Getty Images
انڈیا میں کھانوں کی مختلف اقسام اور فوڈ مارکیٹ میں موجود تنوع کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ یہاں سبزی خور افراد اپنی پسند کے مطابق بے شمار پکوان آسانی سے حاصل کر لیتے ہیں جبکہ گوشت کے شوقین بھی ایسی جگہوں تک رسائی رکھتے ہیں جہاں ان کی مرغوب تکہ بوٹی اور دیگر لذیذ ڈشز دستیاب ہوتی ہیں۔
خاندانی تقریبات یا دوستانہ محفلوں میں بھی اکثر یہ تقسیم واضح نظر آتی ہے۔۔۔ ایک طرف صرف سبزی خور افراد بیٹھتے ہیں جبکہ دوسری جانب وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہر طرح کے کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس حد تک معاملہ بالکل سادہ اور معمول کے مطابق رہتا ہے۔
تاہم صورتحال اس وقت پیچیدہ ہو جاتی ہے جب کوئی شخص سبزی پر مشتمل ڈش آرڈر کرے اور اس میں سے گوشت نکل آئے۔ ایسی غلطی نہ صرف حیران کن ہوتی ہے بلکہ تنازع کا سبب بھی بن سکتی ہے کیونکہ ہر صارف اپنی پسند اور عقیدے کے مطابق ہی کھانا منتخب کرتا ہے۔
اسی نوعیت کا ایک واقعہ انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش میں پیش آیا، جس نے صارفین کے اعتماد اور فوڈ سروس کے معیار پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے۔
ایک صارف نے ’سوِگی‘ ایپ سے منگوائی گئی ویج بریانی میں چکن کی بوٹیاں ملنے پر عدالت کا رخ کر لیا۔
پوچا راج شیکھر ریڈی، جو ایک سرکاری ملازم ہیں اور کرنول کے رہائشی ہیں، نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کنزیومر کورٹ یعنی صارفین کی شکایات کے ازالے کے لیے قائم خصوصی عدالت میں باقاعدہ شکایت درج کروائی۔
شکایت کے مطابق راج شیکھر ریڈی نے 22 مارچ 2025 کو سوِگی کے ذریعے کرنول کے ہوٹل ’نیو اپسرا‘ سے 320 روپے کی ویج بریانی آرڈر کی تھی تاہم، جب انھیں آرڈر موصول ہوا تو اس میں چکن کے ٹکڑے موجود تھے، جس پر وہ حیران اور پریشان ہو گئے۔
اپنی شکایت میں انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ نہ صرف ان کے اعتماد کی خلاف ورزی ہے بلکہ صارفین کے حقوق کی بھی سنگین پامالی ہے کیونکہ کھانے کی نوعیت (ویج یا نان ویج) بہت سے افراد کے لیے حساس معاملہ ہوتی ہے۔
مزید برآں، جب سوِگی انتظامیہ کی جانب سے اس شکایت پر کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا، تو صارف فورم نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کمپنی کے ذمہ داران کے خلاف ناقابلِ ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کر دیے۔
Getty Imagesراج شیکھر ریڈی نے ویج بریانی کے آرڈر میں چکن کے ٹکڑے ملنے کے بعد سوِگی (Swiggy) ایپ کے خلاف صارف عدالت میں باقاعدہ شکایت درج کروائیایپ نے صارف کی شکایت کو نظر انداز کر دیا
شیکھر ریڈی نے اپنی درخواست میں نہ صرف سوِگی اور متعلقہ ہوٹل سے باضابطہ معافی کا مطالبہ کیا بلکہ ذہنی اذیت پہنچنے پر پانچ لاکھ روپے ہرجانے کی ادائیگی کی استدعا بھی کی۔
صارف فورم نے اپنے فیصلے میں مشاہدہ کیا کہ شکایت کنندہ کو آرڈر تاخیر سے موصول ہوا اور فراہم کردہ کھانے کی مقدار بھی توقع سے کم تھی۔ مزید برآں، کھانا کھاتے وقت اس میں چکن کا ایک ٹکڑا پایا گیا، جو ان کی غذائی، خصوصاً مذہبی عقائد کے سراسر خلاف تھا اور اس وجہ سے انھیں شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ شکایت کنندہ نے فوری طور پر سوِگی سے رابطہ کیا اور ثبوت کے طور پر تصاویر بھی فراہم کیں تاہم کمپنی کی جانب سے کوئی بروقت جواب نہیں دیا گیا۔
آپ کی پلیٹ میں کتنا کھانا ہونا چاہیے؟تربوز کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کے چار افراد کی ہلاکت جو تفتیش کاروں کے لیے معمہ بنی ہوئی ہے: ’حیران ہیں زہر پھل میں کیسے پہنچا‘چھ مسالے جو آپ کو ہندوستانی کھانوں کا ماسٹر شیف بنا سکتے ہیںاتر پردیش کے روایتی کھانوں میں سے بریانی، قورمہ اور کباب غائب: ’یہ فہرست ایک خاص طبقے کو خوش کرنے کے لیے بنائی گئی ہے‘سنیچر اور ویج بریانی
شکایت کنندہ راج شیکھر ریڈی نے بی بی سی کو بتایا ’وہ سنیچر کا دن تھا اور رات تقریباً نو بجے ہم نے سوگی سے ویج بریانی کا آرڈر دیا لیکن بریانی میں چکن کے ٹکڑے ملے۔‘
ان کے مطابق ’میری اہلیہ سنیچر کے روز گوشت نہیں کھاتیں، اس لیے یہ ہمارے لیے زیادہ شرمندگی کا باعث بنا۔ ہم نے فوراً سوگی کو شکایت کی لیکن ابتدا میں کوئی ردعمل نہیں ملا، صرف چیٹ بوٹ کی جانب سے جوابات آتے رہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’بار بار شکایت کے بعد مجھے ایک فون کال موصول ہوئی لیکن وہ بھی تضحیک آمیز تھی۔ صرف 30 سے 40 روپے معاوضہ دینے کی پیشکش کی گئی۔ اس کے بعد میں نے سوگی کو قانونی نوٹس بھیجا لیکن اس کا بھی کوئی جواب نہیں آیا۔ آخرکار میں نے صارف عدالت سے رجوع کیا۔‘
آخری مرحلے میں سوگی ایپ نے وکیل کی خدمات حاصل کر لیں
سوگی ایپ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ماجیتی سری ہرشا سمیت دیگر عملے اور کرنول کے ہوٹل نیو اپسرا کے منیجر کو اس مقدمے میں فریق بنایا گیا۔
سوگی نے اس مقدمے میں وکیل کی خدمات حاصل کی ہیں لیکن اپسرا ہوٹل نے کیس کی باقاعدہ سماعت میں شرکت نہیں کی۔
شیکھر ریڈی نے کہا کہ ’ابتدا میں سوگی کا کوئی نمائندہ یا وکیل موجود نہیں تھا لیکن جب مقدمہ آخری مرحلے میں پہنچا تو ان کا وکیل عدالت میں پیش ہوا۔‘
31 دسمبر 2025 کا حکم کرنول ڈسٹرکٹ کنزیومر ڈسپیوٹس ریڈریسل کمیشن نے جاری کیا، جو اس معاملے کی سماعت کر رہا ہے۔
Getty Imagesشکایت کنندہ نے اپنی درخواست میں کہا کہ ہفتے کے روز آرڈر کی گئی ویج بریانی میں چکن کے ٹکڑے ملنے سے ہماری دل آزاری ہوئی
صارف عدالت نے کہا کہ ’سبزی خور کھانے کے بجائے گوشت پر مشتمل کھانا فراہم کرنا صارف کے حقوق کی خلاف ورزی ہے اور ان کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔ نیز آرڈر کے مطابق کھانا درست طریقے سے فراہم نہ کرنا معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔‘
صارف عدالت نے یہ بھی آبزرویشن بھی دیں کہ ’مزید یہ کہ شکایت کنندہ کی شکایات پر مناسب ردعمل نہ دینا اور کوئی کارروائی نہ کرنا بھی غلط ہے۔‘
صارف عدالت نے کہا کہ ’گوشت پر مشتمل کھانا فراہم کرنا نہ صرف سروس میں کوتاہی ہے بلکہ یہ لوگوں کے مذہبی عقائد، غذائی پابندیوں اور ذاتی اعتقادات کی بھی خلاف ورزی ہے۔‘
’ہم صرف مڈل مین ہیں، غلطی ہوٹل کی ہے‘
سوِگی کے وکیل نے موقف اختیار کیا ’ہم صرف درمیانی فریق ہیں، اس لیے ہوٹل کی غلطی کے ذمہ دار نہیں‘ تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سوگی ایک ٹیکنالوجی پر مبنی ڈیلیوری کمپنی ہے، فیس وصول کرتی ہے، اشتہارات دکھاتی ہے، ادائیگی کے عمل کو سنبھالتی ہے اور معیار و شکایات میں بھی اس کا کردار ہوتا ہے۔ صارف مکمل طور پر کمپنی پر انحصار کرتا ہے، اس لیے کمپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی اور سارا الزام صرف ریسٹورنٹ پر نہیں ڈال سکتی۔‘
عدالت نے مزید کہا کہ سوِگی اور ہوٹل دونوں ذمہ دار ہیں۔
عدالت کے مطابق یہ معاملہ ’غیر منصفانہ تجارتی عمل کو ظاہر کرتا ہے اور صارف کو پہنچنے والی ذہنی اذیت بہت زیادہ ہے تاہم، ان کی طرف سے مانگا گیا 5 لاکھ روپے کا معاوضہ حد سے زیادہ ہے۔ لہٰذا تمام فریق مشترکہ طور پر صارف کو 50 ہزار روپے اور عدالتی اخراجات کے طور پر پانچ ہزار روپے ادا کریں۔‘
عدالت نے کہا کہ تحریری طور پر معافی نامہ پیش کیا جائے اور اس بات کی یقین دہانی بھی کروائی جائے کہ آئندہ ایسا واقعہ پیش نہیں آئے گا۔ یہ رقم 45 دن کے اندر ادا کی جائے، بصورت دیگر تاخیر کی صورت میں سالانہ نو فیصد شرح سود کے ساتھ ادا کرنا ہوگا۔
حکم جاری مگر تاحال معاوضہ ادا نہیں کیا گیا
تاہم 3 جنوری 2026 کو اس معاملے میں حکم جاری ہونے کے باوجود شیکھر ریڈی کو اب تک معاوضہ نہیں ملا۔
اس کے بعد انھوں نے ایک بار پھر عدالت سے رجوع کیا۔ 21 مئی کو عدالت نے سوِگی کے مالکان اور ان کے نمائندوں کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ (ناقابلِ ضمانت گرفتاری وارنٹ) جاری کیے۔
شکایت کنندہ کی وکیل شیوپورم مادھوی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’فیصلہ آنے کے باوجود سوگی نے معاوضہ ادا نہیں کیا۔ اسی لیے عملدرآمد کی درخواست دائر کی گئی۔‘
شکایت کنندہ کی وکیل نے کہا کہ عدالت نے بالآخر ان کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کر دیے۔
سوگی کے ملازمین کے خلاف ناقابلِ ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کیے گئے ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ ہوٹل نیو اپسرا کے کسی نمائندے کے خلاف بھی وارنٹ جاری کیا گیا یا نہیں۔
اس معاملے پر ہم سوگی اور ہوٹل نیو اپسرا کی انتظامیہ سے مؤقف حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا ردعمل موصول ہونے کے بعد اس خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔
کھانے میں ’تھوک‘ اور ’پیشاب‘ ملانے کی غیر مصدقہ ویڈیوز سے انڈین ریاستوں میں ہنگامہ برپاامروہہ میں مسلمان طالبعلم کے ’نان ویج‘ لنچ کا تنازعہ طول کیوں پکڑتا جا رہا ہے؟تربوز کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کے چار افراد کی ہلاکت جو تفتیش کاروں کے لیے معمہ بنی ہوئی ہے: ’حیران ہیں زہر پھل میں کیسے پہنچا‘آپ کی پلیٹ میں کتنا کھانا ہونا چاہیے؟چھ مسالے جو آپ کو ہندوستانی کھانوں کا ماسٹر شیف بنا سکتے ہیںاتر پردیش کے روایتی کھانوں میں سے بریانی، قورمہ اور کباب غائب: ’یہ فہرست ایک خاص طبقے کو خوش کرنے کے لیے بنائی گئی ہے‘