سمندروں کا تیزی سے بڑھتا درجہ حرارت: خطرناک نتائج

ڈی ڈبلیو اردو  |  Jan 14, 2020

 

تازہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سمندر اب نہ صرف پہلے سے کہیں زیادہ گرم ہیں بلکہ ان کے درجہ حرارات میں اضافہ بھی بہت تیزی سے ہورہا ہے جو عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافے کا ایک اور اہم ثبوت ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کی تفصیلات چین کے معروف جریدے 'ایڈوانس ان ایٹموسفیئرک سائنس' میں شائع کی گئی ہیں جس میں کہا گيا ہے کہ گزشتہ عشرے میں سمندروں کا درجہ حرارات اب تک کے ریکارڈ کے مطابق سب سے زیادہ رہا ہے۔

اس رپورٹ میں اس پہلو کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ کس طرح انسانی محرکات سے پیدا ہونے والی حدت سے زمین کے پانی پر اثرات مرتب ہورہے ہیں اور سطح سمندر میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس کے مطابق اضافی درجہ حرارت کے سمندری پانیوں میں جذب ہونے سے موسمیاتی تبدیلیاں مزید بھیانک رخ اختیار کر سکتی ہیں۔

اس ریسرچ ٹیم کے ایک اہم رکن، امریکا میں سینٹ پال مینوسوٹا یونیورسٹی میں تھرمل سائنس کے پروفیسر، جان ابراہم کا کہنا ہے کہ ان کے لیے یہ نتائج حیران کن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا، "سن 1980 کے اواخر سے درجہ حرارت بڑھنے کی رفتار میں تقریبا پانچ سو فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ایمانداری سے کہوں تو اس طرح کے نتائج کی امید ہی نہیں تھی۔ گرمی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، اس میں کوئی روکاوٹ نہیں ہے۔ اگر ہم اس کے لیے جلد ہی کچھ اہم اقدامات نہیں کرتے تو پھر یہ ہمارے لیے بری خبر ہے۔" 

رپورٹ کے مطابق سن 1955 سے 1986 کے دور کے مقابلے میں سن 1987 سے 2019 کے درمیان سمندری پانیوں کےدرجہ حرارت کے بڑھنے کی رفتار میں تقریبا بیالیس گنا کا اضافہ درج کیا گيا ہے۔

بیجنگ میں 'انسٹیٹیوٹ آف ایٹموسفیئرک فزکس'  کے ایسو سی ایٹ پروفیسر لجینگ چینگ اس تحقیقاتی ٹیم کی قیادت کر رہے تھے۔ انہوں نے گزشتہ پچیس برسوں کے دوران سمندروں کے پانی میں بڑھنے والے اس درجہ حرارت کا موازنہ ہیرو شیما کے جوہری بم دھماکے سے کیا۔ ماہرین کے مطابق سمندروں میں بڑھتا یہ درجہ حرارت نہ صرف سمندر بلکہ زمین کے لیے بھی مختلف نتائج کا حامل ہوسکتا ہے جو انسانی زندگی  کے کئی پہلوؤں پر اثر انداز ہوگا۔

ز ص/ ک م/ ایجنسیز

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More