تحریکِ لبیک کے خلاف کارروائی ریاست کی رٹ چیلنج کرنے پر کی گئی: عمران خان

وائس آف امریکہ اردو  |  Apr 17, 2021

اسلام آباد — پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مغرب میں دائیں بازوں کے سیاست دان اور آزادئ اظہار کی آڑ میں مذہبی منافرت پھیلانے والے انتہا پسندوں میں اپنے رویے پر ایک ارب 30 کروڑ مسلمانوں سے معافی مانگنے کی جرات ہونی چاہیے ۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ ان انتہا پسندوں سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ وہ مغربی حکومتوں، جنہوں نے ‘ہولوکاسٹ’ پر منفی تبصروں کو غیر قانونی قرار دیا ہے، ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسی معیار کو اپناتے ہوئے ان انتہا پسندوں کو سزا دیں جو جان بوجھ کر مسلمانوں کے پیغمبر کی شان میں گستاخی کر کے مسلمانوں سے اپنی نفرت کا پیغام پھیلا رہے ہیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی کے حوالے سے کہا کہ ٹی ایل پی کے خلاف کارروائی اس لیے کی کیوں کہ انہوں نے ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا اور سڑکوں پر تشدد کرنے سمیت عوام اور قانون نافذ کرنے والوں پر حملے کیے۔

وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ اس تناظر میں کوئی بھی قانون اور آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ حکومت نے ٹی ایل پی کےخلاف کارروائی انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت کی۔

عمران خان نے کہا کہ بیرون ملک اسلاموفوبیا اور نسل پرستی میں ملوث انتہا پسند سن لیں پییغمبرِ اسلام ہمارے دلوں میں بستے ہیں۔ بیرون ملک انتہا پسند ایک ارب 30 کروڑ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ مسلمان سب سے زیادہ پیار اور احترام پیغمبرِ اسلام کا کرتے ہیں۔ وہ ان کی بے حرمتی کو برداشت نہیں کریں گے۔

Direct link240p | 21.5MB360p | 31.6MB480p | 48.2MB720p | 121.3MB1080p | 158.5MBپاکستان میں حالیہ عرصے میں وزیرِ اعظم عمران خان کی طرف سے متعدد بار اسلامو فوبیا کے حوالے سے بیانات جاری کیے گئے ہیں۔

اسلامو فوبیا کے معاملے پر وزیرِ اعظم عمران خان اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کئی بار بات کی ہے اور اسلام کا مثبت تاثر اجاگر کرنے کے لیے پاکستان، ترکی اور ملائیشیا کے ساتھ مل کر ایک ٹی وی چینل بھی بنانے کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان میں حال ہی کالعدم قرار دی جانے والی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ جب کہ جماعت کے نئے قائد سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں مختلف مقامات پر دھرنے دیے تھے۔ بعد ازاں پولیس نے بیشتر مقامات پر بزور طاقت یہ دھرنے ختم کرائے اور سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا۔

حکومت نے جمعے اجتجاج کے خدشے کے پیشِ نظر چار گھنٹوں کے لیے متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بند کر دیے تھے۔ جب کہ 20 اپریل کو ٹی ایل پی کی دی گئی ڈیڈ لائن کے خاتمہ کے بعد بھی ان کے کارکنوں کی طرف سے احتجاج کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More