امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر آرٹیفشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں اُن کی سوچ کے مطابق غزہ کی تعمیرِ نو کو دکھایا گیا ہے۔
30 سیکنڈز پر محیط اس ویڈیو کی شروعات میں غزہ میں ہونے والی تباہی کے مناظر دکھائے گئے ہیں لیکن چند ہی لمحوں بعد اس علاقے کوایک پُرآسائش مقام میں بدلتا ہوا دکھایا گیا ہے۔
خیال رہے 7 اکتوبر 2023 میں حماس کے حملوں کے بعد اسرائیل نے تقریباً 15 مہینوں تک غزہ میں جنگ جاری رکھی ہے۔ گذشتہ ہفتے اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے سبب یہ جنگ اپنے اختتام کو پہنچی ہے۔ اس دوران ہونے والے فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے باعث غزہ کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے پوسٹ کردہ ویڈیو کے پہلے سین میں ہی سکرین پر ’غزہ 2025‘ لکھا ہوا نظر آتا ہے۔
اس ویڈیو میں تباہی کے مناظر کے بعد غزہ کے ساحل پر بچوں کو دوڑتے ہوئے اور اس کے اطراف میں اونچی اور کثیر عمارتوں کو دکھایا گیا ہے۔
غزہ کی سڑکوں پر دوڑتی ٹیسلا گاڑیاں اور حمس کے ساتھ ڈبل روٹی کھاتے ایلون مسک کی طرح نظر آنے والا ایک شخص بھی مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنائی گئی اس ویڈیو میں نظر آتے ہیں۔
صرف یہی نہیں بلکہ اس ویڈیو میں سمندر کنارے بِکنی اور سکرٹس میں ملبوس داڑھی والے افراد کو بھی رقص کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ اگلے مناظر میں ایک بچے کو ڈونڈ ٹرمپ کی شکل کا ایک بڑا سا غبارہ بھی تھامے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ اس خیالی ویڈیو میں ٹرمپ خود بھی ایک نائٹ کلب میں ایک خاتون کے ساتھ رقص کرتے اور ایلون مسک لوگوں پر پیسوں کی برسات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اسی ویڈیو میں ایک بلند و بالا عمارت دکھائی گئی ہے جس پر ’ٹرمپ غزہ‘ لکھا ہوا نظر آ رہا ہے اور یہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک سنہرا مجسمہ بھی نصب دکھایا گیا ہے۔
ویڈیو میں ایک جگہ پر ایک سوئمنگ پول دکھایا گیا ہے جہاں امریکی صدر اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کسی مشروب سے لُطف اندوز ہو رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ویڈیو پر تنقید
اے آئی کی مدد سے بنائی گئی ویڈیو میں ایک گانا بھی سُنا جا سکتا ہے جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ آپ کو آزاد کریں گے، سب کے لیے زندگی لائیں گے، نہ کوئی سُرنگ ہو گی، نہ کوئی ڈر ہو گا، بلآخر ٹرمپ کا غزہ آ گیا ہے۔‘
سابق اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے تجویز کردہ وہ نقشہ جو مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کا وعدہ لے کر آیا تھاغزہ کی تقسیم اور فلسطینی ریاست: مصر اور عرب دنیا کا منصوبہ جس کا دارومدار حماس کے مستقبل پر ہو گاٹرمپ کا غزہ کا ’کنٹرول سنبھالنے‘ کا منصوبہ: ’یہ پلان کام نہیں کرے گا لیکن اس کوشش کے خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں‘ ’ہم اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کریں گے‘: ٹرمپ کا غزہ کو ’پاک کرنے‘ کا منصوبہ جسے مصر اور اردن مسترد کر چکے ہیں
اس سے قبل بھی امریکی صدر غزہ کا کنٹرول سنبھالنے کی تجویز دے چکے ہیں اور انھوں نے کہا تھا کہ وہ غزہ کی پٹّی کو ’مشرقِ وسطیٰ کے رویرا میں بدل دیں گے۔‘
تاہم متعدد عرب ممالک نے غزہ کے شہریوں کی دیگر ممالک کی منتقلی اور امریکی صدر کی وہاں کا کنٹرول سنبھالنے کی تجویز کی نہ صرف مخالفت کی تھی بلکہ اسے ناقابلِ قبول بھی قرار دیا تھا۔
اب اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد امریکی صدر پر سوشل میڈیا پر بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
مائیک سنگٹن نے ایکس پر یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’اگر آپ کو کوئی اور ثبوت چاہیے اس بات کا کہ ٹرمپ صدر رہنے کے اہل نہیں تو یہ (ویڈیو) دیکھ لیں۔‘
برطانوی رُکن پارلیمنٹ شوکت آدم نے اس ویڈیو کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا ہے کہا کہ ’یہ دیکھ کر خوف آتا ہے کہ دنیا کا طاقتور ترین شخص ٹرمپ ٹاور کے لیے کسی اور کی زمین چُرانے کو غلط نہیں سمجھتا۔‘
ایک اور صارف نے اس ویڈیو میں امریکی صدر، اسرائیلی وزیرِ اعظم اور ایلون مسک کی موجودگی ہر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’حیوان نسل کشی سے لُطف اندوز ہو رہے ہیں۔‘
ایکس پر ایک عرب صارف نے لکھا کہ: ’قابضین خود نہیں بدلتے بلکہ صرف اپنے نام تبدیل کرتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’جو ٹرمپ تجویز کر رہے ہیں وہ غزہ کا مستقبل نہیں ہے بلکہ نسل کشی کے جرائم کا تسلسل ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق انسانیت کے خلاف جُرم بھی ہے۔‘
ٹرمپ کے غزہ منصوبے کا مقصد کیا ہے؟
امریکی صدر نے بارہا فلسطینیوں کو غزہ سے کہیں دوسری جگہ منتقل کرنے کے ارادے کو ظاہر کیا ہے تاکہ اس علاقے کو سیاحتی سرمایہ کاری کے خطے کے طور پر فروغ دیا جا سکے اور فلسطینیوں کو تعمیر نو کے دوران کھنڈرات میں نہ رہنا پڑے۔
ٹرمپ نے مصر اور اردن کو یہ دھمکی بھی دی کہ اگر انھوں نے فلسطینیوں کو قبول نہ کیا تو ان کی امداد بند کر دی جائے گی۔
قاہرہ میں ایسوسی ایٹد پریس کے سابق مدیر برائے مشرق وسطی ڈان پیری نے ’یروشلم پوسٹ‘ کے لیے ایک تحریر لکھی ہے جس میں انھوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹرمپ کا یہ منصوبہ حقیقت میں عرب ممالک اور فسلطینیوں پر دباؤ ڈالنے کی چال ہے تاکہ حماس کو اقتدار سے ہٹایا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ ٹرمپ یہ بھی چاہتے ہیں کہ عرب ممالک، خصوصا قطر، حماس کی مالی امداد بند کر دیں۔
واشنگٹن میں ٹرمپ اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات کے بعد امریکی صدر کی ترجمان کیرولینا لویٹ نے کہا تھا کہ شاہ عبداللہ نے واضح کیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تعمیر نو کے دوران فلسطینی غزہ کی پٹی میں ہی رہائش پذیر رہیں۔ سرکاری طور پر ٹرمپ کی ترجیح اب تک یہی ہے کہ فلسطینی غزہ سے منتقل ہو جائیں۔
ڈان پیری کا ماننا ہے کہ ٹرمپ فلسطینیوں کے قیام پر رضامند ہو سکتے ہیں اگر بدلے میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا جائے اور حماس کو نکال دیا جائے۔ ڈان پیری کا یہ بھی ماننا ہے کہ غزہ میں ٹیکنوکریٹس کی حکومت بنائی جائے گی جو غرب اردن میں برسراقتدار فلسطینی اتھارٹی سے منسلک ہو گی اور مصر اور دیگر مشرق وسطی ممالک سے تعاون کرے گی۔
امریکی صدر کے ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ جلد ہی غزہ کے مستقبل پر غور کرنے کے لیے ماسٹر پلانرز اور ریئل سٹیٹ ڈویلپرز کا ایک اجلاس ہو گا۔
بلومبرگ کے مطابق وٹکوف کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں عرب ریئل سٹیٹ ڈویلپرز اور منصوبہ ساز بڑی تعداد میں شرکت کریں گے اور وہاں سامنے آنے والے آئیڈیاز حیران کُن ہوں گے۔
تاہم امریکی عہدیدار نے یہ بات واضح نہیں کی کہ یہ اجلاس کہاں منعقد ہو گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ متعدد ممالک نے امریکہ سے رابطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ غزہ کے لوگوں کے مسئلے کا کثیر المدتی حل تلاش کرنے کے عمل میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔
غزہ میں ’ناقابلِ شناخت‘ لاشوں کی ہڈیوں کی مدد سے تلاش کی کہانی: ’میری بیٹی کا جسم قبر سے کیسے باہر آیا اور کتوں نے اُسے کیسے کھا لیا‘15 ماہ قبل حماس کا اسرائیل پر زمین، فضا اور آبی راستے سے برق رفتار حملہ کیسے ممکن ہوا تھا؟متنازع نقشے پر سعودی عرب، فلسطین اور عرب لیگ کی مذمت: ’گریٹر اسرائیل‘ کا تصور صرف ’شدت پسندوں کا خواب‘ یا کوئی ٹھوس منصوبہحسن نصر اللہ کی تدفین میں ہزاروں حامیوں کی شرکت: وہ شیعہ عالم جنھوں نے حزب اللہ کو لبنان کی فوج سے بھی زیادہ طاقتور بنایایحییٰ سنوار: حماس کے سابق سربراہ کی لاش جسے اسرائیل ’پریشر کارڈ‘ کے طور پر استعمال کر سکتا ہے