واٹس ایپ وائس نوٹس کو تحریر میں بدلنے والا نیا فیچر

سچ ٹی وی  |  Feb 27, 2025

کیا آپ جانتے ہیں کہ اب آپ واٹس ایپ پر موصول ہونے والے وائس میسیجز کو آسانی سے تحریری شکل میں تبدیل کرسکتے ہیں؟

واٹس ایپ نے نومبر 2024 میں یہ دلچسپ فیچر متعارف کرایا تھا، جو اب پاکستانی صارفین کےلیے بھی دستیاب ہے۔ اس فیچر کی مدد سے آپ وائس میسیجز کو خودکار طور پر تحریر میں بدل سکتے ہیں، جو خاص طور پر مصروف لمحات میں بہت کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ فیچر کس طرح کام کرتا ہے؟

واٹس ایپ کا یہ فیچر وائس میسیجز کو تحریری شکل میں تبدیل کرنے کےلیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتا ہے۔ فی الحال، یہ سہولت چار زبانوں میں دستیاب ہے: انگریزی، ہسپانوی، پرتگیزی، اور روسی۔ واٹس ایپ کی انتظامیہ کے مطابق مستقبل میں مزید زبانوں کو بھی شامل کیا جائے گا، لیکن اردو زبان کے لیے ابھی کوئی حتمی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔

فیچر کو کیسے فعال کریں؟

اس فیچر کو استعمال کرنے کےلیے سب سے پہلے واٹس ایپ کی سیٹنگز میں جائیں۔ وہاں ‘چیٹس‘ کے سیکشن میں ‘وائس نوٹس‘ کا آپشن تلاش کریں۔ اسے کھولنے کے بعد آپ سے پوچھا جائے گا کہ آپ کو زیادہ تر کس زبان میں وائس میسیجز موصول ہوتے ہیں۔ زبان منتخب کرنے کے بعد یہ فیچر خودکار طور پر فعال ہوجائے گا، اور آپ کو موصول ہونے والے تمام وائس میسیجز تحریری شکل میں نظر آئیں گے۔

 کیا یہ فیچر ہر زبان کےلیے دستیاب ہے؟

فی الحال، یہ فیچر صرف انگریزی، ہسپانوی، پرتگیزی، اور روسی زبانوں کےلیے دستیاب ہے۔ اردو سمیت دیگر زبانوں کےلیے اس فیچر کو متعارف کرانے پر کام جاری ہے، لیکن ابھی تک کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی ہے۔

یہ فیچر کیوں اہم ہے؟

یہ فیچر خاص طور پر ان صارفین کےلیے مفید ہے جو مصروف زندگی کے باعث وائس میسیجز سننے کا وقت نہیں نکال پاتے۔ تحریری شکل میں میسیجز کو پڑھنا نہ صرف تیز ہے بلکہ یہ پرائیویسی کے لحاظ سے بھی بہتر ہے، خاص طور پر عوامی مقامات پر۔

واٹس ایپ کا یہ نیا فیچر صارفین کےلیے رابطے کو مزید آسان اور موثر بنا رہا ہے۔ اگر آپ نے ابھی تک اسے استعمال نہیں کیا ہے، تو آج ہی سیٹنگز میں جائیں اور اسے فعال کرکے دیکھیں!

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More