کیا موبائل فون چپکے سے ہماری باتیں سنتا ہے؟

بول نیوز  |  Jun 23, 2021

کیا یہ اتفاق ہے کہ آپ کسی دوست سے کسی چیز کے بارے میں بات کر رہے ہوں اور کچھ ہی دیر بعد اسی چیز کا اشتہار آپ کو موبائل فون استعمال کرتے ہوئے نظر آئے؟

آئیے پتہ چلاتے ہیں کہ کیا واقعی ایسا ہوتا ہے؟

یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ آپ کو ان ہی مصنوعات کے اشتہارات نظر آئیں جن میں آپ دلچسپی رکھتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا فون آپ کی گفتگو سنتا ہے کیونکہ اسے اس کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

دراصل ہم اپنے فونز استعمال کرتے ہوئے مختلف ویب سائٹس اور ایپس کو کئی قسم کی معلومات دیتے ہیں، مثال کے طور پر “کوکیز” کو قبول کرکے ہم انہیں اجازت دیتے ہیں کہ ہماری آن لائن سرگرمیوں کو ٹریک کریں۔

ان میں پہلے فرسٹ پارٹی کوکیز آتی ہیں جو ویب سائٹ مختلف چیزیں “یاد” رکھنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

 مثلاً لاگ اِن کوکیز آپ کی لاگ اِن تفصیلات کو محفوظ کرتی ہیں تاکہ آپ کو ہر مرتبہ لاگ اِن ہونے کے لیے معلومات داخل نہ کرنی پڑیں۔

پھر “تھرڈ پارٹی کوکیز” ہیں، جو دراصل اس ڈومین کی ہوتی ہیں جو آپ کی دیکھی گئی ویب سائٹ سے باہر کا ہوتا ہے۔

تھرڈ پارٹی زیادہ تر مارکیٹنگ کمپنیاں ہی ہوتی ہیں جو فرسٹ پارٹی یعنی آپ کی دیکھی گئی ویب سائٹ یا ایپ کے ساتھ معاہدہ رکھتی ہیں جس کے تحت مارکیٹنگ کمپنی اشتہارات لگائے گی اور اسے آپ کا ڈیٹا حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔

یہ کمپنیاں آپ کا پتہ چلانا شروع کر دی ہیں، آپ کے معمولات، خواہشات اور ضروریات سب کچھ، یہ کمپنیاں مصنوعات کی مقبولیت کے اندازہ لگانا چاہتی ہیں اور یہ بھی کہ صارفین کی عمر، صنف، قد، وزن، پیشہ اور مشاغل کس طرح مصنوعات کی مقبولیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

اس قسم کی معلومات کو جمع کر کے اور ان کو استعمال کرتے ہوئے ایڈورٹائزنگ ادارے اپنے اشتہارات دکھانے کے الگورتھمز بہتر بناتے ہیں، اور یوں صارفین کو اشتہارات نظر آتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ آپ کی سرگرمیوں سے ہی اندازہ لگا لیتا ہے کہ آپ کو کس قسم کا اشتہار دکھانا چاہیے۔

مثلاً آپ نے کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کوئی پوسٹ دیکھی یا “لائیک” کی تو یہ ریکارڈ کر لیتا ہے کہ آپ کو کس قسم کا مواد پسند ہے۔

خیال رہے کہ اگر آپ پرائیویسی کے معاملے میں حساس ہیں تو اپنی ڈیوائس پر ورچوئل پرائیوٹ نیٹ ورک (وی پی این) انسٹال کر لیں۔ اس سے آپ کا آئی پی ایڈریس چھپ جائے گا اور آپ کی آن لائں سرگرمیاں بھی انکرپٹ ہوجائیں گی۔

--> Double Click 300 x 250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More