دو انڈین ریاستوں میں لڑائی، حکومت کا ’غیر جانبدار فورس‘ تعینات کرنے کا فیصلہ

اردو نیوز  |  Aug 05, 2021

انڈیا کی دو ریاستوں میزورام اور آسام کے درمیان سرحدی تنازعے پر ہلاکتوں اور اس کے بعد کشیدگی برقرار رہنے کے بعد حکومت نے ’غیر جانبدار فورس‘ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق 26 جولائی کو میزورام اور آسام کی سرحد پر جھڑپ کے بعد چھ پولیس افسر ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

پاکستان اور چین کے ساتھ سرحدی تنازعات کا شکار انڈیا کی اپنی دو ریاستوں میں جھڑپیں انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی مرکزی حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث ہیں۔

جمعرات کو دونوں ریاستوں کی حکومتوں کی جانب سے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’انڈین حکومت متنازعہ علاقے میں غیر جانبدار فورس تعینات کرے گی۔‘

بیان کے مطابق ’دونوں ریاستیں متنازعہ علاقوں میں محکمہ جنگلات اور پولیس فورس کو گشت کے لیے نہیں بھیجیں گی اور نہ ہی تازہ دم دستے تعینات کریں گی۔‘

میزورام کی ریاست 1972 تک آسام کا حصہ تھی اور اسے 1987 میں علیحدہ ریاست کا درجہ دیا گیا تھا۔

یہ دونوں ریاستیں کئی دہائیوں سے سرحدی تنازعات کا شکار ہیں، لیکن اس طرح کی جھڑپیں بہت کم دیکھنے میں آئیں۔

میزورام کی ریاست نے چھ پولیس افسروں کی ہلاکت پر کشیدگی شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ جمعرات کو افسوس کا اظہار کیا۔

گذشتہ ہفتے دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے اپنی ٹویٹس میں کہا کہ وہ اس مسئلے کا حل نکالنے کا راستہ تلاش کریں گے۔

آسام کے وزیراعلیٰ ہمانتا بسوا سارما کا تعلق بی جے پی سے ہے، جبکہ میزورام کے وزیراعلیٰ زورمتھانگا سیاسی جماعت میزو نیشنل فرنٹ کے سربراہ ہیں اور وہ بی جے پی کے اتحادی ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More