نصرت فتح علی خان کایادگارقصہ،اجے دیوگن کی زبانی

سماء نیوز  |  Oct 14, 2021

قوالی کے بادشاہ کہلانے والے استاد نصرت فتح علی خان کا ڈنکا آج بھی نہ صرف پاکستان بلکہ سرحد پار بھی بجتا ہے۔

بالی ووڈ اداکار اجے دیوگن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہے جس میں وہ بھارتی ٹی وی کے میوزیکل شوز میں نصرت فتح علی سےجڑا ایک دلچسپ قصپ بیان کررہے ہیں۔

یہ قصہ نصرت فتح اور معروف بھارتی نغمہ نگارآنند بخشی کی ملاقات سے متعلق ہے جسے اداکار یاسر حسین نے انسٹاگرام پرشیئرکیا ہے۔

یاسر نے کیپشن میں لکھا، ‘ نصرت صاحب جیسا آرٹسٹ صدیوں میں پیدا ہوتا ہے’۔

A post shared by Yasir Hussain (@yasir.hussain131)

ویڈیو میں اجے دیوگن کا کہنا ہے کہ نصرت صاحب ایک پراجیکٹ کیلئےبھارت آئے اور ہوٹل میں مہینہ بھررکے تھے، ان کا وزن بہت زیادہ تھا اس لیےان کے لیے نقل وحرکت آسان نہیں تھی اور وہ گاڑی میں بھی سفرنہیں کرسکتے تھے۔ انہوں نے بخشی صاحب کو ملاقات کیلئے بلایا جنہیں یہ لگا کہ نصرت صاحب انا پرستی میں خود ملاقات کیلئے نہیں آرہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملاقات نہ ہونے کے سبب بخشی صاحب گانا لکھ کے بھیجتے اورنصرت صاحب اسے مستردکردیتے، نصرت صاحب دھن بنا کربھیجتے تو بخشی صاحب بولتے یہ بکواس ہے، یہ سارا سلسلہ 15 سے 20 دن چلا اور ایک دن نصرت صاحب نے کہا کہ مجھے اٹھاو اورلیکرچلو۔

اداکارکے مطابق بخشی صاحب پہلی منزل پررہائش پزیر تھے، انہیں 8 آدمی وہاں لیکرجارہے تھے اور جب بخشی صاحب نے باہرآکران کی مشکل دیکھی تو رو پڑے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ میری انا احمقانہ تھی، اس کے بعد انہوں نے خود جا کر مہینہ بھرنصرت صاحب کے ساتھ ہی قیام کیا۔

بطور قوال دم مست قلندر مست مست سے ملک گیر شہرت حاصل کرنے والے نصرت فتح علی خان نے قوالی کی صنف میں مغربی انداز متعارف کروایا جسے دنیا بھر میں بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔ انہوں نے ملکی وغیرملکی لا تعداد ایوارڈز اپنے نام کیے۔

قوالیوں کے 125 البم ریلیز کیے جانے کی وجہ سے نصرت فتح علی خان کا نام گنیز بک آف دی ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا گیا جبکہ آسکرایوارڈ یافتہ بھارتی موسیقار اے آر رحمان نے ایک انٹرویو میں نصرت فتح علی خان سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے فن میں صرف خان صاحب کے شیدائی ہیں، انہیں اپنا روحانی استاد تصورکرتے ہیں اورانہی کی تقلید کرتے ہیں۔

نصرت فتح علی 16 اگست1997 کو جگر کے عارضے کے سبب لندن کےکرامویل اسپتال میں انتقال کرگئے تھے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More