ایک اچھی مثبت پیشرفت

روزنامہ اوصاف  |  Aug 13, 2020

افغانستان کی حکومت کی جانب سے طلب کردہ لوئی جرگہ نے اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیاہے کہ طالبان کے باقی400قیدیوں کو رہا کردیاجائے گا(جب یہ کالم لکھاجارہاہے ‘ طالبان قیدی رہا ہوچکے ہیں) اس سے قبل اشرف غنی کی حکومت نے5000طالبان قیدیوں کو رہا کیاتھا۔ طالبان نے بھی حکومت کے 1000سے زائد قیدیوں کو رہا کیاہے۔ افغان حکومت نے 400طالبان  قیدیوں کواس لئے قید میں رکھا تھا کہ ان کے بارے میں افغان حکومت میں یہ تاثر پایاجارہاتھا کہ یہ خطرناک افراد ہیں جنہوں نے بڑی تعداد میں سرکاری فوج اور امریکی فوج کے اہلکاروں کو قتل کیاہے جس میں شہری بھی شامل تھے۔ اشرف غنی کے لئے ان400 قیدیوں کو رہا کرنے میں بڑی دشواریاں پیش آرہی تھیں بلکہ ان پر خاصا دبائو تھا کہ انہیں رہا نہ کیاجائے۔ لیکن امریکہ اور بعض یورپی ممالک نے اشرف غنی کویقین دلایا ہے کہ یہ خطرناک قیدی رہا ہونے کے بعد افغانستان میں گڑ بڑ نہیں کریں گے۔ چنانچہ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ نے لوئی جرگہ میں یہ فیصلہ کیا کہ انہیں رہا کردیاجائے ۔ اس طرح افغانستان کی حکومت نے ایک ایسا احسن فیصلہ کیا ہے جس کے اثرات افغانستان میں آئندہ امن کے پس منظر میں انتہائی مثبت ثابت ہوں گے۔ اس لوئی جرگہ میں3400 وفود نے شرکت کی تھی جس میں خواتین کی تعداد سات سوتھی۔ شرکا نے یک زبان ہوکر طالبان کے باقی ماندہ قیدیوں کو رہا کرنے کی حمایت کی۔ صرف ایک خاتون نے قیدیوں کو رہا کرنے کی مخالفت کی تھی جس کوعبداللہ عبداللہ نے اس کو ہال سے باہر نکال دیا تھا۔افغان طالبان نے لوئی جرگہ کے اس فیصلہ کو سراہتے ہوئے اس کو تاریخی فیصلہ قرار دیاہے لوئی جرگہ کے اس فیصلے کے بعدافغان طالبان اور افغان حکومت کے مابین قیام امن اور یونٹی حکومت کے قیام کے سلسلے میں بات چیت شروع ہونے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں ۔ انٹراافغان بات چیت صرف اس لئے رکی ہوئی تھی کہ افغان حکومت اور افغان طالبان کے مابین قیدیوں کاتبادلہ رکاوٹ کاسبب بناہواتھا۔ ا ب یہ رکاوٹ دور ہوگئی ہے اور بہت جلد افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان انتہائی پیچیدہ نوعیت کے مذاکرات شروع ہونگے۔ ان مذاکرات کا آغاز ہوتے ہی انہیں جلد منطقی انجام تک پہچانے کی کوشش کی جائے گی کیونکہ امریکہ جلد اپنی فوجیں افغانستان سے واپس لے جاناچاہتا ہے۔ جیساکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران  امریکی عوام سے وعدہ کیاتھا ۔ اب نومبر2020 میں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں‘ ٹرمپ کی یہ خواہش ہے کہ جلد سے جلد افغانستان میں افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوجائیں اور8000کے قریب امریکی فوجی واپس آجائیں۔تاہم جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھا ہے کہ افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات آسان نہیں ہوں گے ۔ماضی کے واقعات کی روشنی میں آئندہ کالائحہ عمل طے کیا جائے گا تاکہ افغانستان میں دائمی امن کے قیام کو یقینی بنایاجاسکے۔ پاکستان نے جیسا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کرانے میں ایک کلیدی رول ادا کیا تھا اور اب بھی پاکستان کا رول بڑا واضح ہے۔ پاکستان کو اس بات کا ادراک ہے کہ افغانستان میں امن کا قیام خود پاکستان کے لئے انتہائی اہم اور ناگزیر ہے۔ نیز اب پاکستان کو افغان حکومت سے یہ امید ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے نہیں دے گا۔ اس ہی قسم کا معاہدہ طالبان اور افغان حکومت کے مابین ہوا ہے۔ کیونکہ پاکستان میں ماضی میں جتنے بھی دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں وہ سب افغانستان کی سرزمین سے ہوئے تھے۔ لیکن اب جبکہ آئندہ جلد افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان بات چیت شروع ہونے والی ہے پاکستان کی یہ آرزو ہے کہ فریقین کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوجائیں تاکہ افغانستان میں گزشتہ چالیس سال سے جاری جنگ کا خاتمہ ہوسکے اور عوام امن کے ثمرات سے مستفید ہوسکیں۔ تاہم قارئین کرام کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ افغانستان میں ایسے عناصر بدرجہ اتم موجود ہیں‘ جوبعض غیر ملکی طاقتوں کے اشارے پر افغانستان میں امن کا قیام نہیں چاہتے ہیں بلکہ اس کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ان میں وار لارڈ بھی شامل ہیں جنہوں نے امریکی ڈالروں کے عوض افغانستان میں جنگ کی حمایت کی تھی  اور جنگ کو جاری رکھاتھا۔ اس بے معنی‘ لاحاصل جنگ میں امریکہ کے کروڑوں ڈالر خرچ ہوئے ہیں اور 3ہزار کے قریب امریکی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ افغان عوام کی ایک بڑی تعداد(پچاس ہزار کے قریب) ہلاک ہوئی تھی۔ افغانستان کا ایک عام آدمی اس جنگ سے عاجز آچکاہے‘ اس کی بھی خواہش ہے کہ جلدازجلد افغانستان میں امن قائم ہوتاکہ برباد شدہ افغانستان کے عوام کی زندگیوں میں خوشیاں درکر آئیں۔ بہرحال اب اشرف غنی ‘ عبداللہ عبداللہ اور افغان طالبان رہنمائوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ افغانستان میں آئندہ کسی طرح کا ماحول پیداکرسکتے ہیں ؟ ایک یونٹی حکومت جس میں افغان طالبان اور افغان حکومت کے نمائندے شامل ہوں‘ وقت کی ضرورت ہے۔ طرفین کوکچھ لو اور کچھ دو کے تحت آگے بڑھنا ہوگا۔ اس ہی حکمت عملی میں آئندہ افغانستان میں امن قائم ہوسکتاہے۔ ورنہ ضد اور انا کی صورت میں حالات دوبارہ بگڑ سکتے ہیں اور فریقین کے مابین جنگ دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔ جس کو امریکہ‘ پاکستان‘ ایران‘ چین کبھی نہیں چاہیں گے کہ ایسا ہو۔ تاہم افغانستان میں قیام امن کی راستہ کا نٹوں کی سیج سے سجا ہوا ہے جہاںانتہا ئی سنبھل کر چلنے کی ضرورت ہے۔ میں سمجھتاہوں کہ فریقین اس حقیقت سے واقف ہیں ان کی بھی یہی خواہش ہے کہ جنگ کا خاتمہ ہو ۔ بس اب بہت ہوگیا ہے۔ امریکہ نے یہ محسوس کرلیاہے کہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے اور نہ ہی جنگ کے ذریعہ موجودہ دور میں ملکوں کو فتح کیاجاسکتاہے ‘ہاں برباد تو کیا جاسکتاہے جیسا کہ افغانستان ہوا ہے۔ بہرحال دیر آید درست آید۔ افغانستان کے عوام افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کے لئے دعا کررہے ہیں اور وہ افغانی بھی جو افغانستان میں جنگ کی وجہ سے بے گھری کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ذرا سوچیئے۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More