اپنے کرداروں کے ذریعے بولنے والے فاروق قیصر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے

وائس آف امریکہ اردو  |  May 15, 2021

کراچی — 

نامور مزاح نگار، اداکار، کارٹونسٹ اور شاعر فاروق قیصر کے انتقال نے جہاں ان کے لاکھوں مداحوں کو سوگ میں مبتلا کر دیا وہیں پاکستان میں پتلی تماشہ کا ایک باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔

پچھتر سالہ فاروق قیصر کا رواں ہفتے جمعے کی شب اسلام آباد میں حرکتِ قلب بند ہونے سے انتقال ہوا۔

فاروق قیصر کی وجہٴ شہرت اسکرپٹ رائٹنگ اور اداکاری کے ساتھ ساتھ ان کی صوتی فنکاری تھی جس میں وہ پسِ پردہ رہ کر اپنے کرداروں سے وہ کچھ کہلواتے تھے جو خود نہیں کہہ سکتے تھے۔

ٹیکسٹائل ڈیزائننگ میں ڈسٹنکشن حاصل کرنے والے اس فنکار کو کیا معلوم تھا کہ پاکستان کی فضائیہ میں سلیکشن نہ ہونے پر انہیں قسمت نیشنل کالج آف آرٹس لے جائے گی جہاں سے وہ فن کی ان بلندیوں کو چھونے میں کامیاب ہو جائیں گے جس کا انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا۔

فاروق قیصر نے 1971 سے 2021 تک 50 سال کے دوران جہاں دو سے تین نسلوں کو اپنے فن سے محظوظ کیا وہیں آخری وقت تک انہوں نے مسکراہٹ بکھیرنے کے سلسلےکو ختم نہیں ہونے دیا۔

اپنے آخری دنوں تک ان کے بنائے گئے کارٹون اخبارات کی زینت بنتے رہے اور وہ حالات حاضرہ پر تبصرے کے لیے اپنے ہی تخلیق کیے ہوئے کرداروں کا سہارہ لیتے رہے۔

اکتیس اکتوبر 1945 کو پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے فاروق قیصر نے جامعہ پنجاب سے 1971 میں گریجویشن کی اور پھر 1972 میں نیشنل کالج آف آرٹس سے ٹیکسٹائل ڈیزائننگ کی ڈگری لی۔

اسی دوران فاروق قیصر نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے لاہور سینٹر سے 'اکڑ بکڑ' کے ذریعے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا۔

وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان نے بھی فاروق قیصر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ نہ صرف وہ ایک اچھے فنکار تھے بلکہ سوشل معاملات پر آواز بھی اٹھاتے رہتے تھے۔

اسلام آباد سے ہی تعلق رکھنے والے اداکار و لکھاری عثمان خالد بٹ نے بھی فاروق قیصر کے انتقال پر افسوس کرتے ہوئے ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

ٹی وی میزبان، اداکار و گلوکار فخر عالم نے بھی فاروق قیصر کی وفات پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ انکل سرگم ان کے بچپن کا اہم حصہ تھا۔

اداکار و گلوکار علی ظفر، جنہیں رواں سال 23 مارچ کو فاروق قیصر کے ساتھ ہی ایوان صدر میں ایوارڈ دیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ تقریب میں ویل چیئر پر بیٹھے فاروق قیصر کا قد اس وقت بھی سب سے اونچا تھا۔

سرحد پار سے بھی موسیقار عدنان سمیع خان نے فاروق قیصر کی وفات کو ایک سانحہ قرار دیا۔

انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ فاروق قیصر کو وہ 40 سال سے جانتے تھے اور ان کے ساتھ کام کرنا ان کی خوش قسمتی تھی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More