مفتی منیب الرحمن کا مقتدرہ کے فیصلہ سازوں کو مشورہ

بول نیوز  |  Oct 20, 2021

سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمٰن نے کہا ہے کہ میرا مقتدرہ کے فیصلہ سازوں کومخلصانہ مشورہ ہے کہ تحریک کی قیادت کے ساتھ براہِ راست مکالمہ کریں اور اس مسئلے کا پرامن حل نکالیں۔

تفصیلات کے مطابق سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمٰن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ وفاقی وزیر مذہبی امور، وزیر داخلہ اور گورنر پنجاب نے ر مضان المبارک کی صبح صادق کو میڈیا کے سامنے تحریری دستخط شدہ معاہدے کا اعلان کیا تھا، اس وقت ان کا دھرنا ختم ہوا اور پھر حکومت نے جو ریاستِ مدینہ کا لیبل لگائے پھرتی ہے معاہدے کی صریح خلاف ورزی کی،اُس کے وزراء جھوٹے ثابت ہوئے۔

سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی نے کہا کہ پولس انتقام پر اتر آئی اور تحریک لبیک کے رہنما اب تک جیلوں میں ہیں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ اہل سنّت کے ایک وقیع ادارے جامعہ محمدیہ غوثیہ ضیاء العلوم،صدر راولپنڈی کے ستّر سالہ معمّر شیخ الحدیث والتفسیر اورمہتمم علامہ پیر سید محمد ضیاء الحق شاہ صاحب اور ان کے چاروں عالم صاحبزادگان اورمتعدد علماء کو شیڈول IVمیں ڈال رکھا ہے۔ کیا ان سے ریاست کی سلامتی کو خطرہ ہے؟

مفتی منیب الرحمٰن نے یہ بھی کہا کہ چھ ماہ انتظار کے بعد ان کے کارکن پھر دھرنا دیے بیٹھے ہیں، حکومت کے ایسے ہی رویے انتہا پسندی کو جنم دیتے ہیں اور نفرتوں کے بیج بوتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو ریاست اور دستورِ پاکستان کے وفادار ہیں ۔

سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کا کہنا تھا کہ میرا مقتدرہ کے فیصلہ سازوں کومخلصانہ مشورہ ہے کہ تحریک کی قیادت کے ساتھ براہِ راست مکالمہ کریں اور اس مسئلے کا پرامن حل نکالیں، وطنِ عزیز پہلے ہی داخلی اور خارجی طور پر بے پناہ مشکلات کا شکار ہے ۔

 مفتی منیب الرحمٰن کا یہ بھی کہنا تھا کہ معاشی بدحالی اور بے روزگاری انتہا کو پہنچی ہوئی ہے، ایسے میں معمولی سی بے تدبیری منفی نتائج کی حامل ہوسکتی ہے۔

سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمٰن کا مزید کہنا تھا کہ مکالمے جیلوں میں نہیں ہوتے، ان کی محبوس قیادت کو کسی ریسٹ ہاؤس میں یکجا کر کے وقار اور احترام کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں، دنیا میں ہر مسئلے کا حل موجود ہے، غالب نے کہا تھا کہ دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہے۔

Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More