یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
31 مارچ کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دیگر خواتین رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف مستونگ کے علاقے لک پاس پر دھرنا اتوار کو تیسرے روز بھی جاری رہا۔ لک پاس اور گردونواح کے علاقوں میں انتظامیہ کی جانب سے رکاوٹوں کی وجہ سے کوئٹہ، کراچی شاہراہ اور کوئٹہ، تفتان شاہراہ کے ذریعے کوئٹہ کا بلوچستان کے مغربی اور جنوبی علاقوں سے رابطہ تیسرے روز بھی منقطع رہا۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
31 مارچ کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دیگر خواتین رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف مستونگ کے علاقے لک پاس پر دھرنا اتوار کو تیسرے روز بھی جاری رہا۔
لک پاس اور گردونواح کے علاقوں میں انتظامیہ کی جانب سے رکاوٹوں کی وجہ سے کوئٹہ، کراچی شاہراہ اور کوئٹہ، تفتان شاہراہ کے ذریعے کوئٹہ کا بلوچستان کے مغربی اور جنوبی علاقوں سے رابطہ تیسرے روز بھی منقطع رہا۔
ان اہم شاہراہوں کے علاوہ گردونواح کے علاقوں میں رابطہ سڑکوں کو بھی بند کردیا گیا ہے۔
شاہراہوں کی بندش کی وجہ سے لوگوں کو اپنے علاقوں میں عید منانے کے لیے جانے میں نہ صرف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ لوگ بڑی تعداد میں اپنے اپنے علاقوں میں عید منانے کے لیے بھی نہیں جاسکے۔
لک پاس ٹنل پر بڑی تعداد میں لوگ کراچی اور دیگر علاقوں سے آنے والے اپنے رشتہ داروں کو لینے کوئٹہ کی جانب سے آرہے تھے لیکن پولیس اہلکار ان کو آگے نہیں جانے دے رہے تھے۔
لوگوں نے لک پاس ٹنل پر جانے والے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ان کے خواتین اور بچے دوسری جانب آئے ہوئے ہیں لیکن وہ انھیں لینے جا سکتے۔
رکاوٹوں کی وجہ سے جو گاڑیاں پھنسی ہیں ان کے ڈرائیور بھی پریشان تھے۔
انھوں نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ ’یہاں نہ کھانا ہے اور نہ پانی ہے۔ تین دن سے وہ یہاں ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔‘
صحافیوں نے یہ بھی دیکھا کہ پولیس اہلکار موٹر سائیکل سواروں کو بھی آنے اور جانے نہیں دے رہے تھے۔
شاہراہوں کو بند کرنے کی وجوہات سے متعلق سوال پر حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے بتایا کہ یہ اقدام لوگوں کے مفاد اور ان کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
مولانا عبدالواسع کی قیادت میں اتوار کو ایک وفد بھی دھرنے کے شرکا سے اظہار یکجہتی کے لیے لک پاس گیا تھا۔
میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے جے یو آئی کے رہنما سینیٹر کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے کہا کہ جے یوآئی نے حالات کو معمول پر لانے کے لیے حکومت کو فارمولا پیش کردیا ہے لیکن حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا۔
گذشتہ روز بلوچستان کےوزرا ظہور بلیدی، بخت محمد کاکڑ کے علاوہ سردار نوراحمد بنگلزئی پر مشتمل حکومتی وفد نے دھرنا کے شرکا سے مذاکرات کیے تھے۔
دھرنے کے شرکا کی جانب سے مذاکرات میں سردار اختر مینگل، نواب محمد خان شاہوانی اور ساجد ترین کے علاوہ دوسرے رہنما شریک ہوئے تھے۔
مذاکرت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا تھا کہ حکومتی وفد نے ان سے تعاون اور راستہ نکالنے کی بات کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ان کو کہا کہ راستہ آپ لوگ نکالیں اور ہمیں کوئٹہ جانے دیں۔ اس پر حکومتی وفد نے کہا کہ کیا آپ کوئٹہ جلسہ کرنا چاہتے ہیں؟‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے انہیں بتایا کہ اگر ہم نے جلسہ کرنا ہوتا تو ہم خضدار میں جلسہ کرتے۔‘
سردار اختر مینگل کے مطابق انھوں نے حکومتی وفد کو بتایا کہ ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ گرفتار خواتین کو رہا کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ وہ خواتین کی رہائی کا مطالبہ لے کر کوئٹہ کی طرف مارچ کریں گے اور اگر سرکار نے انھیں کوئٹہ جانے نہیں دیا تو مستونگ میں ہی دھرنا جاری رکھیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خواتین کی رہائی تک یہ دھرنا جاری رہے گا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے شہر پشاور میں ایک ہندو شہری کو مبینہ طور پر اسلام قبول کرنے کا مطالبہ نہ ماننے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔
فائرنگ کا واقعہ سنیچر کے روز پشاور کے علاقے پوسٹل کالونی میں اس وقت پیش آیا جب ندیم اپنے کام سے فارغ ہو کر واپس گھر آرہے تھے۔
56 سالپ ندیم پیشے کے اعتبار سے سرکاری ادارے میں سینیٹری ورکر تھے۔ فائرنگ کے بعد ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا لیکن بعد میں پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔
مقتول کے بھائی ساگر امین کی مدعیت میں درج کی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ان کے بھائی ندیم پر ملزم مشتاق نے جس وقت فائرنگ کی وہ اس وقت اپنی کالونی موجود تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملزم مشتاق کی فائرنگ سے ان کے بھائی زخمی ہوئے تھے لیکن بعد میں وہ زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزم دو، تین ماہ سے ندیم کو اسلام میں داخل ہونے کے لیے کہہ رہا تھا اور انکار سننے کے بعد اس نے ندیم کو سر پر گولی مار کر ہلاک کردیا۔
مقتول کے دوسرے بھائی اویناش کا کہنا ہے کہ ملزم کے رویے سے انھیں لگتا تھا کہ وہ انھیں پسند نہیں کرتا تھا۔
’ہم نے بھائی کے دوستوں سے سنا تھا کہ ایک بندہ دو، تین ماہ سے تنگ کررہا ہے کہ اسلام قبول کرلو۔ چونکہ ہمارے بھائی بڑے تھے اس لیے وہ اس طرح کی پریشانی والی باتیں ہم سے نہیں کرتے تھے۔‘
مقتول ندیم کے چار بچے ہیں، جن میں دو بیٹے اور دوبیٹیاں شامل ہیں۔
بھانہ ماڑی پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او اجمل حیات نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ملزم قتل کے بعد فرار ہوگیا تھا، واقعے کے بعد ڈی ایس پی سٹی یکہ توت سرکل کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے 24 گھنٹوں کے اندر ملزم مشتاق کو چارسدہ سے گرفتار کیا ہے۔
ایس ایچ او کے مطابق ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران ندیم امین کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
اب سے کُچھ دیر قبل میانمار میں زلزلے کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے منڈلے نامی علاقے میں منہدم ہونے والی ایک سکول کی عمارت سے ایک اُستانی کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔
منڈلے نامی علاقے میں انگریزی پڑھانے والی ایک 18 سالہ اُستانی آئنت تھادر فیو کو 7.7 شدت کے تباہ کُن زلزلے کے تیسرے دن زندہ نکالا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’میں نے یہ سوچ لیا تھا کہ میں اب زندہ نہیں بچوں گی۔‘
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب جمعہ کے روز زلزلے کا پہلا جھٹکا لگا تو اُس وقت میں اپنے ہاسٹل میں ابھی دوپہر کے کھانے سے فارغ ہی ہوئی تھی کہ میں نے سوچا کہ یہ ’چند سیکنڈز‘ میں ختم ہو جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا بس اُس وقت میں نے عمارت چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور اپنے دو روم میٹس کو گلے لگایا۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ میں ابھی کمرے سے نکلی ہی تھی کہ زلزلے کا پہلا جھٹکا ختم ہو گیا تو میں نے سوچا کے کمرے سے کُچھ ضروری سامان ساتھ لے جاؤں، میں ابھی یہ سوچ کر اپنے کمری میں واپس داخل ہی ہوئی تھی کہ زلزلے کا پہلے سے کہیں زیادہ شدت والا جھٹکا لگا اور یوں لگا کہ جیسے عمارت بکھرنے لگی ہے اور اُس کے بعد مُجھے سنبھلنے کا موقع ہی نہیں اور میں اپنے کمرے سے واپس باہر نہیں نکل سکی۔‘
،تصویر کا ذریعہReuters
اینٹ تھادر اب اپنے منہدم ہونے والے ہاسٹل کے قریب ہی واقعے ایک گھر میں موجود ہیں جہاں اُن کے بھائی اُن کے ساتھ ہیں۔
اینٹ تھادر جس مکان میں مقیم ہیں وہاں پانی اور بجلی کی شدید قلت ہے وہ بتاتی ہیں کہ اُ% کے پاس موجود کھانا بہت کم ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’جن حالات کا میں نے سامنا کیا مُجھے اس بات کا یقین نہیں تھا کہ میں زندہ بچ جاؤں گی۔‘
میانمار میں جمعے کے روز آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے کے بعد ساگانگ کے علاقے میں ایک سکول کی منہدم ہونے والی عمارت سے چار افراد کو زندہ نکلا لیا گیا ہے تاہم اسی دوران ایک لاش بھی برآمد ہوئی ہے۔
میانمار کے فائر سروسز ڈپارٹمنٹ کی تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امدادی کارکن جائے حادثہ پر زندہ بچ جانے والے مزید افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تاہم دوسری جانب میانمار کے دارلحکومت کے قریب ہی منہدم ہونے والی ایک اور عمارت کے ملبے سے ایک خاتون کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔
میانمار میں 7.7 شدت کے زلزلے کے بعد ہونے والی تباہی کے مناظر خبر رساں اداروں کی جانب سے تو سامنے آتے رہے ہیں مگر اب میانمار کے دارالحکومت نی پی تو کی تازہ تصاویر مُلاًک کی فوجی قیادت کی جانب سے جاری کی گئی ہیں۔
پہلی تصویر میں شہر کے ایک ہسپتال کو پہنچنے والے نقصان کو دکھایا گیا ہے جبکہ تیسری تصویر میں شہر کی ایک گنجان آباد گلی کو دکھایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ میانمار میں 28 مارچ کو آنے والے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 1700 ہو گئی ہے۔
زلزلے کے بعد 3400 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 300 کے قریب لوگ تاحال لاپتہ ہیں۔ تاہم ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
،تصویر کا ذریعہMyanmar's military information committee
،تصویر کا ذریعہMyanmar's military information committee
،تصویر کا ذریعہMyanmar's military information committee
پاکستان میں عیدالفطر کا چاند نظر آگیا ہے، کل مُلک بھر میں عیدالفطر منائی جائے گی۔
پاکستان میں شوال کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس مولانا عبدالخبیر آزاد کے زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں مذہبی امور اور محکمہ موسمیات کے حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد مولانا عبدالخبیر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک کے بیشتر مقامات پر مطلع صاف رہا، کئی جگہوں سے چاند نظر آنے کی شہادتیں موصول ہوئیں جن کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلے کیا گیا کہ ملک بھر میں عیدالفطر کل بروز پیر 31 مارچ کو منائی جائے گی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تھائی لینڈ کے نائب وزیراعظم انوتین چرنیراکول نے بینکاک میں زیرتعمیر عمارت کے منہدم ہونے کے مقام پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’امدادی ٹیمیں ملبے کے نیچے زندہ لوگوں کی جان بچانے کے لیے جدید سکینرز کا استعمال کر رہی ہیں، تاہم ملبے کے نیچے ںے ملنے والے سگنلز کمزور ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’ملبے تلے پھنسے لوگ اب شاید اپنے جسم کو حرکت دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’زندہ بچ جانے والوں کی تلاش مشکل ہے کیونکہ ملبے کا ڈھیر اس قدر وسیع ہے کہ اسے ہٹانے میں بہت وقت لگ رہا ہے، لیکن اس سب صورتحال کے باوجود انجینئرز اور امدادی کارکُنان صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘
زلزلے کے بعد سے بنکاک میں بلڈنگ سیفٹی قوانین کے بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں۔ چارنیراکول کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں ہزاروں عمارتیں ہیں اور زلزلے کے بعد ان میں سے زیادہ تر ’ٹھیک‘ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم حالیہ زلزلے کی وجہ سے منہدم ہونے والی زیرِ تعمیر عمارت کو مثال کے طور پر استعمال نہیں کر سکتے اور یہ نہیں سوچ سکتے کہ ہمارے پاس کوئی معیار نہیں ہے۔‘
تاہم جب پریس کانفرنس کے دوران تھائی لینڈ کے نائب وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’اس زیرِ تعمیر عمارت کے منہدم ہونے کی کوئی تو وجہ تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں نے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے جو اس عمارت کے گرنے کی وجوہات جاننے کے لیے کام کرے گی اور اس افسوسناک واقعے کی رپورٹ پیش کریں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’تحقیقات میں ڈیزائنر، پروجیکٹ کنٹرولر اور بلڈر کا جائزہ لیا جائے گا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم یقینی طور پر اصل وجوہات کا پتہ لگائیں گے کہ یہ عمارت کیوں منہدم ہوئی ہے۔‘
دوسری جانب بنکاک میٹروپولیٹن انتظامیہ نے تھائی لینڈ میں زلزلے کے بعد ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں کہا ہے کہ زلزلے میں 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں، ان میں 11 افراد بینکاک میں زیرِ تعمیر عمارت کے گرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔
بینکاک میں انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 33 افراد زخمی ہوئے ہیں تاہم 78 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے پاس اطلاعات ہیں کہ میانمار کی فوج نے جمعے کے روز آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے کے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں ہی حکومت مخالف گروہوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔
یاد رہے کہ میانمار میں فوج نے سنہ 2021 کی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد سے ملک خانہ جنگی کا شکار ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر میں میانمار کی ٹیم کی قیادت کرنے والے جیمز روڈہیور کا کہنا ہے کہ فوج طویل عرصے سے ملک میں انسانی امداد کی رسائی میں رکاوٹیں پیدا کرتی رہی ہے۔
اُن کا مزید کہنا ہے کہ ’مقامی سطح پر موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جمعے کو آنے والے زلزلے کے فوراً بعد ہی فوج نے فضائی حملے شروع کر دیے تھے۔
جیمز روڈہیور کا کہنا ہے کہ ’میانمار کی فوج زلزلے سے متاثرہ علاقوں سمیت اپنے ہی لوگوں پر فضائی حملے کر رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ ملبے تلے دبے لوگوں کی مدد کو آنے والوں کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔‘
،تصویر کا ذریعہReuters
میانمار میں امدادی ٹیمیں اب بھی 7.7 شدت کے آنے والے زلزلے کی وجہ سے منہدم ہو جانے والی عمارتوں کے نیچے دبے لوگوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ منہدم ہو جانے والی عمارتوں میں ہوٹل، سکول، مساجد، اور گھر شامل ہیں۔
ملک کے فائر سروسز ڈپارٹمنٹ کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، جمعے کے روز آنے والے زلزلے کے مرکز کے قریب منڈلے اور ساگانگ سمیت متعدد علاقوں سے درجنوں افراد کو ملبے سے زندہ نکل لیا گیا ہے جبکہ متعدد لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔
ساگانگ سٹی میں 36 افراد کو بچایا گیا ہے اور 88 لاشیں مبلے سے نکالی گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ شہر کے جنوب میں واقع پیاو بوے ٹاؤن شپ میں عمارتیں گرنے سے منڈلے میں 161 افراد ہلاک ہو ئے۔ یو ہالا تھین مندر کے ملبے سے 13 راہبوں کو نکالا گیا ہے جہاں اب تک 58 افراد کو بچایا جا چکا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ تقریباً 200 راہب اندر پھنسے ہوئے ہیں۔
میانمار کے دارالحکومت نی پی تو میں 30 گھنٹے سے زائد وقت تک ایک عمارت کے مبلے تلے پھنسی رہنے والی ایک معمر خاتون کو نکالا گیا ہے۔
اس مقام سے سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انھیں سٹریچر پر ایک ایمبولینس کے قریب لایا جاتا ہے جہاں ایمرجنسی ورکرز اُن کا ابتدائی معائنہ کرنے کے بعد انھیں ہسپتال مُنتقل کر دیتے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
میانمار کی فوج کے سربراہ نے ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم کو فون پر بتایا ہے کہ 28 مارچ کو آنے والے زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 1700 ہو گئی ہے۔
ان کے مطابق زلزلے میں 3400 سے زائد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 300 کے قریب لوگ تاحال لاپتہ ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز مقامی وقت کے مطابق دوپہر تین بج کر 38 منٹ پر میانمار میں 5.5 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا ہے۔
یو ایس جی ایس کے مطابق زلزلے کا مرکز منڈلے شہر سے 27 کلومیٹر شمال مغرب میں ماتارا قصبہ تھا۔
ماتارا کے نزدیک واقع ماراپوار کے ایک رہائشی نے بی بی سی برما کو بتایا کہ یہ 28 مارچ کے بعد آنے والا سب سے شدید زلزلہ تھا۔ گذشتہ رات بھی 4.2 شدت کا ایک زلزلہ محسوس کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ جمعے کے روز آنے والے زلزلے سے سب سے زیادہ منڈلے شہر اور اس کے آس پاس کا علاقہ متاثر ہوا ہے جہاں سینکڑوں افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
میانمار میں 7.7 شدت کا زلزلہ آئے دو روز بیت چکے ہیں اور اب تک 1600 سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ میانمار میں سب سے زیادہ تباہی ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر منڈلے میں دیکھنے میں آئی ہے۔
سنیچر کے روز جاری ہونے والی میانمار کی نئی سیٹلائٹ تصاویر میں جمعے کو آنے والے زلزلے سے ہونے والی تباہی کے آثار صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔
زلزلے کے نتیجے میں صدیوں پرانے کئی بدھ مت کے مندر یا تو مکمل طور پر تباہ ہونے چکے ہیں یا انھیں شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ کئی رابطہ پل اور ہزاروں گھر بھی زمین بوس ہو چکے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جمعے کے روز میانمار میں آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں اب تک 1,600 سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ایک طرف امداری کارکن زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں، دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ طبی سامان کی شدید قلت جنگ زدہ میانمار میں امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ کا سبب بن رہی ہے۔
زلزلے کے نتیجے میں رابطہ سڑکوں اور مواصلاتی نظام جیسے اہم انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ فوجی حکومت اور باغی گروپوں کے درمیان جاری خانہ جنگی کی وجہ سے امدادی تنظیموں کو کام کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔
میانمار کے لیے اقوام متحدہ کے کوآرڈینیٹر مارکولیگی کورسی کا کہنا ہے کہ زلزلے سے تقریباً دو کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
یو این نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ میانمار کا کافی بڑا حصہ اس زلزلے سے متاثر ہوا ہے اور اندازے کے مطابق اس علاقے میں تقریباً دو کروڑ لوگ آباد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ میانمار کے فوجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز آنے والے طاقتور زلزلے میں ملک بھر میں مجموعی طور پر 1644 افراد ہلاک جبکہ 3408 سے زائد زخمی ہیں۔ سب سے زیادہ 694 ہلاکتیں منڈلے شہر میں ہوئی ہیں جہاں بجلی اور مواصلاتی لائنیں منقطع ہو چکی ہیں اور کئی افراد لاپتہ ہیں۔
’ورلڈ فوڈ پروگرام کو امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے‘
میانمار میں ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے کنٹری ڈائریکٹر مائیکل ڈنفورڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تنظیم آج سہ پہر ملک کے دارالحکومت نی پی داو میں زلزلے کے بعد پہلی بار خوراک تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
مائیکل ڈنفورڈ کا کہنا ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں بہت بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور انھیں امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انھوں نے ملک میں جاری تنازعات کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ، ’ہمیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری رسائی کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی کارروائیوں کو فوری طور پر پھیلا سکیں۔‘
ڈنفورڈ کا مزید کہنا ہے کہ ملبے سے زندہ بچ جانے والوں کو خوراک، پانی، صحت، صفائی اور پناہ گاہ فراہم کرنا ہوں گے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ میں بر سرِ اقتدار فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے غزہ میں جنگ بندی کی نئی تجویز پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
حماس کے سربراہ خلیل الحیا نے اعلان کیا ہے کہ حماس غزہ میں جنگ بندی کی اس تجویز پر راضی ہے جو اسے دو روز قبل ثالثوں کی جانب سے موصول ہوئی تھی۔
سنیچر کے روز جاری ہونے والے پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو خطاب میں الحیا نے مجوزہ جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حماس کسی صورت اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
الحیا نے غزہ کا انتظام سنبھالنے کے لیے ایک کمیونٹی سپورٹ کمیٹی تشکیل دینے کی مصری تجویز کے بارے میں بات کی۔ اس تجویز کے تحت آزاد شخصیات پر مبنی ایک کمیٹی غزہ کے تمام امور کے لیے ذمہ دار ہوگی۔
حماس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس بارے میں بات چیت کافی آگے پہنچ چکی ہے اور اب کمیٹی میں شامل کرنے کے لیے آزاد ماہرین کے ناموں کی فہرست پیش کی جائے گی۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے جنوبی غزہ کی پٹی میں دفاعی سکیورٹی زون کے علاقے کو توسیع دینے کے لیے رفح کے علاقے الجنینا میں ’زمینی آپریشن‘ شروع کیا ہے۔
اسرائیلی یر غمالی کی نئی ویڈیو جاری
حماس نے سات اکتوبر 2023 کے حملے میں اغوا کیے جانے والے ایک اسرائیلی قیدی کی نئی ویڈیو جاری کی ہے جس میں قیدی کو عبرانی زبان میں اسرائیلی حکومت سے اپنی رہائی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ تین منٹ سے زیادہ طویل ویڈیو کب ریکارڈ کی گئی ہے۔
یرغمالیوں کے خاندانوں کے فورم نے اس شخص کی شناخٹ ایلکانا بوہبوٹ کے نام سے کی ہے جسے جنوبی اسرائیل سے اغوا کیا گیا تھا۔
یہ ویڈیو ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خبر رساں ادارے اے ایف پی نے حماس کے قریبی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ دوحہ میں حماس اور مصر اور قطر کے ثالثوں کے درمیان جمعرات کی شام بات چیت کا آغاز ہوا ہے جس کا مقصد جنگ بندی معاہدے کی بحالی اور غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان میں چار اضلاع کی حدود میں چار اہم قومی شاہراہوں پر سفر پر جزوی پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔
اس سلسلے میں جاری ہونے والے نوٹیفکیشنز کے مطابق یہ پابندی ہر قسم کی پبلک اینڈ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ پر تاحکم ثانی عائد رہے گی۔
ڈپٹی کمشنر گوادر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق ضلع میں ساحلی شاہراہ پر شام پانچ بجے سے صبح پانچ بجے تک گاڑیوں کی سفر پر پابندی ہوگی۔
ضلع موسیٰ خیل کی حدود میں کوئٹہ اور پنجاب کے درمیان شاہراہ پر شام چھ بجے سے صبح چھ بجے تک سفر پر پابندی لگادی گئی ہے۔
ضلع ژوب کی حدود میں کوئٹہ، ڈیرہ اسماعیل خان شاہراہ پر شام چھ بجے سے صبح چھ بجے تک سفر نہیں کیا جاسکے گا۔
ضلع کچھی میں کوئٹہ اور سندھ کے درمیان شاہراہ پر شام پانچ بجے سے صبح پانچ بجے تک سفر پر پابندی ہوگی۔
ان نوٹیفیکیشنز کے مطابق شام پانچ یا چھ بجے کے بعد آنے والی گاڑیوں کو مختلف مقامات پر صبح تک روک دیا جائے گا۔
نوٹیفیکشنز میں پابندی کی وجوہات نہیں بتائی گئی ہیں، تاہم یہ اقدام بعض شاہراہوں پر سنگین بدامنی کےواقعات کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی وزارت داخلہ کے مطابق افغانستان واپسی کے لیے 31 مارچ کی ڈیڈ لائن کے اختتام کے بعد غیرقانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو حراست میں لینے اور ملک بدر کرنے کے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔
اس سال کی ابتدا میں پاکستانی حکومت نے افغان سٹیزن کارڈ (اے سی سی) رکھنے والوں کو مارچ کے آخر تک پاکستان چھوڑنے یا ملک بدری کا سامنا کرنے کی وارننگ دی تھی۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی جانب سے اس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواستوں کے باوجود حکومت نے اپنے فیصلے پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
31 مارچ کی ڈیڈلائن کے اختتام کے بعد اے سی سی کے حامل افراد کی افغانستان واپسی کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے جمعے کو اسلام آباد میں ایک اجلاس منعقد ہوا تھا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس میں بتایا گیا کہ اے سی سی ہولڈرز کو افغانستان واپس بھیجنے کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا تھا کہ ملک بدری سے قبل افغان شہریوں کو حراست میں لینے کے لیے ہولڈنگ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، جہاں خوراک اور صحت کی سہولتوں کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت وطن واپسی کے عمل کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور افغان شہریوں کی وطن واپسی کے عمل میں صوبوں کو مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری افغان شہریوں کی افغانستان واپسی کے عمل کے دوران کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے لیے صوبوں کا دورہ کریں گے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے حکام کو ہدایت کی کہ لوگوں کی افغانستان واپسی کے عمل کے دوران غیر ملکی شہریوں کے ساتھ وہ احترام سے پیش آئیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پناہ گزینوں کی افغانستان واپسی کے حوالے سے گھر گھر جا کر آگاہی مہم جاری ہے اور اے سی سی ہولڈرز کی میپنگ بھی مکمل کر لی گئی ہے۔
اے سی سی نادرا کی جانب سے رجسٹرڈ افغان شہریوں کو جاری کردہ شناختی دستاویز ہے۔
اقوام متحدہ کی انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کے مطابق اے سی سی پاکستان میں قیام کے دوران افغان شہریوں کو عارضی قانونی حیثیت دیتا ہے، تاہم وفاقی حکومت اس مدت کے بارے میں فیصلہ کرتی ہے کہ اے سی سی کس مدت کب تک برقرار رہے گی۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق ڈیڈ لائن کے اختتام کے بعد ملک بھر میں اے سی سی ہولڈرز کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی افغان شہریوں کو اپنی جائیدادیں کرائے پر دینے والے پاکستانی شہریوں کو بھی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
غیر قانونی افغان شہریوں کا سراغ لگانے کے لیے سرچ آپریشن کیے جائیں گے اور ان کا بائیومیٹرک ریکارڈ سرکاری ریکارڈ میں رکھا جائے گا تاکہ مستقبل میں ان کے ملک میں داخلے کو روکا جا سکے۔
افغان شہریوں کی جانب سے جعلی طور پر حاصل کی گئی شناختی اور سفری دستاویزات منسوخ کردی گئی ہیں۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی سفارش پر ایک کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔
اجلاس میں دہشت گردی پر افغان طالبان سے مذاکرات کے لیے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی سفارش پر غور کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
علی امین گنڈاپور نے وفاقی حکومت سے درخواست کی تھی کہ انہیں باضابطہ طور پر افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری سونپی جائے۔
انہوں نے وزارت داخلہ اور خارجہ امور کو مجوزہ امن منصوبہ بھی پیش کیا تھا۔
اے سی سی ہولڈرز کی وطن واپسی غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے پروگرام کے دوسرے مرحلے کا حصہ تھی، جس کا آغاز نومبر 2023 میں ہوا تھا۔
اس اقدام کا اعلان 29 جنوری کو ایک سرکاری نوٹی فیکیشن میں کیا گیا تھا۔
وفاقی حکومت نے یو این ایچ سی آر کے جاری کردہ پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ رکھنے والے افغان شہریوں کو 31 مارچ تک اسلام آباد اور راولپنڈی سے باہر منتقل کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی جانب سے ملک بدری کے منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس ڈیڈ لائن نے لاکھوں افغان شہریوں کو تیزی سے غیر یقینی اور کمزور حالت میں چھوڑ دیا ہے۔
اس ہفتے کے اوائل میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام کی جانب سے افغان مہاجرین کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہزاروں افراد کو ’ہراساں کیا جا رہا ہے، غیر قانونی طور پر حراست میں لیا جا رہا ہے اور ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔‘
انسانی حقوق کے ادارے نے 31 مارچ کی ڈیڈ لائن کو ’ظالمانہ‘ قرار دیا تھا۔ تاہم دفتر خارجہ نے افغان شہریوں کے ساتھ بدسلوکی کے دعوؤں کو ’غلط‘ قرار دیا ہے۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں قبائل کے درمیان آٹھ ماہ کے لیے امن معاہدہ پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ جس کے بعد آمد و رفت کے لیے بند پڑی اہم قومی شاہراہوں کو کھولنے سمیت قیام امن کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔
جرگہ ممبر حاجی کمال اور حاجی اصغرو کے مطابق لور کرم میں قلعہ عباس علمدار کے مقام پرفریقین کے عمائدین کا جرگہ ہوا جس میں ڈپٹی کمشنر سمیت فورسز اور ضلع انتظامیہ کے حکام نے شرکت کی۔
جرگہ ممبران کا کہنا ہے کہ ’امن معاہدہ آٹھ ماہ کے لیے کیا گیا ہے تاہم جو بھی فریق معاہدے کی خلاف ورزی کرے گا اس کے خلاف معاہدہ کوہاٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔‘
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ضلع کرم اشفاق احمد کا کہنا تھا کہ ’امن معاہدہ خوش ائند اقدام ہے قبائل کے عمائدین قیام امن میں بھی حکومت کے ساتھ تعاون کریں تاکہ جلد دیرپا امن قائم ہو سکے۔
واضح رہے کہ ’ضلع کرم میں فائرنگ کے واقعات اور جھڑپوں کے باعث گزشتہ تقریباً چھ ماہ سے مرکزی قومی شاہراہ بند ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو اشیائے خرد و نوش روز مرہ استعمال کی اشیا اور ادویات کی قلت کا سامنا رہا ہے جسے شہریوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔
سماجی رہنما میر افضل خان کا کہنا ہے کہ ’امن معاہدے کے بعد علاقے میں جلد قیام امن کی فضا قائم کرنے میں مدد ملے گی اور ضلع کرم کے عوام بھی آزادی کے ساتھ عید منا سکیں گے۔‘
قبائلی راہنما حاجی سلیم خان اور حاجی ضامن حسین کا کہنا تھا کہ ’قیام امن کے حوالے حکومت کے ہر اقدام کا خیر مقدم کیا جائے گا۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
میانمار کے علاقے منڈلے میں منہدم ہونے والے ایک کثیر منزلہ عمارت کے ملبے سے نو افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
زلزلے کے مرکز کے قریب واقع یہ عمارت گزشتہ روز میانمار میں زلزلے کے جھٹکوں کی وجہ سے منہدم ہوگئی تھی۔
اپنے بیان میں فائر سروس ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ ’سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن اب بھی جاری ہے۔‘
دوسری جانب انڈیا سے انسانی امداد کی پہلی کھیپ آج صبح میانمار پہنچی۔ انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کا کہنا ہے کہ ’میانمار پہنچنے والی امداد میں کمبل، ترپال، حفظان صحت کی کٹس، سلیپنگ بیگز، سولر لیمپ، کھانے کے پیکٹ اور دیگر اشیا شامل ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’طبی عملے کے ساتھ ایک سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کو بھی میانمار بھیجا گیا ہے۔
یہ امداد میانمار کے سب سے بڑے شہر ینگون کے قریب ایک ہوائی اڈے پر پہنچی۔ انڈیا کی ایک امدادی ٹیم بھی دارالحکومت نی پی تو پہنچ گئی ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ زلزلے کے بعد وہاں ہوائی اڈے پر اترنے والا یہ پہلا طیارہ ہے۔
،تصویر کا ذریعہIndian Foreign Ministry
واضح رہے کہ میانمار کے فوجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز آنے والے طاقتور زلزلے میں ملک بھر میں مجموعی طور پر 1644 افراد ہلاک جبکہ 3408 سے زائد زخمی ہیں۔ سب سے زیادہ 694 ہلاکتیں منڈلے شہر میں ہوئی ہیں جہاں بجلی اور مواصلاتی لائنیں منقطع ہو چکی ہیں اور کئی افراد لاپتہ ہیں۔