اداکارہ نایا ریویرا ’کشتی کی سیر کے دوران ڈوب کر ہلاک‘

اردو نیوز  |  Jul 11, 2020

امریکی اداکارہ نایا رویرا کے بارے میں پولیس حکام کا خیال ہے کہ وہ وہ لاس اینجلس کے قریب ایک جھیل میں ڈوب گئی ہیں، تاہم  حکام کو 24 گھنٹے کی تلاش کے بعد بھی لاش نہیں مل سکی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 33 سالہ نایا رویرا اپنے چار سالہ بیٹے جوزی کے ہمراہ جھیل پیرو کی سیر پر نکلی تھیں، اس مقصد کے لیے انہوں نے کشتی بھی کرائے پر حاصل کی تھی۔ 

پولیس حکام کے مطابق ’اداکارہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے لاپتہ ہیں اور ان کے بارے میں گمان کیا جا رہا ہے کہ وہ حادثے کے نتیجے میں جھیل میں ڈوب کر ہلاک ہو گئی ہیں۔‘

    View this post on Instagram         winter baby ❄️

A post shared by Naya Rivera (@nayarivera) on Dec 24, 2019 at 3:28pm PST

اداکارہ کا بیٹا جھیل میں تیرتی ہوئی کشتی پر اکیلا ملا ہے جس نے پولیس حکام کو بتایا کہ وہ اپنی والدہ کے ساتھ تیراکی پر گیا تھا لیکن والدہ واپس نہیں آئیں۔

جھیل پیرو امریکی شہر لاس اینجلس سے پچاس میل دور ایک مضافاتی مقام ہے جو تفریحی سرگرمیوں کے لیے مشہور ہے۔

پولیس حکام کے مطابق کسی مجرمانہ سرگرمی کا سراغ نہیں ملا تاہم فی الحال کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔

سارجنٹ کیوون نے صحافیوں کو بتایا کہ ’اگر اداکارہ کی لاش جھیل کی تہہ میں کسی چیز کے ساتھ الجھی ہوئی ہے تو ایسی صورت میں لاش کا سطح پر آنا ممکن نہیں ہوگا۔ ‘

انہوں نے کہا کہ ’جس مقام پر کشتی ملی تھی وہاں پانی کے نیچے کئی درخت اور پودے اگے ہوئے ہیں، اور تیراکوں کے لیے جانا مشکل ہے۔‘

    View this post on Instagram         I'll love you forever, I'll like you for always, as long as I'm living, my baby you'll be. Happy birthday Josey! Love Mommy ❤️

A post shared by Naya Rivera (@nayarivera) on Sep 17, 2019 at 10:14am PDT

ہیلی کاپٹر اور کشتیوں کے ذریعے ایک سو سے زیادہ اہلکار اداکارہ کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی اداکارہ مشہور ٹی وی سیریز ’گلی’ میں نمایاں کردار ادا کر چکی ہیں۔ اس سیریز کے دوسرے دو اداکاروں کی موت بھی حادثے کے نتیجے میں واقع ہوئی تھی۔

اداکار کوری جس نے سیریز میں فٹ بال کھلاڑی کا کردار نبھایا تھا، نشے کی زیادتی کی وجہ سے 2013 میں ہلاک ہوا۔ جبکہ دوسرے اداکار مارک سیلنگ نے 2018 میں خودکشی کر لی تھی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More