نیو میکسیکو میں چار مسلمانوں کا قتل، ’باپ اور بیٹا ملوث ہو سکتے ہیں‘

اردو نیوز  |  Aug 16, 2022

امریکی ریاست نیو میکسیکو میں پولیس نے خیال ظاہر کیا ہے کہ چار مسلمان مردوں کے قتل میں باپ اور بیٹا ملوث ہو سکتے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق موبائل فون کے ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ 51 برس کے محمد سید اور ان کے بیٹے 21 سالہ شاہین سید پانچ اگست کو البوکرکے کے اسی علاقے میں موجود تھے جہاں پانچ اگست کو قتل ہوا تھا۔

پیر کو کیس کی سماعت کے دوران شاہین سید کی ضمانت مسترد کر دی گئی۔

ان کے وکیل جان اینڈرسن نے کہا کہ الزامات ’انتہائی کمزور اور قیاس آرائی پر مبنی ہیں۔‘

پولیس نے گزشتہ ہفتے شاہین سید کے والد 51 سالہ محمد سید پر دو افراد کے قتل کا الزام عائد کیا تھا۔

فیڈرل پراسیکیوٹر کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’قانون نافذ کرنے والے افسران کو حال ہی میں ایسے شواہد ملے ہیں جو محمد سید اور شاہین سید کو ان واقعات سے جوڑتے ہیں۔‘

ایف بی آئی کے سیل ٹاور کے ڈیٹا کے تجزیے کے مطابق شاہین سید نے پانچ اگست کو قتل ہونے والے دو مسلمان مردوں کے جنازے میں نعیم حسین کو شرکت کے بعد جاتے دیکھا۔

شاہین سید نے نعیم حسین کا پارکنگ ایریا میں تعاقب کیا تھا جہاں انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

دونوں باپ بیٹے البوکرکے کے علاقے میں موجود تھے۔ (فوٹو: اے پی)پراسیکیوٹرز نے دیگر فائرنگ کے واقعات سے متعلق ثبوت فراہم نہیں کیے۔

امتیاز حسین کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ یکم اگست کو ان کے بھائی محمد افضل حسین کے قتل میں کم از کم دو افراد ملوث تھے۔

پولیس ریکارڈ اور امتیاز حسین کے مطابق سٹی پلاننگ ڈائریکٹر افضال حسین کو 15 سے 20 سیکنڈ میں 15 بار گولی مارنے کے لیے ایک پستول اور رائفل کا استعمال کیا گیا۔

امتیاز حسین نے کہا کہ ایک  شخص کے لیے اس مختصر وقفے میں دو ہتھیار استعمال کرنا مشکل ہے۔

مقتول نعیم حسین اور افضال حسین کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

ایک افغان مہاجر محمد سید پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے افضال حسین اور 41 سالہ کیفے مینیجر آفتاب حسین کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے جن کے افغانستان اور پاکستان میں تعلقات تھے۔

چوتھا شخص سپر مارکیٹ کے مالک 62 سالہ محمد احمدی کو 7 نومبر 2021 کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ نعیم حسین اور احمدی کے قتل کے ممکنہ الزامات پر استغاثہ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More