Muslim Girl Names
Pictures Gallery
Cleaning The Kaaba Area - One Of The Best Jobs In The World Cleaning The Kaaba Area - One Of The Best Jobs In The World
Dream World Water Park Resort Hotel Ticket & Membership Price 2017 Karachi Dream World Water Park Resort Hotel Ticket & Membership Price 2017 Karachi
Hawksbay Beach Huts Picture & Contact Numbers For Booking Huts Hawksbay Beach Huts Picture & Contact Numbers For Booking Huts
View all Pictures

 

Home >> Urdu News >> BBC Urdu
پاکستان کی خبریں Share your views
’قانونی اصلاحات متعارف کرانا صوبوں کی ذمہ داری‘ [بی بی سی اردو] 20 Mar, 2017
آرمی پبلک سکول

آرمی پبلک سکول میں 140 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے

وزیرِ اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے قانون و انصاف بیریسٹر ظفر اللہ خان نے فوجی عدالتوں میں توسیع سے متعلق کہا ہے کہ قانونی اصلاحات متعاراف کرانا وفاق کی نہیں صوبوں کی ذمہ داری ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بیریسٹر ظفر اللہ خان نے کہا ’قانونی اصلاحات لانا بنیادی طور پر صوبوں کا اختیار ہے، اس میں حکومت نے کیا کرنا ہے؟ جب بھی جرم ہوتا ہے تو پولیس حرکت میں آتی ہے،تحقیقات ہوں یا سزا کا معاملہ یہ تمام صوبائی معاملات ہیں۔‘

پشاور آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد دو ہزار پندرہ میں دو برس کے لیے نشینل ایکشن کے تحت فوجی عدالتیں قائم کی گی تھیں۔ بعض پاکستانی پارلیمانی اراکین نے اس وقت ان کے قیام کو وقت کی مجبوری قراردیا تھا۔ قوم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ دو برس میں عدالتی اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی تاہم سیاسی جماعتیں ایسا کرنے میں ناکام رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فوجی عدالتوں میں توسیع کے بل پر سیاسی جماعتوں کے درمیان ہفتوں جاری رہنے والیلے دے کے بعد اب اتفاق رائے کے ساتھ بل کو آج قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے۔

پھانسی کا پھندہ

فوج کے شبعہ تعلقات عامہ کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں دو سو ستر سے زیادہ مشتبہ انتہاپسندوں کو سزائیں سنائی گئیں۔ جن میں سے ایک سو ساٹھ سے زیادہ لوگوں کو سزائے موت سنائی گئ اور بیس سے زیادہ کو پھانسی دے دی گ

اس سوال پر کہ کیا سیاستدان ماضی کی طرح دو برس بعد پھر بے بسی کا رونا روئیں گے یا اصلاحات لائی جائیں گئی، بیریسٹر ظفر اللہ خان نے کہا ’میں سیاست کا طالب علم ہوں ، مستقبلیت کا نہیں۔‘

اس سلسلے میں کہ کیا اصلاحات لانا حکومت کے ہاتھ میں نہیں، بیریسٹر ظفر اللہ خان کا کہنا تھا ’یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ برطانیہ میں بھی ملٹری ٹرائلز ہوتے ہیں جہاں اعلی سطح کی عدالتی اصلاحات نافذ ہیں اور امریکہ جو دنیا کی بہترین جمہوریت ہے وہاں پر بھی ایسا ہوتا ہے۔‘

تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ ’شاید فوجی عدالتوں کی مستبقل میں ضرورت نہ پڑے۔ ضرب عضب نے انتہاپسندوں کی کمر توڑی ہے، اب دوسرے مرحلے میں آپریشن ردالفساد جاری ہے۔ مزید اصلاحات بھی آئیں گی۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اگلے دو برس میں ہم اس سے بہت بہتر جگہ پر ہوں گئے۔‘

ایک طرف وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے قانون بیریسٹر ظفر اللہپاکستان میں حالات بہتر ہونے کا دعویٰ کرتے رہے تو دوسری طرف حالات کی مجبوری کو بھی جواز بناتے رہے۔

فوجی عدالتیں

شاید فوجی عدالتوں کی مستبقل میں ضرورت نہ پڑے: بیریسٹر ظفر اللہ

اس سلسلے میں انھوں نے کہا ’میں ان لوگوں میں شامل ہوں جو فوجی عدالتوں کے خلاف ہیں لیکن ہم مجبور ہیں کیونکہ حالات ایسے ہیں کہ کوئی چارہ کار موجود نہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں فوجی عدالتوں میں توسیع پر تو پہلے سے ہی راضی تھیںمگر کچھ سیف گارڈز شامل کرنے پر بحث جاری تھی۔ ہم نے پیپلز پارٹی کو یہی کہا کہ یہ سیف گارڈز پاکستان کے آئین اور قانون میں پہلے سے شامل ہیں مگر پی پی پی چاہتی تھی کہ ہم انہیں اس مسودہ کا حصہ بنائیں۔‘

اس پر روشنی ڈالتے ہوئے انھوں نے کہا ’پی پی پی کہتی تھی کہ قانون شہادت لگے تو ہم نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں پہلے سے لکھا ہے کہ قانون شہادت لگے گا تو لکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ وہ چاہتے تھے جوڈیشل رویو کی اجازت ہو تو ہمارا موقف تھا کہ سپریم کورٹ نے تو پہلے سے ہی کہہ رکھا۔ اس طرح کی معمولی چیزیں تھیں تو اصل میں ہمارا کوئی بنیادی اختلاف نہیں تھا۔‘

دو ہزار پندرہ میں ملک بھر میں گیارہ فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں۔ فوج کے شبعہ تعلقات عامہ کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں دو سو ستر سے زیادہ مشتبہ انتہاپسندوں کو سزائیں سنائی گئیں ۔ جن میں سے ایک سو ساٹھ سے زیادہ لوگوں کو سزائے موت سنائی گئ اور بیس سے زیادہ کو پھانسی دے دی گی ہے۔

بیشتر ماہرین فوجی عدالتوں کی کارروائی خفیہ رکھے جانے پر تنقید کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جرم کی نوعیت کا نہ بتانا یا اس حوالے سے لاعلمی کہ مجرم کو وکیل تک رسائی کاآئینی حق حاصل ہوا یا نہیں وہ نکات ہیں جو فوجی عدالتوں کی کارروائی کو مشوک بناتے ہیں۔ فوجی عدالتوں کی جانب سے سنائی جانے والی بیشتر سزاؤں کو اعلی عدالتوں میں چیلنج بھی کیا گیا ہے۔


View News As Image
Post Your Comments
Select Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

Name: Email:(Will not be shown) City:
Enter The Code:

 
Home | About Us | Contact Us |  Profiles |  Privacy Policy & Disclaimer | What is Meta News?
Top Searches: Jang News Cricinfo Express Tribune,  , SSC Part 1 Results 2016   Dunya News Bol News Live Samaa News Live Metro 1 News Waqt News Hum TV PTV Sports Live KTN News
Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on "as it is" based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Please read more!

UrduWire.com - First ever Urdu Meta News portal