کراچی کے سب سے بڑے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ آج سنایا جائیگا

اب تک  |  Sep 17, 2020

کراچی: (17 ستمبر 2020) کراچی بلدیہ فیکٹری میں جھلس کا جان دینے والے سیکٹروں ملازمین کے ساتھ انصاف آج متوقع ہے۔ سانحہ بلدیہ فیکٹری میں مجرم کون تھا فیصلہ آج سنایا جائے گا۔ آٹھ سال قبل بلدیہ میں واقع ڈینم فیکٹری کو جلادیا گیا تھا۔ واقعے 259 افراد جھلس کر جاں بحق ہو گئے تھے۔

گیارہ ستمبر دوہزار بارہ کراچی کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا۔ اس دن بلدیہ میں واقع ڈینم فیکٹری جل کر خاکستر ہوگئی۔ بھڑکتے شعلوں نے روزی کمانے کے غرض سے گھروں سے نکلنے والے سینکڑوں ملازمین کو زد میں لے لیا۔ ملازمین فیکٹری میں اپنے اپنے کام میں مصروف تھے کہ دن دیہاڑے ظالموں نے فیکٹری کو آگ لگادی۔ آگ پھیلنے سے فیکٹری میں بھگدڑ مچ گئی۔ اس واقعے میں 259 افراد جھلس کر اور دم گھٹنے سے جاں بحق ہوئے تھے جبکہ تقریباَ 50 افراد زخمی ہوئےتھے۔

بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعے کو 8 برس ہو گئے۔ ابتدائی طور پر آتشزدگی کے اس واقعے کو حادثاتی قرار دیا گیا تھا لیکن بعد میں جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم نے اسے تخریب کاری قرار دیا اور تحریری رپورٹ میں یہ کہا تھا کہ بھتہ نہ ملنے پر فیکٹری میں آگ لگائی گئی تھی۔ مقدمے میں نامزد ملزم رحمان بھولا کو 2016 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ملزم نے پہلے جرم کا اعتراف کیا پھر اپنے بیان سے منحرف ہو گیا۔ رحمان بھولا نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے حماد صدیقی کے کہنے پر ہی بلدیہ فیکٹری میں آگ لگائی تھی لیکن بعد میں رحمٰن بھولا نے عدالت میں بیان دیا کہ پولیس نے عدالت میں پیش کرکے اس سے زبردستی بیان دلوایا۔

سال 2020 میں سانحے کی جے آئی ٹی بھی منظر عام پر آ گئی۔ جی آئی ٹی رپورٹ کے مطابق واقعے کی ایف آئی آر ایک بڑے سانحے کے بچائے عام قتل کیس کی طرح درج کی گئی۔ دباؤ کے زیر اثر پولیس نے بلدیہ فیکٹری سانحے کے کیس کو جانبدارانہ انداز میں چلایا۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے 2 ستمبر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا کیس میں ملزمان زبیر چریا اور عبدالرحمان بھولا کے خلاف 400 عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ بھی کیے گئے ہیں۔ لواحقین اپنے پیاروں کیلئے انصاف کے منتظر ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More