بھارت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ایسا بھی ہے جو زندگی کی بازی ہارنے کے بجائے مسلسل لڑ رہا ہے اور اب حیران کن طور پر پانچ گردوں کے ساتھ جی رہا ہے۔
فرید آباد کے ایک نجی اسپتال میں 45 سالہ دیویندر برلیوار کا تیسری مرتبہ گردے کا ٹرانسپلانٹ کیا گیا، جس نے میڈیکل سائنس کے ماہرین کو بھی حیران کر دیا۔ دیویندر گزشتہ 15 برس سے گردے کی سنگین بیماری میں مبتلا ہیں، اور اس سے قبل 2010 اور 2012 میں دو ناکام ٹرانسپلانٹ بھی کرا چکے ہیں۔
اسپتال کے سینئر ڈاکٹر احمد کمال کے مطابق، کووڈ کے بعد دیویندر کی طبیعت مزید بگڑ گئی تھی، جس کے بعد انہیں ایک دماغی طور پر معذور کسان کا گردہ عطیہ کیا گیا۔ چونکہ مریض کے جسم میں پہلے ہی دو ناکارہ گردے موجود تھے اور دونوں ناکام ٹرانسپلانٹ شدہ گردے بھی غیر فعال ہو چکے تھے، اس لیے یہ آپریشن انتہائی پیچیدہ تھا اور سرجنز کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا۔
چار گھنٹے طویل اس پیچیدہ سرجری کے بعد دیویندر کا علاج کامیاب رہا، اور مسلسل 10 دن تک اسپتال میں نگرانی میں رکھنے کے بعد انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ یہ کیس جدید میڈیکل سائنس کے لیے ایک انوکھا معجزہ بن چکا ہے، جہاں ایک شخص پانچ گردوں کے ساتھ نئی زندگی جینے کا خواب پورا کر رہا ہے۔