جعلی پروفائلز سے سوشل میڈیا پر چینی پروپیگنڈا پھیلانے کا انکشاف

بی بی سی اردو  |  Aug 06, 2021

Graphic of anonymous people at computers with a Chinese character on all their screens
BBC

ایک تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ 350 جعلی سوشل میڈیا اکاونٹس چین کے حامی بیانیہ کی تشہیر اور چینی حکومت کے مخالفین کو بے توقیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سنٹر فار انفارمیشن ریزلینس (سی آئی آر)کی رپورٹ کے مطابق ان جعلی پروفائلز سے پھیلائے جانے والے مواد کا مقصد مغرب کو کمزور کرنا اور چین کے بیرونی دنیا میں اثر کو بڑھانا مقصود ہے۔

سی آئی آر کی رپورٹ جو بی بی سی کے ساتھ شیئر کی گئی ہے، اس رپورٹ کے مطابق ان جعلی پروفائلز سے چین مخالف لوگوں کے بھونڈے کارٹون بنا کر شیئر کیے جاتے ہیں۔ ایسے افراد میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی مشیر سٹیو بینن ، چینی ارب پتی گوا وینگوئی اورچینی سائنسدان لی مینگ یان بھی شامل ہیں۔.

ان تمام افراد پر چین سے متعلق غلط اطلاعات کی تشہیر کے علاوہ کووڈ نائنٹین کے حوالے سے جھوٹی معلومات پھیلانے کا الزام لگتا رہا ہے۔

کارٹون.
BBC
ان کارٹونز کے ذریعے چین مخالف آوازوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے

ٹوئٹر ، فیس بک، انسٹا گرام اور یوٹیوبپر جن جعلی اکاونٹس کے ذریعے چین کی حمایت اور مغرب مخالف مواد کو پھیلایا جاتا ہے ، ان کے پروفائلز پر ایسی تصاویر لگائی جاتی ہیں جومصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی جاتی ہیں یاایسے اکاونٹس کو استعمال کیا جاتا ہے جنہیں ہائی جیک کر لیا گیا ہو۔

اس کی کوئی ٹھوس شہادت موجودنہیں ہے کہ ان جعلی اکاونٹس کا چین کی حکومت سے کوئی تعلق ہے۔ لیکن سی آئی آر جو ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے، کے مطابق اسنیٹ ورک کی ایسے نیٹ ورکس سے مشابہت ہے جنہیں ماضی میں ٹوئٹر اور فیس بک سے ہٹایا گیا تھا۔.

ان نیٹ ورکس کے ذریعے چین کے سرکاری میڈیا پر نشر کیے جانے چینی بیانیے کو بڑھا چڑھا کر پھیلایا جاتا ہے۔

ان پروفائلز سے زیادہ ترایسا موادپھیلایا جاتا ہے جو امریکہ سے متعلق ہوتا ہے اور خاص طور امریکہ میں گن کنٹرول سےمتعلق قوانین اور نسلی سیاست توجہ دی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

ٹرمپ نے سٹیو بینن کو قومی سلامتی کونسل سے ہٹا دیا

برسوں سے پاکستان کے خلاف ہرزہ آرائی کرتے گمراہ کن خبروں کے انڈیا نواز نیٹ ورک کا انکشاف

چین کے دفاع پر مامور سخت لہجے والے سفارتکاروں کی فوج

ان پروفائلز سے جس ایک بیانیےکی تشہیر کی جاتی ہےکہامریکہ کاانسانی حقوق کےریکارڈ اچھا نہیں ہے۔ امریکہ میں ایک سیاہ فام شخص کی سیفد فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں ہلاکت کو شہادت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں ایشیائی لوگوں سے تفریق کے رویے کواجاگر کیا جاتا ہے۔

Tweet saying "Nearly 20,000 people die from gun violence in the United States in 2020
BBC
اس اکاونٹ کو اب ختم کیا جا چکا ہے

ان جعلی اکاونٹس میں سے کئی سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے رپورٹس کو جھٹلایا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین نے سنکیانگ میں دس لاکھ اویغور مسلمان کو حراستی مراکز میں رکھا ہوا ہے۔ان اکاونٹس سے یہ بیانہ پھیلایا جاتا ہے کہ سنکیانگ کے بارے میں رپورٹس امریکہ اور مغرب کا جھوٹ ہے۔ .

سی آئی آر کی رپورٹ کے مصنف بینجامین سٹریک کے مطابق اس نیٹ ورک کا بظاہر مقصد چین کے بیانیہ کو پھیلا کر مغرب کو ناجائز قرار دینا ہے۔ .

اس نیٹ ورک کی ’سپیموفلیگ ڈریگن‘نیٹ ورک سے بہتمشابہت ہے جس کی نشاندہی سوشل اینالٹک فرم گرافیکانے کی تھی۔

سٹیو بینن کارٹونز
BBC
صدر ٹرمپ کے سیاسی مشیر سٹیو بین جعلی پروفائلزکی خاص توجہ کا مرکز ہیں

سی آئی آر کی رپورٹ پر تبصرے کرتے ہوئے گرافیکا کی انویسٹیگیٹو تجزیہ کار ارا ہوبرٹ نے کہا :’’ اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی پلیٹ فارمز پر بائیڈن انتظامیہ کےابتدائی مہینوں میں بھی ’ہنی مون‘ کا وقت نہیں تھا۔ .

اس نیٹ ورک پر امریکہ مخالف مواد کو پھیلایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا پر امریکہ کی شکست کی خوشی منائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہکووڈ وبا کے دوران امریکہ کی اپنے اتحادی انڈیا کی ناکافی امداد کو بھی اجاگر کیا جاتا ہے۔سے

اس نیٹ ورک کا کیسے پتہ چلایا گیا؟

سی آئی آرنے ایسے ہیش ٹیگ کا پتا چلایا جن کیماضی میں ایسے اکاونٹس سے حمایت کی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ اس نے اور بھی ایسے اکاونٹس کا پتہ چلایا ہے جہاں سے ایسے مواد شیئر کیا جا رہا ہے جس کا مقصد چین کے اثر و رسوخ کو بڑھانا مقصود ہے۔

ایسے پروفائلز کی نشانیوں میں چین کی حمایت میں پراپیگنڈہ مواد کا بےتحاشا بھیلاؤ کے علاوہ انھیں ہیش ٹیگز کو دوبارہ چلانا بھی شامل ہے۔ جعلی پروفائلز کی ایک نشانی ان کے چندفالوورز ہونا بھی ہے۔ہیں۔ اس سے ان کے جعلی ہونے کا شک ہوتا ہے۔

کچھ ایسے اکاونٹس بنائے گئے ہیں جہاں سے مواد کو شیئر کیا جاتا ہےجبکہ دوسرے اکاونٹس سے ان پر تبصرہ کیا جاتا ہے ، انھیں لائیک کرنے کے علاوہ شیئر کیا جاتا ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکیں۔.

اس طرح کی کارروائی کو اکثر ایسٹروسرفنگ کا نام دیا جاتا ہے جس کا مقصد کسی تشہیری مہم کو جنم دینا ہوتا ہے۔.

A graph showing different nodes in a network with different colours representing connections. A central cluster shows a lot of red lines gathered around the middle
Benjamin Strick / CIR
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف پروفائلز سے ایک ہی پیغام کو اشتراک کے ساتھ آگے بڑھاتے ہیں

جعلی لوگ

اکثر جعلی اکاونٹس پرمصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی تصاویر استعمال کی جاتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تصاویر بنانے کا رجحان کافی نیا ہے اور اس کے ذریعے ایسے تصاویر تیار کر لی جاتی ہیں جو بظاہر کافی حقیقی نظر آتی ہیں لیکن ایسے لوگوں کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔

ایسے اکاونٹس جن سے غلط معلومات کو پھیلایا جاتا ہے ان پر اکثر ایسی ہی تصاویر استعمال کی جاتی ہیں ۔

سی آئی آر نےایسے جعلی اکاونٹس کا پتہ چلانے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے۔ ان میں سے کچھ سینتھیٹک آنکھوں کا استعمال ہے۔ اگر ان تصاویر کو اکھٹا کر دیکھا جائے تو اس سے پروفائل پر استعمال کی گئی جعلی تصویر ہونے کا پتہ چل جاتاہے۔

A collection of images of 6 people with a line joining all of their eyes to show how they are all perfectly in line.
Benjamin Strick / CIR
جعلی پرفائلز پر ایسی لوگوں کی تصاویر استعمال کی جاتی ہیں جن کا کوئی وجود ہی نہیں ہے

کچھ اور نشانیوں میں اس تصاویر کے کچھ حصوں کا دھندلا ہونا بھی شامل ہے۔

فیس بک کے ایسے اکاونٹس جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ جعلی نیٹ ورک کا حصہ ہیں ان پر اکثر ترک ناموں کا استعمال کیا گیا ہے۔

ایسا ممکن ہے کہ یہ پروفائلز حقیقی لوگوں کے ہوں لیکن بعد میں انھیں ہائی جیک کر کے بیچ دیا گیا ہو اور ان پر نئی تصاویر چسپاں کر دی گئی ہوں۔

یوٹیوب پر بھی ہائی جیک کیے گئے اکاونٹس کو چین کی حمایت کے بیانیہ کی تشہیر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ایسے اکاونٹس جن پر ماضی میں انگلش اور جرمن میں مواد شیئر کیا جاتا تھا ان پر کئی برسوں کی خاموش کے بعد اچانکچینی زبان میں چین کے سرکاری میڈیا کا مواد شیئر کیا جانے لگا۔

سی آئی آر نے اپنی تحقیق ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ بھی شیئر کی ہے جہاں پر جعلی اکاونٹس کو پراپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ فیس بک نے ان تمام اکاونٹس کو ہٹا دیا ہےجن کی سی آئی آر کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے۔

فیس بک نے ایسے تمام اکاونٹس کو ختم کر دیا جن کی سی آئی آر رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے۔

فیس بک کے ایک ترجمان نے کہا." ہم نے 2019 میں بھی ایکایسے ایسے نیٹ ورک کو روکا تھا جو اپنے اکاونٹس پر لائف سٹائل، اور سیاسی کلک بیٹس کا استمعال کرتے تھے اور ان میں اکثر چینی زبان میں ہوتے تھے۔اس نیٹ ورک کااب ہمارے پیلٹ فارم پر وجود نہیں ہے اور ہم تحقیق کاروں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور ایسے اکاونٹس کو بلاک کرتے ہیں۔"

یوٹیوب نے بھی ایسے اکاونٹس کو ختم کر دیا ہے جو پیلیٹ فارم کی پالیسی کے خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے گئے ہیں۔

ٹوئٹر نے بھی کہا ہے کہ اس نےتمام ایسے اکاونٹس کو ختم کر دیا ہے جن کا سی آئی آر کے رپورٹ میں ذکر ہے۔ ٹوئٹر نے مزید کہا کہ ایسے مزید اکاونٹس جو اسی طرح کی کارروائیوں میں ملوث ہیں انھیں بھی روک دیا گیا ہے۔ ."


تجزیہ: کیری ایلن ، بی بی سی مانیٹرنگ چائنہ میڈیا تجزیہ کار

چین نے پچھلے عشرے میں انٹرنیشنل پیلٹ فارمز پر اپنی موجودگی کو بڑھانے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔

چین میں فیس بک، ٹوئٹر، اور یوٹیوب کی بندش کی وجہ سے ملک میں ان پلیٹ فارمز کو صرف وی پی این کے ذریعے ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب جیسے پیلٹ فارمز کی غیر موجودگیکیوجہ چین مغربی دنیا کے ان پیلٹ فارمز کا کوئی نعم البدل تیار نہیں کر سکا ہے۔

چین کویہ بتانے کے لیے کہ وہ بھی ایک عالمی طاقت بن چکا ہے، صرف چینی ہی نہیں بلکہ غیر چینی آوازوں کی بھی ضرورت ہے۔

چین نے حال ہی میں جارحانہ سفارت کاری کا طریقہ اپنایا ہے۔ چینی حکام ٹوئٹر اکاونٹس سے کیمونسٹ پارٹی پارٹی کے جھنڈے کو لہراتے ہیں اور دنیا کو بتاتے ہیں کہ چین دنیا کا دوست ہے اور ایک جابر اور آمرانہ ریاست نہیں ہے جیسا کہ مغرب میں اسے سمجھا جاتا ہے۔

چین میں ایک ارب سے بھی زیادہ انٹرنیٹ کے صارفین موجود ہیں اور وہ سوشل میڈیا پر بڑی تشہیری مہم کو شروع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور کسی ایسی آواز کو نشانہ بنا سکتے ہیں جسے وہ چین کامخالفسمجھتے ہوں۔

لیکن چین میں انگلش زبان پر محدود عبور کی وجہ چینی ٹرول نشانیاں چھوڑ جاتے ہیں جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس اکاونٹ کے پیچھے کون ہے۔ اکثرچینی ٹرول چینی زبان کے انگلش میں ترجمے کے لیے سافٹ ویئر پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے پیغامات میں گرائمر اور سپیلنگ کی غلطیاں رہ جاتی ہے۔

چونکہ چین میں صارفین کی مغربی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی محدود ہے اور اکثر چینیوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کس کو نشانہ بنا رہے ہیں لہذا وہ دوسرے نیٹ ورک کے جوابات کا سہارا لیتے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More