کورونا وائرس: لوگوں کے گھروں میں رہنے سے ’زمین کم ہل رہی ہے‘

بی بی سی اردو  |  Apr 10, 2020

Getty
کورونا وائرس کے خوف سے دنیا بھر کے شہروں کی گلیاں اور بازار لوگوں سے خالی ہیں

دنیا بھر میں اربوں افراد کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے گھروں تک محدود ہیں یا ان کی نقل و حرکت محدود ہے جس کی وجہ سے ہمارے سیارے زمین کے حرکت کرنے کے انداز پر بھی فرق پڑ رہا ہے۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے کام یا تفریحی کی غرض سے ٹرینوں اور گاڑیوں کا سفر بہت کم رہ گیا ہے اور بہت سے بھاری کارخانے بھی بند ہیں۔

اتنے بڑے پیمانے پر انسانی سرگرمیوں میں کمی سے زمین کی سطح پر پیدا ہونے والا ارتعش بھی کم ہو گیا ہے۔ ہماری زمین کے کل وزن چھ سو ارب کھرب ٹن کے پش نظر یہ واقعی حیران کن بات ہے۔

ڈرامائی کمی

بیلجیئم میں رائل آبزرویٹری کے سائنسدانوں نے اس بات کو سب سے پہلے محسوس کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’زمین کی تھرتہراہٹ کی فریکوئنسی 1-20 ہرٹز کے درمیان ہے اور ایسا سماجی پابندیاں لگنے کے بعد سے ہوا ہے۔ یاد رہے کے ایک سے 20 ہرٹز کی فریکوئنسی سے نکلنے والی آواز ایک بڑے گٹار یا موسیقی کے بڑے آلے سے زیادہ گہری ہوتی ہے۔

اس طرح کی تبدیلی دنیا میں دوسری جگہوں پر بھی مشاہدے میں آئی ہے۔

نیپال میں زلزلوں کے ماہرین سیسمولوجسٹ نے بھی اس ارتعاش میں کمی کو محسوس کیا ہے۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں قائم پیرس انسٹی ٹیوٹ آف ارتھ فزکس کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ پیرس میں یہ کمی بڑی ڈرامائی ہے۔ امریکہ میں کال ٹیک یونیورسٹی لاس اینجلس میں ماہرین نے اس کو شدید قرار دیا۔

نیپال میں اس زمینی ارتعاش میں ڈرامائی کمی کو اس گراف میں دیکھا جا سکتا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More