حماس کی جانب سے 4 مغویوں کی لاشیں واپس ملنے کے بعد اسرائیل نے 600 سے زائد فلسطینیوں کو رہا کر دیا۔
عرب میڈیا کے مطابق جنگ بندی معاہدے کے تحت رہا کیے گئے قیدیوں کی زیادہ تر تعداد غزہ کے یورپین اسپتال پہنچی ہے جہاں زخمی اور بیمار لوگوں کو طبی امداد دی جائے گی ، بہت سے قیدی بسوں میں فلسطین کے مغربی کنارے بھی پہنچے۔
قید کے دوران حسن سلوک ، اسرائیلی یرغمالی نے حماس کے اہلکاروں کا ماتھا چوم لیا
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی قید سے واپس آنے والے کئی قیدیوں کی حالت کمزور تھی، کچھ کے اعضاء نہیں تھے (نکالے گئے) جب کہ کچھ کو ان کے زخموں کی شدت کی وجہ سے ایمبولینس میں غزہ منتقل کیا گیا۔
رام اللہ میں رہا ہونے والے فلسطینی قیدی یحییٰ شریدہ نے اسرائیلی جیلوں کو “زندہ قبریں” قرار دیا اور کہا “ہمیں ایسی اذیت سے نکالا گیا ہے جیسے ہمیں اپنی ہی قبر سے نکالا گیا ہو۔”