News Search
Home News Dictionary TV Channels Names Weather Live Cricket Videos Photos Results Naats
Home Taza Tareen
افغان فورسز کی چمن میں بلااشتعال فائرنگ، 1 شہری شہید، 18 افراد زخمی     چمن بارڈر پر افغان فورسز کی فائرنگ، 4 ایف سی جوان زخمی، آئی ایس پی آر     راجن پور: تھانہ محمد پور کی حدود میں فائرنگ،4افراد جاں بحق 1زخمی     وزیراعظم کا ویژن پاکستان کو لوڈ شیڈنگ فری بنانا ہے، عابد شیرعلی     آخری دن میزبان بولنگ کا ہمارے پاس جواب نہ تھا، مصباح الحق     بارباڈوس:ویسٹ انڈیزکےہاتھوں پاکستان کوعبرتناک شکست     سرحد پار سے مردم شماری ٹیم پر فائرنگ، چمن سرحد بند     ’مکی‘ اور ’منی‘ حقیقی زندگی میں میاں بیوی تھے     پاناما کیس، سپریم کورٹ کا آج ہی جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ     پنجاب: مختلف اضلاع میں سرچ آپریشن، 41 افراد گرفتار     
Urdu News
Maulana Tariq Jamil
a
Naat Khawan
Amjad Sabri Farhan Ali Qadri
Fasih Uddin Soharwardi Ghulam Mustafa Qadri
Imran sheikh Attari Junaid Jamshed
Owais Raza Qadri Shahbaz Qamar Faridi
Syed Mohammad Furqan Qadri Ummeh Habiba
Waheed Zafar Qasmi Zulfiqar Ali
UrduWire Names Directory
Muslim Names Arabic Names
Muslim Boy Names Muslim Girl Names
Pictures Gallery
Cleaning The Kaaba Area - One Of The Best Jobs In The World Cleaning The Kaaba Area - One Of The Best Jobs In The World
Kallar Kahar beautiful Motorway road view, Pakistan Kallar Kahar beautiful Motorway road view, Pakistan
Samzu Water Park Pictures Ticket Price 2015 & Location in Karachi Samzu Water Park Pictures Ticket Price 2015 & Location in Karachi
View all Pictures

 

Home >> Urdu News >> BBC Urdu
پاکستان کی خبریں Share your views
پاکستانی میڈیا میں صحافتی معیار کتنا اہم؟ [بی بی سی اردو] 04 May, 2017
نیوز روم

نیوز روم میں کام کرنے والے ہر ملازم کو شفٹ کے آخر میں کو روزانہ اپنی کا رکردگی کا حساب دینا ہوتا ہے

پاکستان کے ایک بڑے شہر کی ایک کثیر منزلہ عمارت کے ایک فلور پر قطار سے ٹیبلیں لگی ہوئی ہیں جن کے دونوں طرف درجنوں ملازم کام میں لگے ہوئے ہیں۔ بڑے سے ہال میں شور وغل اتنا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ ہر کوئی جلدی میں ہے۔

کسی کو کچھ سوچنے، سمجھنے یاپڑھنے کا وقت نہیں۔ یہاں صرف پر پریشر ہے کہ ڈیڈلائن سے پہلے خبریں جمع کراتے جاؤ۔

پاکستانی میڈیا ہاؤسز 'سیلف سنسر شپ' کا شکار

ہونے کو یہ مچھلی بازار ہو سکتا ہے، یا پھر جوتے بنانے کی کوئی فیکٹری۔

لیکن ہے یہ پاکستان کے ایک بڑے چینل کا بڑا نیوز روم ہے۔ شِفٹ کے آخر میں ہر ملازم کو روزانہ اپنی کارکردگی کا حساب دینا ہوتا ہے۔ آج آپ نے کتنی خبریں ’بریک‘ کیں؟ کتنے پیکج فائل کیے؟ کتنے بیپر دیے؟

یعنی سارا زور تعداد پر، نہ کہ کام کے معیار پر!

خبر جو ’بریک‘ کی کیا وہ اس لائق بھی تھی یا پھر خبر کی ٹانگ توڑ دی؟

نوے سیکنڈ کی جو پیکج رپورٹ فائل کی کہیں اس کے تعارفی جملے وہی تو نہیں تھے جنہیں مختلف انداز سے دہرا کر کھینچ تان کر پیکج کی صورت دے دی؟

جو بیپر دیا اس میں اونچی آواز میں بغیر سانس لیے بھاشن ہی دیتے رہے یا تمیز سے اختصار کے ساتھ کوئی بات سمجھا بھی سکے؟

ایسا نہیں کہ بڑے بڑے چینل چلانے والے لوگ نااہل یا بےوقوف ہیں۔ انہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ کاروبار کیسے چلانا ہے۔ لیکن 24 گھنٹے کے نیوز چینل کا پیٹ بھرنا آسان کام نہیں۔ جب خبریں نہ ہوں تو گھڑنی پڑتی ہیں۔ ایسے میں صحافتی معیار بنانا، یا اسے قائم رکھنا ایک غیرضروری لگثری معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے مجھے نیوز روم میں کام کرنے والے ملازمین سے کوئی شکایت نہیں بلکہ ان سے ہمدردی ہی کی جا سکتی ہے۔

نیوز روم

نیوز روم میں کام کرنے والے ملازمین سے ہمدردی ہی کی جا سکتی ہے

خرابی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے اکثر چینلوں کے کسی پروگرام کی کوئی ایڈیٹوریل پالیسی نہیں ہوتی۔ ٹی وی ٹاک شوز چہروں اور شخصیات کے گرد گھومتے ہیں۔ اینکر اپنی ذات میں انجمن ہوتے ہیں۔ بڑے اینکروں کی ذاتی رائے، پسند ناپسند ہی ان کی پالیسی ہوتی ہے، جو وقت اور حالات کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ، ہوتی رہتی ہے۔

ان کے پروگرام کہنے کو تو عام ناظرین کے لیے ہیں لیکن انہیں اصل پرواہ صرف مقتدر حلقوں کی کرنی پڑتی ہے: فوج کیا سوچے گی؟ مولوی حضرات کیا کہیں گے؟ مالکان کے مفادات کو کوئی ٹھیس تو نہیں پہنچے گی؟

تجربہ کار اینکرز کے لیے یہ ان کی بقا کا سوال ہوتا ہے۔ ہمارا میڈیا ویسے تو مادر پدر آزاد سمجھا جاتا ہے لیکن بعض معاملات میں بےاحتیاطی خطرناک ہو سکتی ہے۔ اس پر اگر کہیں کسی کو کوئی کنفیوژن تھی تو صحافی حامد میر پر حملے کے بعد ختم ہو گئی۔ سب پر واضح ہو گیا کہ اگر ملک کے سب سے بڑے چینل کے معروف اینکر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے تو یہاں کوئی محفوظ نہیں۔ اس واقعے کے بعد میڈیا نے جس انداز کی سیلف سینرشپ اپنائی وہ پہلے نہیں دیکھی گئی۔

اینکرز کی دوسری کھیپ ایسی ہے جو اینکر کم اور مبلغ زیادہ نظر آتے ہیں، جنہیں ٹاکنگ پوائنٹس اور مہمان ’فیڈ‘ کیے جاتے ہیں: آج یہ لائن لینی ہے۔ راکا راگ الاپنا ہے۔ قوم میں حب الوطنی کا جذبہ سرشار کرنا ہے وغیرہ وغیرہ۔

ایسیفرمائشیں ادارے کے اندر سے بھی آتی ہیں اور باہر سے بھی، اور فخریہ طور پر ان کا حکم بجا لایا جاتا ہے۔

نیوز چینلز

24 گھنٹے کے نیوز چینل کا پیٹ بھرنا آسان کام نہیں۔ ایسے میں صحافتی معیار بنانا، یا اسے قائم رکھنا ایک غیرضروری لگژری معلوم ہوتی ہے

ایسے اینکروں کی ’سیکورٹی کلیئرنس‘ ہوتی ہے۔ ان کو طاقت کے ایوانوں تک رسائی مہیا کی جاتی ہے۔ انہیں ٹینکوں اور جہازوں پر گھمایا جاتا ہے، ان کے ذریعے لیکس پلانٹ کی جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ ملک کے بہترین مفاد میں ہوتا ہے۔

ناقدین اینکرز کی اس کھیپ کو ’حوالدار میڈیا‘ پکارتے ہیں۔ ان کا نام جتنا بڑا ہوتا ہے، کام اتنا ہی جانبدارانہ، اسی لیے کوئی ذی شعور شخص ان کے ارشادات کو سنجیدگی سے نہیں لیتا۔

لیکن پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ اسی پاکستان میں ایسے صحافی اور اینکر ہیں جو آج بھی تمام تر مشکلات کے باوجودہمت کے ساتھہمارے دور کے مشکل سوالات اٹھانے سے نہیں کتراتے۔ لیکن افسوس کہ وہ اکثر چھوٹے چینلز تک محدود نظر آتے ہیں۔

نیوز چینلز میں کام کرنے والے دوست مانتے ہیں کہ وہاں صحافت کم اور کلرکی زیادہ ہوتی ہے۔ ایڈیٹوریل کنٹرول اوپر والے سو فیصد اپنی مٹھی میں رکھتے ہیں۔ انتظامی ڈھانچے میں لوگوں کے ٹائٹل اور تنخواہ جتنی بڑھتی جاتی ہے، ادارتی اختیارات اتنے ہی کم ہوتے جاتے ہیں۔ تخلیقی کام کی گنجائش نہ صرف کم ہوتی ہے بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

ٹیکنالوجی تیزی سے بدل رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں نوجوانوں میں موبائل فون پر خبریں سننے، پڑھنے اور دیکھنے کا رجحان بڑھا ہے۔ وہ صرف سننا نہیں کچھ کہنا بھی چاہتے ہیں۔ اپنی آواز دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں، جس کے لیے وہ فیس بک اور ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح آبادی کا آدھے سے زیادہ حصہ یعنی خواتین ویسے ہی بظاہر نیوز چینلوں سے بیزار رہتی ہیں۔

یہ ایسے ہی چلتا رہا تو پھر پرائم ٹائم نیوز شوز دیکھنے کے لیے بچے گا کون؟

آج نہیں تو کل میڈیا انڈسٹری کو اپنے طور طریقے درست کرنے ہوں گے۔ انڈسٹری میں سدھار لانا ہوگا۔ ورنہکروڑوں اربوں کی اس انڈسٹری کا زوال وقت سے پہلے بھی آسکتا ہے۔ جب آپ کے نیوز چینل اور آپ کے پروگرام دیکھنے کے لائق ہی نہیں رہیں گے تو لوگ کیوں ٹی وی کے آگے ٹکٹکی باندھے اپنا وقت ضائع کریں گے؟


View News As Image
Post Your Comments
Select Language:    
Type your Comments / Review in the space below.

Name: Email:(Will not be shown) City:
Enter The Code:

 
Home | About Us | Contact Us |  Profiles |  Privacy Policy & Disclaimer | What is Meta News?
Top Searches: Jang News Cricinfo Express Tribune,  , SSC Part 1 Results 2016   Dunya News Bol News Live Samaa News Live Metro 1 News Waqt News Hum TV PTV Sports Live KTN News
Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on "as it is" based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Please read more!

UrduWire.com - First ever Urdu Meta News portal