ترک انفلو اینسر پر ایمسٹرڈیم کے سیکس میوزیم میں موجود جنسی کھلونوں کی تصاویر دکھانے پر مقدمہ

بی بی سی اردو  |  Aug 06, 2021

Merve Taskin
Merve Taskin
تسکین ترکی میں سوشل میڈیا کی ایک مشہور شخصیت ہیں

ایک ترک سوشل میڈیا انفلوئینسر کا کہنا ہے کہ ایمسٹرڈیم میں قائم دنیا کے مشہور سیکس میوزیم کے اندر کھینچی گئی تصاویر ’مذاق‘ کے طور پر پوسٹ کرنے پر ان کے خلاف ترکی میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

23 سالہ مِرو تسکین نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ان جنسی کھلونوں کی تصاویر شیئر کی تھیں جو انھوں نے گزشتہ سال جنوری میں ہالینڈ کے سفر کے دوران اس میوزیم سے خریدے تھے۔

وہ کہتی ہیں کہ انھیں چند ماہ بعد ترکی میں گرفتار کر لیا گیا، جہاں فحش مواد شیئر کرنا ایک جرم سمجھا جاتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ انھیں اب فحاشی کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے عدالت میں طلب کیا گیا ہے۔

ترک قانون کے مطابق جو کوئی بھی فحش مواد شائع کرتا ہے اسے جرمانہ یا تین سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

تسکین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرا مقصد صرف مذاق تھا۔‘ تسکین کے انسٹاگرام پر تقریباً چھ لاکھ فالوورز ہیں۔

جب لندن میں ترک سفارت خانے سے اس بارے میں رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

’میں گواہی دینے سے خوفزدہ ہیں‘

تسکین جو استنبول میں رہتی ہیں، کہتی ہیں کہ وہ اپنی 22 ویں سالگرہ منانے دو دوستوں کے ہمراہ ایمسٹرڈیم گئی تھیں۔

وہاں انھوں نے جو جگہیں دیکھنے کی فہرست بنائی تھی ان میں سے ایک سیکس میوزیم بھی تھا، جہاں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں۔

میوزیم میں انھوں نے اپنے انسٹاگرام پر وہاں فروخت ہونے والی اشیاء کی تصاویر شیئر کیں، جن میں عضو تناسل کے سائز کا پاستا اور ’سیکسی بوتل اوپنر‘ بھی شامل ہے۔

https://www.instagram.com/p/B79Y21HFVyT/?utm_source=ig_embed


مِرو تسکین کے نزدیک وہ تصاویر بالکل معصومانہ سی تھیں، لیکن ترکی میں، حکام نے انھیں ایک مختلف نظر سے دیکھا۔

وہ کہتی ہیں کہ انھیں واپسی کے بعد دو مرتبہ گرفتار کیا گیا، ایک مرتبہ گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران۔ دوسرے موقع پر انھوں نے کہا کہ انھوں نے استغاثہ کو بیان دے دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیئے

ایمسٹرڈیم کے سیکس کے کاروبار کے لیے مشکل وقت

پیرس: سیکس ڈولز کے ’قحبہ خانے‘ کے مستقبل کا فیصلہ

چین میں سیکس ڈولز کرائے پر دینے کی متنازع سروس بند

ارطغرل:صدر اردوغان کی اسلامی قوم پرستی کا ہدف سلطنتِ عثمانیہ کی بحالی ہے؟

ان کا خیال تھا کہ اس کے بعد معاملہ خاتم ہو جائے گا۔ لیکن اس سال کے آغاز میں انھیں اس وقت حیرت ہوئی جب استنبول کی ایک عدالت نے انھیں ٹیکسٹ میسج کے ذریعے دوبارہ عدالت میں طلب کیا۔

بی بی سی نے اس ٹیکسٹ میسج کا سکرین شاٹ دیکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ تسکین 26 اکتوبر کو ترکی کے تعزیراتی ضابطے کی خلاف ورزی کے ایک مقدمے میں عدالت میں پیش ہوں۔

آرٹیکل 226 فحش مواد سے متعلق ان جرائم کے متعلق ہے جنھیں ناگوار سمجھا جاتا ہے۔

تسکین کہتی ہیں کہ عدالتی سمن موصول ہونے کے بعد انھوں نے اپنی بہت سی ٹویٹس کو ڈیلیٹ کر دیا ہے تاکہ دوبارہ شکایت نہ کی جائے۔

تسکین کہتی ہیں کہ وہ عدالت میں گواہی دینے سے خوفزدہ ہیں لیکن پھر بھی وہ یہ اپنی مرضی سے کریں گی۔ انھوں نے گزشتہ ہفتے عدالتی سمن کے بارے میں ٹویٹ کیا تھا، اور اس کے بعد سے ہالینڈ میں ان کے مقدمے کو بڑی کوریج مل رہی ہے۔

A picture of the Sex Museum in Amsterdam
Getty Images
سیکس میوزیم ایمسٹرڈیم کے مشہور مقامات میں سے ایک ہے

انھوں نے کہا کہ میوزیم نے انھیں ایک پیغام بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’آپ کی مصیبت کے بارے میں سن کر افسوس ہوا ہے‘ اور پیغام میں آگے انھیں ’دوسری خواتین کے لیے بہترین رول ماڈل‘ قرار دیا گیا ہے۔

پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہمارے میوزیم کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو سیکس کی تاریخ سے آگاہ کرنا ہے۔ ہم اپنے جذبات کا اظہار کرنے اور اس طرح کی تصاویر پوسٹ کرنے پر آپ کی تعریف کرتے ہیں۔‘

ترک قانون کے تحت ویب سائٹس، پبلشرز اور حکومتی ناقدین کو فحش مواد کی وجہ سے سنسر اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انسانی حقوق کے گروہوں کا کہنا ہے کہ ترکی میں صدر رجب طیب اردگان کی حکومت میں آن لائن پر اظہار رائے کی آزادی میں کمی آئی ہے۔

ان کے ناقدین انھیں ایک آمرانہ رہنما سمجھتے ہیں جو اختلافِ رائے برداشت نہیں کرتا، اور جو ہر اس شخص کو سختی سے خاموش کر دیتا ہے جو ان کی اور ان کی قدامت پسند، اسلامی اقدار کی مخالفت کرتا ہے۔

غیر سرکاری تنظیم فریڈم ہاؤس

کے مطابق ترکی یورپی خطے میں سب سے زیادہ مشکل جگہوں میں سے ایک ہے جہاں آزادی اظہار اور اظہار رائے کا حق استعمال کرنا بہت مشکل ہے۔ فریڈم ہاؤس کے مطابق صحافی، کارکن اور حزبِ مخالف کی شخصیات کو ’حکومت پر تنقید کرنے پر بڑے پیمانے پر ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

گزشتہ برس ترکی کی پارلیمنٹ کی طرف سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو کنٹرول کرنے کے ایک قانون کو منظور کرنے کے بعد سوشل میڈیا کی سنسر شپ سخت کر دی گئی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More