طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد اب پاکستان کی افغان پالیسی کیا ہو گی؟

وائس آف امریکہ اردو  |  Aug 17, 2021

اسلام آباد — 

طالبان کی طرف سے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد افغانستان کی صورتِ حال کو دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی نہایت محتاط انداز میں دیکھ رہا ہے۔ نوے کی دہائی میں پاکستان نے نہ صرف طالبان کی کھل کر حمایت کی تھی بلکہ حکومت سازی میں بھی طالبان کو پاکستان کی مشاورت اور حمایت حاصل رہی تھی۔

پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ امارات کے علاوہ پہلا ملک تھا جس نے 1996 میں کابل میں قائم ہونے والی طالبان حکومت کو تسلیم کیا تھا۔

البتہ طالبان کی جانب سے کابل پر دوبارہ قبضے کے بعد تاحال پاکستان کی جانب سے کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آئی۔

منگل کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بتایا کہ پاکستان ممکنہ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ دوست ممالک کے ساتھ مشاورت سے کرنا چاہتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بغیر کسی خون خرابے کے تبدیلی پر پاکستان کو خوشی ہے۔ تاہم پاکستان افغانستان میں مختلف گروہوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ اس کا افغانستان میں کوئی فیورٹ نہیں ہے بلکہ وہ صرف اسی حکومت کو تسلیم کرے گا جو افغان عوام کی اُمنگوں کی ترجمان ہو گی۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار زاہد حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوے کہا کہ 1990 کی دہائی ایک مختلف دور تھا اس وقت دنیا اور خطے کی سیاست مختلف تھی۔

لیکن زاہد حسین کا کہنا ہے کہ آج کی صورتِ حال مختلف ہے، لہذٰا پاکستان کے لیے فوری طور پر طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا شاید ممکن نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ نوے کی دہائی میں طالبان کا تاثر بھی بین الاقوامی سطح پر ایسا نہیں تھا جیسا کہ اب ہے۔

اُستاد کریم خلیلی

اُستاد کریم خلیلی حزبِ وحدت اسلامی افغانستان کے سربراہ ہیں۔ وہ 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد بننے والے سیاسی عمل میں اہم فریق رہے ہیں۔ وہ نہ صرف سابق صدر حامد کزئی کی کابینہ بلکہ ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت میں بھی اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ حزبِ وحدت بھی شمالی اتحاد کا اہم جزو رہا ہے۔ وہ امن کونسل کے سربراہ اور ممبر بھی رہے ہیں۔

اُستاذ محمد محقق

شمالی افغانستان کے مرکزی شہر مزار شریف کی شیعہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے اُستاذ محمد محقق بھی حزبِ وحدت کے ایک اور دھڑے کے سربراہ ہیں۔ اُن کا شمار افغان جنگجو سردار جنرل رشید دوستم کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے اور وہ بھی 2001 سے لے کر مختلف اوقات میں افغانستان میں اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

صلاح الدین ربانی

اسلام آباد پہنچنے والے وفد میں سابق افغان صدر پروفیسر برہان الدین ربانی کے بیٹے صلاح الدین ربانی بھی شامل ہیں۔ صلاح الدین ربانی کچھ عرصے کے لیے حامد کرزئی اور بعد میں ڈاکٹر اشرف غنی کی کابینہ میں وزیرِ خارجہ رہے تھے۔

احمد ضیا مسعود اور احمد ولی مسعود

کابل سے اسلام آباد پہنچنے والے افغان رہنماؤں میں احمد ضیا مسعود اور احمد ولی مسعود بھی شامل ہیں۔ دونوں احمد شاہ مسعود کے بھائی ہیں۔ احمد ضیا مسعود نائب صدر کے عہدے کے علاوہ حامد کرزئی اور اشرف غنی کی حکومتوں میں اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

عبدالطیف پدرم

اس وفد میں عبدالطیف پدرم بھی شامل ہیں جو افغانستان میں روس نواز سابق افغان وزیرِ اعظم ببرک کارمل اور سابق صدر ڈاکٹر نجیب اللہ کے دور میں اعلٰی عہدوں پر فائز رہے۔ 2014 کے صدارتی انتخابات میں اُنہوں نے ڈاکٹر اشرف غنی کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم بعد میں ڈاکٹر اشرف غنی کے ساتھ اختلافات کے باعث وہ شمالی اتحاد میں شامل ہو گئے تھے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More