مصطفیٰ عامر قتل میں پیشرفت اور تحقیقات کے حوالے سے ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی سی آئی اے اور ایس ایس پی سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کو آج شام چار بجے وزیر اعلٰی ہاؤس طلب کر لیا گیا ہے۔واضح رہے کہ آئی جی سندھ کل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو کیس کی تمام تفصیلات اور پیش رفت پر بریفنگ دیں گے۔دوسری جانب مصطفیٰ قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان قریشی اور ساتھی شیراز کو انسداد دہشت گردی (اے ٹی سی) میں پیش کیا گیا۔ اس سے قبل وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایک سینیئر افسر کے مطابق، مصطفیٰ قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان قریشی کے خلاف سندھ پولیس کی طرف سے تحریری خط ابھی تک موصول نہیں ہوا۔ایف آئی اے حکام کے مطابق اگر منی لانڈرنگ کے شواہد ملے، تو ارمغان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کیا جائے گا۔ غیر قانونی کال سینٹر اور ارمغان کے مکان سے برآمد کیے گئے لیپ ٹاپس کی تحقیقات کے لیے سائبر کرائم سیل کو بھی شامل کیا جائے گا۔اس کیس میں ایک اور اہم پیشرفت یہ ہے، کہ ملزم ارمغان کے مکان میں غیرقانونی کال سینٹر اور سافٹ ویئر ہاؤس کے انکشاف کے بعد مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ سندھ پولیس کی جانب سے اس معاملے پر ایف آئی اے کو تحقیقات کے لیے خط بھیجا گیا تھا، تاہم یہ خط ابھی تک ایف آئی اے کو موصول نہیں ہوا۔ اس تاخیر کے باعث ٹیرر فنانسنگ، منی لانڈرنگ، اور سائبر کرائم کی تحقیقات آگے نہیں بڑھ سکی ہیں۔ارمغان کے غیرقانونی کال سینٹر اور سافٹ ویئر ہاؤس کی تحقیقاتسی آئی اے مصطفیٰ کے اغوا، تاوان طلبی اور قتل کے معاملے پر تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔ سی آئی اے نے ڈی آئی جی کرائم انویسٹی گیشن کو اس سلسلے میں تجاویز پر مبنی خط ارسال کیا تھا، جس میں ایف آئی اے کی تحقیقات کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا۔سندھ پولیس کے کرائم اینڈ انویسٹی گیشن حکام کے مطابق آئی جی سندھ آفس کو بھی اس معاملے سے تحریری طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ تحقیقات کے دوسرے مرحلے میں اے آئی جی آپریشن متعلقہ حکام کو خط لکھیں گے۔اداکار ساجد حسن کے بیٹے ساحر حسن کو منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ (فوٹو: سکرین گریب)ملزم کا ریمانڈ نہ دینے والے جج کے خلاف کارروائیمصطفیٰ عامر قتل کیس میں ملوث مرکزی ملزم ارمغان کا پولیس کو ریمانڈ نہ دینے کا معاملہ سامنے آنے پر وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے سندھ ہائیکورٹ کو باقاعدہ مکتوب ارسال کیا ہےمکتوب کے پیش نظر ہائیکورٹ سندھ نے اس ضمن میں ضروری احکامات جاری کیے، جن کی تعمیل کرتے ہوئے محکمہ داخلہ حکومت سندھ نے انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک کے جج کے اختیارات ختم کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا۔اعلامیے کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 3 کو منتظم جج کے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔ یہ اقدام اس لیے اٹھایا گیا کیونکہ مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ملزم ارمغان کا اے ٹی سی 1 سے پولیس کو ریمانڈ نہ دینے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔پس منظر اور کیس کی تفصیلاتیہ کیس سندھ کے ایک سنگین مجرمانہ واقعے کے طور پر سامنے آیا، جس میں مصطفیٰ عامر کو اغوا کرکے بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ اغوا کی ابتدائی اطلاعات کے بعد مصطفیٰ کے اہل خانہ نے پولیس سے مدد طلب کی، مگر ابتدائی تحقیقات میں کوئی خاص پیشرفت نہ ہو سکی۔ کچھ دنوں بعد مصطفیٰ کی لاش بلوچستان کے شہر حب کے ایک ویران علاقے سے برآمد ہوئی، جس کے بعد پولیس نے اس کیس کو ہائی پروفائل قرار دے دیا۔پولیس کی تفتیش میں معلوم ہوا کہ اس واردات میں ملزم ارمغان مرکزی کردار ادا کر رہا تھا۔ ارمغان کو جلد ہی حراست میں لے لیا گیا، مگر دورانِ تفتیش ایک اور حیران کن انکشاف ہوا کہ اس کے گھر میں غیرقانونی طور پر ایک کال سینٹر اور سافٹ ویئر ہاؤس چل رہا تھا، جو ممکنہ طور پر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ اس انکشاف نے کیس کو مزید پیچیدہ بنا دیا اور تحقیقات کو وسیع کر دیا۔پولیس کے مطابق، گرفتار ملزمان ارمغان اور شیراز کو مصطفیٰ عامر کے قتل کے بعد سکردو فرار ہونے میں مدد ملی تھی۔ وہاں یہ دونوں ایک بنگلے میں مقیم رہے اور بعد ازاں ایک لال رنگ کی فورڈ گاڑی میں خود ڈرائیو کر کے اسلام آباد واپس آئے۔ پولیس اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ انہیں یہ بنگلہ اور گاڑی کس نے فراہم کی۔مصطفیٰ کی لاش بلوچستان کے شہر حب کے ایک ویران علاقے سے برآمد ہوئی تھی۔ (فوٹو: فیملی)تفتیش کے دوران شہر کے 18 داخلی و خارجی راستوں پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ حاصل کر لی گئی ہے۔ تاہم پولیس کے مطابق حب ٹول پلازہ سے پہلے ہی ملزمان کی گاڑی ایک متبادل راستے پر مڑ گئی، جس کے باعث وہ ٹول پلازہ کے کیمروں کی ریکارڈنگ میں نہیں آ سکے۔مزید برآں پولیس نے ملزم ارمغان کے گھر سے برآمد بھاری اسلحے کو فرانزک کے لیے بھیج دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی زخمی ڈی ایس پی احسن ذوالفقار کو لگنے والی گولی فرانزک کے لیے بھیج دی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ معلوم ہوا ہے کہ ارمغان کے گھر سے برآمد ہونے والا اسلحہ پشاور سے منگوایا گیا تھا۔ارمغان کے غیرقانونی اقدامات اور رہائشیوں کی شکایاتکامران قریشی کے بیٹے ارمغان کے حوالے سے مزید سنسنی خیز تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ اہل علاقہ کے مطابق ارمغان نے 100 سے زائد نجی سکیورٹی گارڈز رکھے ہوئے ہیں، جو خواتین اور گھریلو ملازمین کو ہراساں کرتے رہے ہیں۔اس ضمن میں ڈی ایچ اے انتظامیہ کو ایک خط لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آٹھ فروری کو کامران اصغر قریشی کے گھر پر پولیس نے چھاپہ مارا، اس دوران گھر سے فائرنگ کی گئی اور غیر قانونی ہتھیار برآمد ہوئے۔علاقے کے رہائشی اس واقعے کے دوران گھروں میں محصور ہو گئے تھے اور بے امنی کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ رہائشیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور کامران اصغر قریشی کو اس گھر سے بے دخل کر کے اصل مالک کی شناخت کی جائے۔پولیس کی مزید تحقیقات جاریپولیس کی جانب سے مصطفیٰ عامر قتل کیس کے تمام پہلوؤں کی جانچ کی جا رہی ہے، اور مختلف شواہد کی روشنی میں مزید انکشافات متوقع ہیں۔ گرفتار ملزمان سے تحقیقات جاری ہیں، اور ان کے سہولت کاروں کو بھی قانون کی گرفت میں لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔