راولپنڈی کے رہائشی عثمان زیب نے آج سے چار ماہ قبل پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی کے دوران اپنے سوشل میڈیا پیجز پر میچز کی لائیو سٹریمنگ اور اُن پر ایک تجزیاتی پروگرام کرنے کی تیاریاں شروع کیں۔اُنہوں نے اس مقصد کے لیے بحریہ ٹاؤن میں ایک فلیٹ خرید کر اُسے سٹوڈیو میں تبدیل کیا۔ چیمپئنز ٹرافی کے افتتاحی میچ کے ساتھ ہی وہ اپنے سوشل میڈیا پیجز پر لائیو پروگرام کرنا شروع ہو گئے۔
عثمان زیب کے ساتھ لائیو پروگرام کے دوران سٹوڈیو میں چند دوست بھی بیٹھتے اور سب مل کر ہر میچ پر براہِ راست اور ریکارڈڈ تبصرے کرتے۔ اس طرح ابتدائی میچز کے دوران ہی اُنہیں سوشل میڈیا پر خاصی پذیرائی ملنا شروع ہو گئی۔
عثمان زیب نے اپنے پروگرام کو مزید دلچسپ بنانے کے لیے آن لائن سوالات پوچھنے کا بھی سلسلہ شروع کر دیا جس کے صحیح جوابات دینے والے شائقین کو انعامات دیے جاتے۔یوں کچھ ہی دنوں میں ان کا پروگرام ایک منفرد کرکٹ شو بن گیا تاہم، 23 فروی کو انڈیا کے ہاتھوں پاکستان کرکٹ ٹیم کی شکست نے اُن کے آن لائن پروگرام کا گراف نیچے گرا دیا اور پھر اُنہیں اپنا یہ سیٹ اپ ہی بند کرنا پڑا۔عثمان زیب کی طرح کئی دیگر پاکستانیوں کا کام بھی شدید متاثر ہوا ہے جو سوشل میڈیا پر چیپیئنز ٹرافی کی کوریج کر رہے تھے جو اُن کے لیے سوشل میڈیا سے کمائی کا بھی سبب بن رہی تھی۔ایسے پروگرامز کے بند ہونے کی وجوہات میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی چیمپیئز ٹرافی میں بُری کارکردگی ہے جس کے بعد شہری اس ٹورنمنٹ میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔اس بارے میں راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے نوجوان عثمان زیب نے اُردو نیوز کو بتایا کہ ’ایک طویل مدت کے بعد پاکستان میں آئی سی سی ایونٹ اپنے ہمراہ نوجوانون اور بالخصوص کرکٹ شائقین کے لیے کئی مواقع بھی لایا تھا جس میں سوشل میڈیا پر کرکٹ کے تبصروں تجزیوں اور کرکٹ سے جڑی مختلف سرگرمیوں کے ذریعے اپنے پیجز کی پذیرائی اور پیسوں کی کمائی شامل تھی۔‘اُن کا کہنا تھا کہ ’جب تک پاکستان کرکٹ ٹیم کے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں آگے جانے کے امکانات موجود تھے تب تک سوشل میڈیا پر ہر میچ کی لائیو ٹرانسمیشن کا اچھا رسپانس ملتا تھا لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ شہریوں نے چیپیئنز ٹرافی میں دلچسپی لینا ہی چھوڑ دی ہےکیونکہ سوشل میڈیا پر 23 فروری کے بعد ہونے والے میچز کی زیادہ ویورشپ نہیں ملی۔‘عثمان زیب کا کہنا تھا کہ ’سوشل میڈیا صارفین کی عدم دلچسپی دیکھتے ہوئے ہم نے بھی یہ سلسلہ ختم کر دیا ہے۔‘