یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
دو اپریل کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
منگل کو سندھ کے محکمہ داخلہ نے لوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ کے خلاف جاری کیا گیا ایم پی آرڈر واپس لے لیا جس کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
دو اپریل کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کارروائیوں کے دوبارہ آغاز کے بعد غزہ میں گذشتہ دو ہفتوں میں کم از کم 322 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔
یونیسیف کے مطابق اس دوران 609 بچے زخمی بھی ہوئے۔
یونیسیف کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کیتھیرین ریسل کا کہنا تھا کہ 'غزہ میں جنگ بندی کے بعد غزہ کے بچوں کو زندگی جینے کا اور اسے دوبارہ بحال کرنے کا موقع ملا تھا جس کی انھیں اشد ضرورت تھی۔'
'لیکن اب ایک بار پھر بچوں کو جان لیوا تشدد اور محرومی کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔'
اسرائیل نے 18 مارچ کو غزہ میں ایک بار پھر کارروائیاں شروع کی تھیں اور الزام عائد کیا تھا کہ حماس نے جنگ بندی کو بڑھانے اور غزہ میں موجود 59 یرغمالیوں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
دوسری جانب حماس نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل نے رواں برس جنوری میں طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔
یونیسیف کا کہنا ہے کہ غزہ میں 'بلا اشتعال بمباری' دوبارہ شروع ہو چکی ہے اور 31 مارچ سے قبل آخری 10 دنوں میں سینکڑوں بچے زخمی اور ہلاک ہوئے ہیں۔
یونیسیف کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اکثریت بے گھر ہونے والے بچوں کی ہے جو خیموں یا تباہ شدہ مکانات میں رہ رہے تھے۔
خیال رہے یونیسیف غزہ میں حماس کی زیرِ انتظام وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار استعمال کرتا ہے جبکہ اسرائیل ان اعداد و شمار کو تواتر سے غیرمستند قرار دیتا آیا ہے۔
تاہم اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے ان اعداد و شمار کو قابل انحصار سمجھتے ہیں۔
خیال رہے اسرائیل نے بی بی سی سمیت تمام بین الاقوامی صحافی اداروں کے غزہ میں آزادانہ داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اسی سبب اسرائیل یا حماس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کی آزادنہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکتی۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ 'اپنی آپریشنل سرگرمیوں میں عام شہریوں کے نقصان کو کم سے کم کرنے کے لیے پُر عزم ہیں' اور 'تمام بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں' کو پورا کر رہے ہیں۔
یونیسیف کے مطابق غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد گذشتہ 18 مہینوں میں اطلاعات کے مطابق مجموعی طور 15 ہزار بچے ہلاک اور 34 ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہEPA
کراچی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔
سمی دین بلوچ کے وکیل جبران ناصر نے بی بی سی اردو کو اپنی موکلہ کی جیل سے رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 'وہ اپنے خاندان کے ساتھ ہیں۔'
خیال رہے سمی دین بلوچ کو نقص امن کے خدشے کے باعث 25 مارچ کو احاطۂ عدالت سے گرفتار اور ایم پی او آرڈر کے تحت 30 روز کے لیے جیل منتقل کیا گیا تھا۔
تاہم منگل کو سندھ کے محکمہ داخلہ نے سمی دین بلوچ کے خلاف جاری کیا گیا ایم پی آرڈر واپس لے لیا جس کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما کو رہا کر دیا گیا۔
انڈیا کی ریاست راجستھان میں تیزاب کی ایک فیکٹری میں نائٹروجن گیس لیک ہونے سے تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اس حادثے کے بعد گیس سے متاثرہ 60 مزید افراد کو ہسپتال بھی منتقل کیا گیا ہے۔
راجستھان کے ضلع بیارو کے کلیکٹر مہیندر خدگاوت کے مطابق 'یہ فیکٹری غیرقانونی طریقے سے کام کر رہی تھی اور نائٹروجن گیس بھی وہیں لیک ہوئی۔'
ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور انتظامیہ کے افسران وہاں بروقت پہنچ گئے تھے اور انھوں نے حالات پر قابو پالیا۔
'اس واقعے میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں فیکٹری کا مالک بھی شامل ہے۔'
انڈیا کی ریاست گجرات کے علاقے دیسا میں ایک پٹاخہ فیکٹری میں آگ لگنے کے سبب 21 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
فیکٹری کے باہر اس وقت بھی متعدد ایمبولینسز، فائر فائٹرز اور سرکاری افسران ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ فیکٹری میں دھماکہ صبح 10 بجے کے قریب ہوا تھا جس کے باعث اس کی چھت گر گئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق فیکٹری میں کام کرنے والے ملازمین کے خاندان بھی اسی عمارت میں مقیم تھے اور متعدد افراد ابھی بھی مبلے تلے دبے ہوئے ہیں۔
اس سے قبل ضلع کے کلیکٹر مہیر پٹیل کا کہنا تھا کہ فیکٹری پوری کی پوری گر گئی ہے اور وہ ملبہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تک 19 لاشوں کی شناخت کی جا چکی ہے۔
مہیر پٹیل کا مزید کہنا تھا کہ 'ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکے کے وقت فیکٹری میں پٹاخے بنائے جا رہے۔
تقریباً 15 کے قریب بچوں کے سکول بیگز زلزلے سے متاثرہ میانمار کے ایک پرِی سکول کی عمارت کے ملبے پر پڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ گلابی، نیلے اور نارنجی بیگز میں چند ایسے ہیں جن سے کتابیں باہر نکلی ہوئی ہیں۔
ٹوٹی ہوئی کرسیوں اور ٹیبلز کے گرد انگریزی حروف اور کھلونے بکھرے پڑے ہیں۔
یہ سکول منڈلے سے 40 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے اور یہ بھی ملک میں سات اعشاریہ سات کی شدت سے آنے والے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔
خیال رہے کہ زلزلے کے نتیجے میں کم ازکم 2000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
کوی ین کی عمر 71 برس ہے، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ہمارا خاندان میری پانچ سالہ پوتی ہٹر سان کی آخری رسومات کی تیاری کر رہا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اس کی ماں کھانا کھا رہی تھی جب زلزلہ آیا، وہ فوراً دوڑ کر بچی کے سکول گئی لیکن سکول کی عمارت تباہ ہو چکی تھی۔
وہ کہتے ہیں میری ننھی پوتی کی میت زلزلے کے تین گھنٹوں کے بعد مل گئی اور خوش قسمتی سے اس کا جسم صحیح سلامت تھا۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مرنے والے بچوں کی تعداد 70 کے قریب ہے اور ان کی عمریں دو سے سات برس کے درمیان تھیں۔
سکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایک استاد اور 12 بچوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد سبھی لوگ اردگرد سے مدد کے لیے آئے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں کی مائیں ملبے کے پاس کھڑی ہو کر اپنے بچوں کو پکار رہی ہیں۔
،تصویر کا ذریعہAFP
لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ بیروت کے جنوب میں نواحی علاقے میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اس حملے کے بعد اسرائیل اور لبنانی عسکری گروپ حزب اللہ کے درمیان ہونے والا جنگ بندی معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
گذشتہ برس نومبر میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد یہ اس علاقے میں ہونے والا دوسرا حملہ ہے۔ اس علاقے میں حزب اللہ کی کافی موجودگی ہے۔
اسرائِلی فوج کا کہنا ہے کہ حملے کا نشانہ حزب اللہ کا کارکن تھا جس نے حماس کو اسرائیلی شہریوں پر حملہ کرنے میں معاونت فراہم کی تھی۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک خطرناک وارننگ قرار دیا ہے جبکہ لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام نے حملے کو جنگ بندی معاہدے کی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان میں بر سرِ اقتدار طالبان حکومت کے وزیر برائے پناہ گزین مولوی عبدالکبیر نے ہمسایہ ممالک پر زور دیا ہے کہ افغان شہریوں کی جبری واپسی روکیں اور انھیں رضاکارانہ طور پر ملک واپس جانے کی اجازت دی جائے۔
انھوں نے ہمسایہ ممالک کی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ پناہ گزینوں سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سلوک کیا جائے۔
خیال رہے کہ پاکستان اور ایران، جہاں افغان پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے، کی حکومتوں نے افغان شہریوں کو ان کے ملک واپس بھیجنے کا عمل شروع کیا ہے۔
گذشتہ ماہ پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک میں بسنے والے 20 لاکھ سے زائد افعان باشندوں کو مرحلہ وار ان کے ملک واپس بھیجنے سے متعلق پالیسی پر عملدرآمد کے حوالے سے اسلام آباد انتظامیہ سمیت چاروں صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کی تھی۔
حکومت نے ملک میں موجود ایسے تمام افغان شہریوں کو جن کے پاس افغان سیٹیزن کارڈ ہیں اپنے ملک واپس جانے کے لیے 31 مارچ 2025 تک کی مہلت دی تھی۔ حکومت کا کہنا تھا کہ ڈیڈ لائن گزر جانے کے بعد ایسے تمام شہریوں غیر قانونی تصور کیے جائیں گے اور انھیں گرفتار کر کے ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔
سنیچر کے روز اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر کی پاکستان میں سربراہ فلیپا کینڈلر کا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی حکومت کی جانب سے افغان شہریوں کو واپس بھیجنے کے اعلان کے بعد ملک میں موجود افغان شہریوں میں تشویش ہائی جاتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے ان کی ملاقات ایک ایسی افغان فیملی سے ہوئی جو 2022 میں افغانستان سے فرار ہو کر پاکستان آئی تھی۔ ’یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ وہ واپس جانے کا سوچ کر کتنے خوفزدہ تھے۔‘
انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان ایک طویل عرصے سے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے جس سے اس کے اپنے وسائل پر بھی دباؤ پڑ رہا ہے۔ کینڈلر کا کہنا تھا کہ پاکستان سے ہمیشہ کے لیے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
’پاکستان اور افغانستان کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ افغان پناہ گزین رضاکارانہ طور پر اور محفوظ طریقے سے اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جبری بے دخلی کسی کے حق میں نہیں اور نہ یہ کام کرتی ہے۔ ان کے مطابق 2023 میں پاکستان سے جبری طور پر واپس بھیجے گئے بیشتر افغان پناہ گزین لوٹ آئے ہیں۔
کینڈلر کا مزید کہنا تھا کہ ورلڈ بینک کی پناہ گزینوں کی میزبانی سے متعلق پروگرام آئی ڈی اے 18 تحت پہلے ہی خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کو مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ افغان پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد ان دونوں صوبوں میں مقیم ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کی کی میزبانی کے لیے درکار وسائل کے حصول کے لیے ایسے دیگر پروگراموں کی مدد لی جا سکتی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
میانمار کی فوجی حکومت کے مطابق 28 مارچ کو آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ تقریباً چار ہزار زخمی ہیں۔
حکومت نے ایک ہفتے کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ بین الاقومی برادری سے امداد کی بھی اپیل کی ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار تھزار لِن میانمار کے دوسرے سب سے بڑے شہر منڈلے میں موجود ہیں جو کہ زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات جب وہ منڈلے شہر میں داخل ہوئیں تو پورا علاقہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ ’یہاں نہ بجلی ہے، نہ پانی ہے اور نہ ہی ہمیں کوئی باتھ روم ملا۔‘
تھزار لِن نے بتایا کہ شہر میں کھانے پینے کی کچھ ہی دکانیں کھلی تھیں جہاں لوگوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔
ان کے مطابق پوری رات انٹرنیٹ دستیاب نہیں تھا اور فون لائن بھی بمشکل کام کر رہی تھیں جس کے باعث ینگون میں بی بی سی کی ٹیم سے رابطہ کرنا کافی مشکل ہو گیا تھا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ پورا شہر تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے۔
’لاشوں کو اجتماعی طور پر جلایا جا رہا ہے‘
زلزلے میں بچ جانے والی ایک سٹوڈنٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ منڈلے شہر میں لاشوں کو اجتماعی طور جلایا جا رہا ہے۔
مہاؤنگمے ضلع کی 23 سالہ رہائشی نے بتایا کہ ان کی انکی آنٹی بھی جمعے کو آنے والے زلزلے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔ لیکن ان کی لاش دو روز بعد ملبے سے نکالی جا سکی۔
ان کا کہنا ہے کہ بچ جانے والوں کے لہیے حالات کافی مشکل ہیں جبکہ ریلیف آپریشن میں کافی وقت لگ رہا ہے۔
’امدادی ٹیمیں چار دن سے مسلسل کام کر رہی ہیں اور امیرے خیال میں وہ تھوڑا تھک چکے ہیں۔ انھیں بھی کچھ آرام کی ضرورت ہے۔‘
’لیکن تباہی اتنے بڑے پیمانے پر ہوئی ہے اور ہمارے پاس وسائل اتنے کم ہیں کہ امدادی ٹیموں کے لیے اس سب کو مینیج کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔‘
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں گزشتہ 16 برسوں سے ہر سال عید کے موقع پر جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج ہوتا تھا تاہم اس بار کی عید قدرے مختلف رہی۔
اس سال عید پر احتجاج کا دائرہ کار محدود نہیں تھا۔ جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے دیگر رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان کے متعدد شہروں میں مظاہرے کیے گئے۔
بی وائی سی کی مرکزی قیادت میں سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ، سمّی بلوچ ، صبغت اللہ شاہ جی اور بیبرگ بلوچ سمیت کئی رہنما اور کارکن گذشتہ کئی روز سے حراست میں ہیں۔
عید کے روز ان افراد کی گرفتاری کے خلاف نہ صرف بی وائی سی کی جانب سے احتجاج کی کال دی گئی بلکہ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے زیر اہتمام لک پاس کے مقام پر دھرنا جاری رہا۔
بی وائی سی کی کال پر صوبے کے بلوچ آبادی والے متعدد چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاج کیا گیا۔
دوسری جانب بی وائی سی کی خواتین رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف ضلع کوئٹہ سے متصل مستونگ کے علاقے لک پاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام دھرنا بھی جاری رہا۔
یہ پہلا موقع تھا کہ عید کے موقع پر ایک دھرنا بھی چل رہا ہے جس کے شرکا نے نماز عید بھی دھرنے کے مقام پر ادا کی۔
دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ یہ لوگ کسی ووٹ، فنڈ یا کسی سکیم کے لیے یہاں جمع نہیں ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بات تاریخ کا حصہ رہے گی کہ ان لوگوں نے اپنی ماؤں اور بہنوں کی عزت کی خاطر عید اس میدان میں گزاری۔
اختر مینگل کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا واحد مطالبہ ہے کہ حکومت ان خواتین کو رہا کرے اور اگر اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا گیا تو آئندہ دو تین روز تک ہم اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
شاہراہوں کی بندش سے عید پر لوگوں کو مشکلات کا سامنا
خضدار سے لانگ مارچ کے روانہ ہونے کے بعد حکومت اور انتظامیہ نے کوئٹہ کے قریب لک پاس کے مقام پر کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ تفتان کو جوڑنے والی شاہراہ کو بند کرنے کے علاوہ دو متبادل راستوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔
ان رکاوٹوں کی وجہ سے جہاں لوگوں کو آمدورفت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے وہاں کئی افراد کو عید کے موقع پر اپنے آبائی علاقوں تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ ان شاہراہوں پر مسافر بسوں کی بندش سے بڑی تعداد میں لوگ عید منانے کے لیے اپنے آبائی علاقے نہیں جاسکے۔
اس کے علاوہ بڑی تعداد میں کنٹینرز اور دیگر مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیوروں اور عملے کو عید میدانوں اور ہوٹلوں پر گزارنی پڑے۔
لک پاس ٹنل کے اندر جن کنٹینروں کو کھڑا کیا گیا ہے ان کے ڈرائیوروں نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں کھانے پینے کے حصول میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ ان شاہراہوں کو لانگ مارچ کی وجہ سے بند کیا گیا ہے اور حکومت نے یہ اقدام لوگوں کی حفاظت کے لیے لیا ہے۔
لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج
دوسری جانب بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ان کے رشتے داروں نے عید کے روز بھی احتجاج کیا۔
لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا گیا جس میں خواتین نے بھی شرکت کی۔
مظاہرے میں شریک حوران بلوچ نے بتایا کہ ان کا خاندان بھی جبری گمشدگیوں سے متاثر ہے۔
حوران بلوچ نے دعویٰ کیا کہ پچھلے سال ان کے خاندان کے دو افراد کو اٹھایا گیا تھا۔ ’ایک سال دو ماہ گزرنے کے باوجودہ وہ بازیاب نہیں ہوئے تھے کہ اب رواں سال 8 مارچ کو میرے ماموں کے بیٹے داؤد سمالانی کو ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔‘
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے بتایا کہ خوشی منانے کی بجائے گزشتہ 16سال سے ہر عید پر لاپتہ افراد کے رشتہ دار احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کو رہا کیا جائے اور اگر ان کے خلاف کوئی الزام ہے تو ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے ۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد جس میں انھوں نے یوکرین میں جنگ بندی اور امن قائم کرنے کی کوششوں میں ناکامی کے بعد روسی صدر ولادیمیر پوتن پر شدید غصے کا اظہار کیا تھا، کریملن نے دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو کم کر کے دکھانے کی کوشش کی ہے۔
روس کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی امریکہ کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے، ’ہم اب بھی امریکہ کے ساتھ کام کر رہے ہیں، سب سے پہلے تعلقات بہتر بنانے کے لیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ فی الحال صدر پوتن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین ٹیلیفونک رابطے کا کوئی منصوبہ نہیں تاہم اگر ضرورت پڑی تو پوتن کال کر سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کو پوتن پر غصہ اس لیے ہے کیوں کہ انھوں نے یوکرین کے صدر زیلینسکی کی ’ساکھ پر حملہ کیا‘ اور ساتھ ہی ساتھ دھمکی دی کہ وہ روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیں گے اگر جنگ بندی معاہدے پر اتفاق نہ ہوا۔
ٹرمپ نے انٹرویو میں کہا کہ ’اگر روس اور میں یوکرین میں خون ریزی روکنے کے لیے معاہدہ نہیں کر پاتے، اور اگر میرے خیال میں یہ روس کی غلطی ہوئی، جو ہو سکتا ہے کہ نہ ہو، تو میں ٹیرف لگا دوں گا، روسی تیل پر۔‘
ٹرمپ کا یہ بیان واضح طور پر ایک بڑی تبدیلی ہے، خصوصی طور پر اس لہجے میں جو اب تک ٹرمپ نے روس اور پوتن کے بارے میں رکھا ہوا تھا۔
امریکی اور روسی حکام گذشتہ کئی ہفتوں سے یوکرین میں جنگ میں خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس دوران صدر ٹرمپ نے کئی مرتبہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا تاہم یہ پہلی مرتبہ تھا کہ روسی صدر ان کی تنقید کی زد میں آئے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدر ٹرمپ بدھ کو درآمدی ٹیکس میں اضافہ عائد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں ایسے میں امریکی سٹاک مارکیٹ میں ایک بار پھر مندی کا رحجان دکھائی دے رہا ہے۔
آج امریکی سٹاک مارکیٹ کے آغاز پر بڑے ٹیک حصص میں مندی کا رحجان رہا جس میں ٹیسلا بھی شامل ہے۔
صدر ٹرمپ کے قریبی مشیر ایلون مسک کے زیر انتظام چلنے والی اس کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں مارکیٹ کے آغاز کے بعد سات فیصد کمی ہوئی تھی۔
اس کے علاوہ ایپل، مائیکروسافٹ، این ویڈیا، الفابیٹ اور میٹا کے حصص میں 3.7 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے مطابق نئے محصولات تمام ممالک کو متاثر کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان محصولات کے نفاذ سے امریکہ میں مینوفیکچرنگ کو فروغ ملے گا، اس کے ساتھ ساتھ امریکی صارفین کو زیادہ سے زیادہ امریکی ساختہ سامان خریدنے کی ترغیب ملے گی۔
دوسری جانب عالمی سٹاک مارکیٹس میں بھی مندی دیکھی گئی کیونکہ جاپان کا نکی انڈیکس 4 فیصد سے زائد کمی کے ساتھ بند ہوا جبکہ لندن میں ایف ٹی ایس ای 100 میں ابتدائی ٹریڈنگ میں تقریباً ایک فیصد کمی ہوئی۔
ادھر ڈاؤننگ سٹریٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو امریکی محصولات سے متاثر ہونے کی ’توقع‘ ہے اور وہ اس کے جواب میں جوابی محصولات سے انکار نہیں کر رہا ہے۔
یہ اقدامات واشنگٹن کی جانب سے ایلومینیم، سٹیل اور گاڑیوں پر پہلے سے عائد محصولات کے علاوہ چین سے آنے والی تمام اشیا پر محصولات میں اضافے کے علاوہ ہوں گے۔
،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock
چینی خبررساں ادارے زن ہوا کے مطابق میانمار کے علاقے مینڈلے میں زلزلے سے متاثرہ عمارت کے ملبے تلے سے چار افراد کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔
بازیاب ہونے والے افراد میں ایک بچہ اور ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہیں۔ میانمار کے ہمسایہ ممالک بشمول چین، انڈیا اور تھائی لینڈ امدادی سرگرمیوں میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 2000 سے تجاوز کر گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2056 ہو گئی ہے جبکہ 3900 سے زیادہ زخمی ہیں جبکہ 270 ابھی بھی لاپتہ ہیں۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی مارگریٹ ہیرس نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ میانمار کے ہسپتال، جن میں سے بہت سے زلزلے سے تباہ ہوئے ہیں، ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے سے بھرے ہوئے ہیں۔ میانمار میں ایک ہفتے کے قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
تاہم دوسری جانب باغیوں کا دعویٰ ہے کہ میانمار کی فوج نے زلزلے سے متاثرہ علاقے میں زمینی آپریشن کیا ہے۔
ادھر اقوام متحدہ نے فوج کو خبردار کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی شدید مخالفت کر رہی ہے۔
اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے اس نے غیر ملکی صحافیوں کو ملک میں کام کرنے سے روک دیا ہے اور مقامی آزاد میڈیا ہاؤسز پر پابندی عائد کر دی ہے۔
،تصویر کا ذریعہEPA
فرانس کی عدالت نے اپنی انتہائی دائیں بازو کی جماعت آر این کی مالی اعانت کے لیے یورپی یونین کے فنڈز میں خرد برد کا الزام ثابت ہونے پر میرین لی پین پر عوامی عہدے کے لیے کھڑے ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
اس پابندی کے بعد وہ ملک کے 2027 میں صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لے پائیں گی۔
فیصلہ مکمل ہونے سے پہلے ہی میرین لی کمرہ عدالت سے نکل گئیں۔
فرانس کی میرین لی پین کو اپنی انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی (آر این) کی مالی اعانت کے لیے یورپی فنڈز کے غلط استعمال کا قصوروار ٹھرایا گیا ہے۔ انھیں فوری طور پر کام سے روک دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ لی پین پر پارٹی کی 20 سے زائد دیگر سینئر شخصیات کے ساتھ مل کر ایسے معاونین کی خدمات حاصل کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا جو یورپی پارلیمنٹ کے بجائے ان کی آر این پارٹی کے معاملات پر کام کرتے تھے۔
استغاثہ نے گذشتہ سال کہا تھا کہ لی پین کو نہ صرف تین لاکھ یورو جرمانہ اور قید کی سزا ہونی چاہیے بلکہ پانچ سال تک عوامی عہدے کے لیے انتخاب لڑنے سے بھی روکنا چاہیے۔
فیصلے کے بعد سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق انہیں چار سال قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے جن میں سے دو کو معطل کر دیا جائے گا۔ دیگر دو سال کو حراست میں رکھنے کے بجائے الیکٹرانک ٹیگ کے ساتھ گزارا جاسکتا ہے۔ لی پین پر ایک لاکھ یورو جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
امکان ہے کہ وہ جیل کی سزا کے خلاف اپیل کریں گی، لہذا اس سزا کا اطلاق ابھی نہیں ہوگا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی ریاست وسکونسن میں منگل کے روز ہونے والے سپریم کورٹ کے انتخابات سے محض دو روز قبل ارب پتی بزنس مین اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی سمجھے جانے والے ایلون مسک نے ووٹرز میں دس لاکھ ڈالرز کے چیکس تقسیم کیے ہیں۔
ایلون مسک نے اس انعام کا اعلان گذشتہ ہفتے کیا تھا۔
وسکونسن کے اٹارنی جنرل اور ڈیموکریٹ رکن جوش کول نے انعام کی تقسیم روکنے کے لیے مسک پر مقدمہ دائر کر دیا تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ریاست کے قانون کے تحت ووٹوں کے بدلے انعام دینے پر ممانعت ہے۔
مسک کے وکلا کا کہنا تھا کہ کول کا یہ اعلان سیاسی اظہارِ رائے اور فرسٹ امینڈمنٹ میں دیے گئے حقوق سے متصادم ہے۔
دو مقامی عدالتوں کی جانب سے مسک کے حق میں فیصلہ دیے جانے کے بعد کول نے ریاست کی سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل کی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر کیس سننے سے انکار کر دیا تھا۔
منگل کو ہونے والے سپریم کورٹ کے الیکشن پہلے ہی امریکی سپریم کورٹ کی تاریخ کے سب سے مہنگے انتخابات بن چکے ہیں۔ خیال رہے کہ اس الیکشن میں شکست کی صورتمیں ریپبلیکنز کو سپریم کورٹ میں حاصل برتری ختم ہو سکتی ہے۔
اتوار کے روزایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مسک کا کہنا تھا کہ ججز کو بس ججز کی طرح رہنا چاہیے۔ اس کے بعد انھوں نے دس لاکھ ڈالرز کے دو چیک ان ووٹرز میں میں تقسیم جنھوں نے ججز کو ’ایکٹیوسٹ‘ بننے سے روکنے کی پٹیشن پر دستخط کیے تھے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
بینکاک کے گورنر چاڈچارٹ سیٹی پونٹ اس مقام پر موجود ہیں جہاں امدادی کارکن اب بھی منہدم ہونے والی زیرِ تعمیر عمارت کے ملبے میں زندگی کے آثار تلاش کر رہے ہیں۔
گورنر سیٹی پونٹ کا کہنا ہے کہ جمعے کو زلزلے کے بعد منہدم ہونے والی عمارت کے ملبے میں دبے لوگوں کے اب بھی زندہ بچنے کی امید ہے۔ ان کا اصرار تھا کہ یہ اب بھی ایک ریسکیو آپریشن ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ 76 مزدور اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ تاہم چار روز سے جاری آپریشن کے دوران اب تک ملبے سے کسی بھی شخص کو زندہ نہں نکالا جا سکا ہے۔
تھائی لینڈ کی وزارت صنعت نے منہدم ہونے والی عمارت کا جائزہ لیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ عمارت کے ڈھانچے کی تعمیر کے لیے استعمال ہونے والے سٹیل میں کچھ بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، اور مزید تحقیقات کے لیے نمونے جمع کیے گئے ہیں۔
جمعے کو آنے والے زلزلے میں شہر کی بیشتر عمارتوں کو صرف ہلکا پھلکا نقصان پہنچا تھا۔
ملبے تلے دبے افراد کے رشتے دار جائے وقوعہ پر کے نزدیک جمع ہیں اور اب بھی کسی اچھی خبر کی امید کر رہے ہیں۔ تاہم ہر گزرتے لمحے کے ساتھ عمارت میں پھنسے لوگوں کے زندہ بچ نکلنے کے امکانات کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تھائی لینڈ کے برعکس جہاں انتظامیہ جمعے کو آنے والے زلزلے کے نتیجے میں منہدم ہونے والی زیرِ عمارت کے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے جاری امدادی کارروائیوں کی تازہ ترین صورتحال سے مسلسل آگاہ کر رہی ہے، میانمار سے زلزلے کے بعد کی صورتحال سے متعلق خبریں آنے میں کافی وقت لگ رہا ہے۔
2021 میں فوج کی جانب سے بغاوت کے بعد اقتدار سنبھالنے کے بعد سے میانمار سے معلومات کا حصول کافی مشکل رہا ہے۔
تاہم اس کے باوجود زلزلے سے ہونے والی تباہی وضح ہے۔ فوجی حکومت کے مطابق، زلزلے میں اب تک 1700 سے افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ تقریباً 3400 افراد زخمی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اب بھی سینکڑوں لوگ لاپتہ ہِن اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہReuters
بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی جانب سے عید الفطر کے پہلے روز ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بی وائی سی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمات کے اندراج کے خلاف بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کا لک پاس کے مقام پر دھرنا چوتھے روز بھی جاری ہے۔
بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل، پارٹی کے مرکزی قائدین اور دھرنے کے شرکا نے سوموار کے روز عید کی نماز دھرنے کے مقام پر ادا کی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کے لیے بی این پی کا دھرنا جمعے کے روز سے جاری ہے۔
بی وائی سی رہنماؤں کی رہائی کے لیے بی این پی کے زیر اہتمام خضدار کے علاقے وڈھ سے لانگ مارچ شروع کیا گیا تھا۔ مارچ کے شرکا اپنے مطالبات کے حق میں کوئٹہ میں دھرنا دینا چاہتے تھے لیکن حکومت کی جانب سے کوئٹہ کراچی ہائی وے کو لک پاس کے مقام پر بند کرنے کی وجہ سے لانگ مارچ کے شرکا کوئٹہ نہیں پہنچ سکے جس کے بعد انھوں نے لک پاس سرنگ کی دوسری جانب ضلع مستونگ کی حدود میں دھرنا دے دیا۔
دھرنے کے مقام پر کوئٹہ اور مستونگ سے تعلق رکھنے والے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بی این پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حکومتی وفد مارچ کے شرکا سے مذاکرات کے لیے آیا تھا جسے انھوں نے اپنے مطالبات سے آگاہ کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتی وفد کو بتا دیا گیا ہے کہ اگر خواتین کو رہا کر دیا جائے اور حکومت ان کے مطالبات تسلیم کرلے تو مارچ یہیں سے لوٹ جائے گا اور وہ کوئٹہ کی جانب نہیں جائیں گے۔
’ہم نے انھیں یہ بھی پیشکش کی ہے کہ جن چھ سات خواتین کو گرفتار کیا گیا ہے ان کی رہائی کے بدلے مجھ سمیت 700 افراد کو گرفتار کر لیا جائے۔‘
اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے حکومتی وفد بے بس ہے جس کی وجہ سے ابھی تک ان کا کوئی جواب نہیں آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ شاہراہوں پر رکاوٹیں ہماری طرف سے نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے لگائی گئی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومت رکاوٹیں ہٹا دے تو ہم یہاں سے کوئٹہ شہر جائیں گے۔
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کوئٹہ میں سکیورٹی خدشات کے باعث لوگوں کے مختلف سیاحتی مقامات جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ ہرنائی اور زیارت کی انتظامیہ کی جانب سے سیاحوں سے کہا گیا ہے وہ تفریحی مقامات پر آنے سے گریز کریں۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی جانب سے جاری ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق صوبے میں حالیہ امن و امان کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے دفعہ 144 نافذ ہے جس کے باعث ہنہ اوڑک، کرخسہ اور شعبان کے علاقوں میں ہرطرح کی سیر و تفریح پر تاحکم ثانی پابندی ہے۔
دوسری جانب، زیارت اور ہرنائی کے ڈپٹی کمشنروں کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکشنز میں عید کے موقع پر آنے والے سیاحوں سے کہا گیا ہے کہ ’آپ کا تحفظ ہماری اوّلین ذمہ داری ہے اس لیے آپ لوگ سیاحتی مقامات پر آنے اور وہاں کیمپنگ سے گریز کریں‘۔
اس کے علاوہ انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو آبادی سے دور مقامات پر نہ جانے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ اگر حماس ہتھیار ڈال دے تو اس کے رہنماؤں کو غزہ سے نکلنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
نتن یاہو نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان کی حکومت یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات نہیں کر رہی تاہم ان کا کہنا ہے کہ حماس پر ڈالا جانے والا فوجی دباؤ کام کر رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ فوجی کارروائیوں کے درمیان مذاکرات کر رہے ہیں اور اس فوجی دباؤ کا نتیجہ نکل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حماس ہتھیار ڈال دے تو اس کے رہنماؤں کو غزہ سے جانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
نتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی حکمت عملی کام کر رہی ہے اور اس کے نتیجے میں حماس کمزور ہوئی ہے اور اس پر یرغمالیوں کی رہائی کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
اس سے قبل حماس نے غزہ میں ثالثوں کی جانب سے موصول ہونے والی جنگ بندی کی نئی تجویز پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔
سنیچر کے روز حماس کے سربراہ خلیل الحیا نے اعلان کیا تھا کہ حماس غزہ میں جنگ بندی کی اس تجویز پر راضی ہے جو اسے دو روز قبل موصول ہوئی تھی۔
الحیا نے مجوزہ جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات تو نہیں بتائیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ حماس کسی صورت اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
تقریباً دو ماہ تک جاری رہنے والی جنگ بندی کے بعد، اسرائیل نے تقریباً دو ہفتے قبل (18 مارچ کو) غزہ پر ایک بار پھر بمباری شروع کی اور بعد ازاں زمینی کارروائی کا بھی آغاز کر دیا گیا۔
اتوار کے روز غزہ سول ڈیفنس آرگنائزیشن کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے عید الفطر کے موقع پر خان یونس میں فلسطینی پناہ گزینوں کے گھروں اور خیموں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں پانچ بچوں سمیت کم از کم آٹھ افراد ہلاک بحق ہوگئے ہیں۔
غزہ کے طبی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنوبی غزہ میں رفح شہر پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں دو بچے ہلاک ہوئے ہیں۔