پاکستانی ایوارڈز کو کچھ نہیں سمجھتی: عفت عمر

اردو نیوز  |  Jun 30, 2020

سپر ماڈل و اداکارہ عفت عمر کہتی ہیں کہ وہ پاکستان میں منعقد ہونے والے ایوارڈز کو کچھ نہیں سمجھتیں اور ایک بھی ایسا ایواردڈ ایسا نہیں ہے کہ جس کو حاصل کرنے کے لیے آرٹسٹ محنت کریں۔

اردو نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عفت عمر نے کہا کہ ایوارڈ تقریبات میں سینیئر اداکاروں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک پر بہت غصہ آتا ہے، جونئیرز کو اگلی سیٹیوں پر جبکہ ثمینہ احمد اور قوی خان جیسے لیجنڈزکو پچھلی سیٹوں پر بٹھایا جاتا ہے۔

 عفت عمر کا کہنا تھا کہ ایوارڈز دیے جانے پر اٹھنے والے اعتراضات کو میں بالکل جینوئن سمجھتی ہوں۔ اب ایک صابن بنانے والی کمپنی کی ہی مثال لے لیں وہ اسی کو ایوارڈ دیتی ہے جس نے ان کا اگلا اشتہار کرنا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیںرسک نہیں لیا تو کچھ نہیں کیا: اداکار زاہد احمدNode ID: 486811’اور کتنی جانیں لو گے، کب سمجھو گے؟ بند کرو یہ تماشا‘Node ID: 488101عرب فلمساز خواتین کی فلمیں ’کانز 2020‘ کے لیے نامزدNode ID: 488111انہوں نے کہا کہ ’دوسری بات یہ کہ چینل کے مالکان اپنی ہی بنائی ہوئی چیز کوایوارڈ دے دیتے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ کون سے ایوارڈز ہیں جن میں اپنی ہی چیزوں کو ایوارڈ دیتے جاﺅ، مجھے ’ہم ٹی وی‘ کی طرف بیسٹ ایکٹرس کا ایوارڈ ملا جسے میں کچھ نہیں سمجھتی۔‘

’میں نے اپنے پروگرام ’پاس کر یا برداشت‘ کر میں پیریڈز پر بات کی مجھے پتہ تھا کہ اس پہ بات کروں گی تو بہت ساری تنقید سننے کو ملے گی جو کہ ملی بھی، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پیریڈز کو عورت کی عزت کے ساتھ کیوں منسوب کر دیا گیا ہے۔ اس موضوع پہ بات کرنے کو گناہ سمجھا جاتا ہے اس موضوع پہ بات کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی عورت کی عزت پر بات کی جا رہی ہو۔‘

عفت عمر نے کہا کہ جب تک ہم بات نہیں کریں گے تب تک گاﺅں میں بیٹھی بچیوں کو کیسے سمجھ آئے گی کہ کس طرح سے اپنا خیال رکھنا ہے۔ یہ ایسے موضوعات ہیں جن پر سوچ سمجھ کر بات کرنی پڑتی ہے بلکہ یوں کہیے کہ ہمارے ملک میں بہت ساری باتیں سوچ سمجھ  کر کرنی پڑتی ہیں کیونکہ بعض اوقات اتنا بڑا ایشو بنا دیا جاتا ہے کہ جان خطر ے میں آجاتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی فنکار کو کسی بھی پروڈکشن ہاﺅس سے صرف اس لیے بین کر دینا کہ اس نے کسی دوسرے آرٹسٹ کے خلاف بات کی ہے مناسب نہیں ہے، لیکن دوسری طرف یہ بھی سمجھتی ہوں کہ کسی بھی سینیئر کو نہیں چاہیے کہ وہ جونئیر کے بارے میں ایسی باتیں کریں جن سے تضحیک کا پہلو نکلتا ہو۔

فردوس جمال نے ماہرہ خان کے بارے میں جس طرح سے بات کی وہ انداز درست نہیں تھا انہوں نے عمران اشرف کے لیے بھی اسی طرح سے بات کی، کسی کے بھی کام پر بات ہونی چاہیے ذات پر نہیں۔

عفت عمر نے کہا کہ ’میرا قد چھوٹا ہے لیکن اس کے باوجود لوگوں نے مجھے سپر ماڈل بنا دیا۔‘ فوٹو: عفت عمر انسٹاگرام’مجھ پر کبھی بھی ایسی تنقید نہیں ہوئی، اگر ہوئی بھی ہو تو مجھے خود کی اوقات کا پتہ ہے۔ قسمت کی بات ہے کہ میرا قد چھوٹا ہے لیکن اس کے باوجود لوگوں نے مجھے سپر ماڈل بنا دیا۔ میں نے23 سال کی عمر میں ماڈلنگ چھوڑ دی تھی ایک تو مجھے یہ تھا کہ نئی لڑکیوں کے لئے جگہ خالی کرنی چاہیے دوسرا یہ میری منگنی بھی ہو گئی تھی۔‘ان کا کہنا تھا کہ آج سے 25 سال پہلے کسی بھی ماڈل کے لیے شادی کرنا بہت ہی مشکل مرحلہ ہوتا تھا کیونکہ شوبز کی لڑکیوں کے ساتھ شادی کرنے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ جب میں نے دیکھا کہ عمر (شوہر) اپنی فیملی سے لڑ کر انہیں منا کر شادی کر رہے ہیں تو پھر مجھے کمپرومائز کرنا چاہیے ویسے بھی میں کیریئر اورینٹڈ لڑکی تو تھی نہیں، ہاں شادی کرکے گھر بسانے کا شوق بہت زیادہ تھا اسی لیے توماڈلنگ کیریئر عروج پر تھا جب میں نے ماڈلنگ چھوڑی۔

عفت عمر نے کہا کہ مجھے کبھی افسوس نہیں ہوا کہ میں نے اپنے شوہر کے لیے اپنا ماڈلنگ کیریئر چھوڑ دیا میں بہت خوش اور مطمئن ہوں۔ عمر کے گھر والے مجھے پہلے پسند نہیں کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ برف پگھلی اور میں نے بہت زیادہ کمپرومائز کیا۔ تین سال تک تو گھر سے باہر نکلتی تو خود کو ڈھانپ کر نکلتی تاکہ لوگ پہچانے ہی نہ، آج میں اپنے سسرال کی فیورٹ بہو ہوں۔

 شادی کے بعد عمر(شوہر) کے ساتھ لڑائی جھگڑوں کی خبریں بھی عام رہیں، اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’ایسی خبریں ایک سکینڈل کا نتیجہ تھیں جو کہ ایک اخبار والوں نے بنایا تھا۔‘عفت نے مزید بتایا کہ ’ہم لبرٹی مارکیٹ کے اپارٹمنٹس میں رہا کرتے تھے وہاں روحی بانو، فیصل رحمان جیسے اداکار بھی رہتے تھے۔ میں دیکھا کرتی تھی کہ روحی بانو کو روزانہ ان کی گاڑی لینے آتی۔ وہ ٹی وی سٹیشن جاتیں اسی طرح فیصل رحمان کو بھی میں آتے جاتے دیکھتی تھی۔‘

’ مجھے لگا کہ مجھے فلم نہیں کرنی چاہیے سو نہیں کی۔‘ (فوٹو: مووی پلیٹر)روحی بانو کے توسط سے ٹی وی سٹیشن جانے کا اتفاق ہوا کرتا تھا اس طرح مجھے بھی شوق پڑ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب مجھے ماڈلنگ کی آفر آئی تو میں نے قبول کر لی۔

’سید نور نے مجھے اپنی فلم ’قسم‘ کے لیے آفر کی۔ خوشی تو بہت ہوئی اور پہلے ہاں بھی کر دی، لیکن بعد میں کشمکش میں رہی کہ فلم کروں یا نہ کروں کیونکہ اس دور میں فلم انڈسٹری میں زیادہ تر لڑکیاں ریڈ لائٹ ایریا سے آتی تھیں مجھے لگا کہ میں نے اگر فلم کر لی تو شاید میری شادی نہیں ہو سکے گی۔‘

 اس لیے میں نے سید نور کی فلم کی آفر کو رد کر دیا میری والدہ میری بڑی سپورٹر تھیں۔ انہوں نے کبھی میرے فیصلوں پر اپنی رائے مسلط نہیں کی لیکن مجھے لگا کہ مجھے فلم نہیں کرنی چاہیے سو نہیں کی۔

عفت نے کہا کہ اب فلمی صنعت کی بحالی ہو رہی ہے اب اگر مجھے کوئی رول آفر ہوا تو ضرور کروں گی۔ اب عمر بھی ایسی ہے کہ ماں بہن کے کردار ہی ملیں گے جس پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں روٹری کلب کی ممبر تھی۔ وہاں ’روزنامہ جنگ‘ کی ایک رپورٹر خالدہ یوسف آئیں۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور پوچھا کہ کیا تم ہمارے جنگ اخبار کے لیے ماڈلنگ کرو گی تو میں چونکہ دلچسپی بھی رکھتی تھی تو میں نے ہاں کر دی۔

میری والدہ بیرون ملک تھیں، یوں اکیلے ہی جا کر شوٹ کروا آئی۔ بس وہیں سے مزید آفرز آنا شروع ہو گئیں۔ میں اس وقت پڑھ رہی تھی ساتھ میں ماڈلنگ کے پیسے بھی ملنا شروع ہو گئے تو بہت ہی اچھا لگتا تھا۔

’ہمارے زمانے میں ماڈلز سٹارز تھیں۔ آمنہ حق اور ونیزہ احمد اس کی بڑی مثالیں ہیں۔‘ (فوٹو: پرو پاکستانی)ان کا کہنا تھا کہ ’میں اسٹیبلش ماڈل تھی جب اطہر اورشہزاد اس شعبے میں آئے وہ میرے کام  کے بڑے مداح تھے اور میرے ساتھ کام کرنے کی بہت خواہش بھی رکھتے تھے۔ میں نے ان کے ساتھ کام شروع کیا تو بس دیکھ لیں آج کے دن تک کام چل رہا ہے۔

’میں وہ ماڈل تھی جس کا نام گھر گھر جانا جاتا تھا یوں کہیے کہ میں عوامی ماڈل تھی مجھ سے پہلے کی بہت ساری ماڈلز ایلیٹ کلاس کے میگزین میں آتی تھیں۔‘

جہاں تک آج کل کی ماڈلز کی بات ہے تو مجھے آج شکلوں کے بغیر پتلے پتلے جسم والی لڑکیاں نظر آتی ہیں۔ ہمارے زمانے میں ماڈلز سٹارز تھیں۔ آمنہ حق اور ونیزہ احمد اس کی بڑی مثالیں ہیں۔

 آج تین چار ماڈلز کے بعد کسی کا نام ہی یاد نہیں آتا۔ پاکستان فیشن انڈسٹری بہت کم وقت میں چینج ہوئی ہے۔ انٹرنیشنل معیار کے قریب پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سوشل میڈیا کی وجہ سے اب تو کہاں کیا ٹرینڈ چل رہا ہے پتہ لگ جاتا ہے، ماڈلز کے لیے کام آسان ہو گیا ہے۔ اب انہیں پیسے بھی زیادہ مل رہے ہیں، ایمان سلیمان، آمنہ بابر میری فیورٹ ماڈلز ہیں۔ آج بہت ساری ماڈلز مجھے ایک جیسی لگتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اب ایک جیسا کام ہو رہا ہے۔ ہمارے دور میں ہر ماڈل کی الگ پہچان ہوتی تھی۔سیریل  ’ننگے پاﺅں‘ میرا پہلا ڈرامہ تھا۔ اس میں میرے ساتھ صباء پرویز اور راحت کاظمی تھے۔ اس میں ایک سین تھا جس میں صباء پرویز نے مجھے تھپڑ مارنا تھا۔ وہ بہت دیر تک مجھے سمجھاتی رہیں کہ کس طرح سے تھپڑ کھانے کے بعد اوریجنل تاثرات دیتے ہیں۔

عفت عمر کا کہنا تھا کہ ’میں خود کو درمیانی درجے کی اداکارہ سمجھتی ہوں (فوٹو: عفت عمر انسٹا گرام)عفت عمر نے کہ ’سین میں صباء پرویز نے مجھے اصلی تھپٹر ما دیا۔ میرے ایکسپریشن ویسے ہی آئے جیسی سین کی ڈیمانڈ تھی، بعد میں، میں نے جب صباء سے کہا کہ آپ نے تو اصلی تھپڑ مار دیا تو کہنے لگیں کہ یہ ضروری تھا۔‘

’اسی طرح سے میں راحت کاظمی کی بہت بڑی مداح تھی۔ ان کے قریب جانے والا جب بھی کوئی سین کرنا ہوتا تھا تو میں بہت ہی خوش ہوکے کیا کرتی تھی۔ مجھے یہ ڈرامہ 60 لڑکیوں کے ساتھ سکرین ٹیسٹ کے بعد ملا تھا۔‘

 اس زمانے میں این ٹی این ایسا چینل تھا کہ جس پر کوئی ڈرامہ آتا تو پورا پاکستان اسے دیکھا کرتا تھا، لہذا میری خوش قسمتی تھی کہ اس چینل کے لیے مجھے ڈرامے آفر ہوئے۔

عفت عمر کا کہنا تھا کہ ’میں خود کو درمیانی درجے کی اداکارہ سمجھتی ہوں۔ میں نے خود کو کبھی کمال کی اداکارہ نہیں کہا۔‘

آپ کی بیٹی شوبز میں آئے گی؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری بیٹی نورجہاں جو کہ امریکہ میں زیر تعلیم ہے، بہت ہی ذہین ہے۔ اس کے والد نہیں چاہتے کہ وہ شوبز میں آئے۔ میں اپنے شوہر کے اس فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوں گی کیونکہ باپ کا حق ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے کیریئر کا فیصلہ کرے۔ میرے والد ہوتے تو شاید میں بھی ماڈل نہ ہوتی۔

عفت عمر کے مطابق  اب فیشن میگزینز کی جگہ سوشل میڈیا نے لے لی ہے (فوٹو: عفت عمر انسٹاگرام)عفت کا مزید کہنا تھا کہ اب تو ہر کسی کو پتہ ہوتا ہے کہ انسٹا گرام پر ان کے کتنے پرستار ہیں۔ اسی چیز کا انہیں فائدہ بھی پہنچ رہا ہے۔ خصوصی طور پر مالی لحاظ سے۔

ہمارے دور میں ہم خالی مشہور ہی ہوتے تھے، پیسے نہیں ملا کرتے تھے۔ پہلے تو فیشن میگزین گھر گھر جایا کرتے تھے اب فیشن میگزینز کی جگہ سوشل میڈیا نے لے لی ہے۔ اب بنے بنائے سٹار سے کام لیا جاتا ہے کسی کو سٹار بنانے پر توجہ نہیں دی جاتی اور یہ ٹرینڈ اب پوری دنیا میں ہے صرف یہاں نہیں ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ بی سی ڈبلیو میں شوسٹاپر بننے کا اس عمر میں بھی تجربہ بہت ہی اچھا رہا ہے۔ باقی میں کسی کو کمتر نہیں سمجھتی آج کل کے بچے بہت آگے ہیں۔ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ وقت بدل چکا ہے ہر کوئی اپنی جگہ بہترین کام کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’عمران خان کی ایک وقت میں بہت سپورٹر تھی لیکن انہوں نے بہت ہی مایوس کیا ہے اب میں ان کی سپورٹ میں بالکل بھی نہیں ہوں۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More