بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کے برطانوی ویزے کی منسوخی کی وجوہات کیا تھیں؟

بی بی سی اردو  |  Nov 28, 2021

ملک ریاض
Getty Images
ملک ریاض کا شمار پاکستان کے امیر ترین افراد میں کیا جاتا ہے اور وہ بحریہ گروپ آف کمپنیز کے بانی ہیں

برطانیہ کی کورٹ آف اپیل (سپریم کورٹ کے بعد ملک کی دوسری بڑی عدالت) نے پاکستان کی اہم کاروباری شخصیت ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کے ویزے منسوخ کرنے کے برطانوی وزارت داخلہ کے اپر ٹریبونل کے فیصلے کو درست قرار دیا ہے۔

جمعے کو جاری ہونے والے فیصلے میں خاتون جج نیکولا ڈیویز نے تفصیل سے اس فیصلے کی وجوہات بیان کی ہیں کہ انھوں نے کس بنیاد پر ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کے ویزے کی منسوخی کو درست قرار دیا ہے اور کیسے یہ دونوں باپ بیٹا برطانوی عوام کے مفاد میں برطانیہ کی سر زمین پر قدم رکھنے کے قابل نہیں رہے۔

اس فیصلے سے بینچ میں شامل دیگر دو ججز نے بھی اتفاق کیا ہے۔ ان ججز میں جسٹس نوگی اور جسٹس سنوڈن شامل ہیں۔

برطانوی عدالت کے فیصلے میں بتائی گئیں وجوہات جاننے سے قبل اس پورے مقدمے کا پس منظر جاننا از حد ضروری ہے۔

ملک ریاض، علی ریاض کے ویزے منسوخی کے فیصلے کا پس منظر ہے کیا؟

دو برس قبل یعنی 2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے ملک ریاض کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر ان تحقیقات کے نتیجے میں ملک ریاض نے مقدمہ لڑنے کے بجائے برطانوی تحقیقاتی ایجنسی سے تصفیہ کر لیا۔

برطانوی ایجنسی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ملک ریاض حسین اور ان کا خاندان تصفیے کے تحت جو 19 کروڑ پاؤنڈ کی رقم یا اثاثے دے گا ان میں منجمد کیے جانے والے بینک اکاؤنٹس میں موجود رقم کے علاوہ مرکزی لندن کے متمول علاقے میں واقع ون ہائیڈ پارک پلیس نامی عمارت کا ایک اپارٹمنٹ بھی شامل ہے، جس کی مالیت پانچ کروڑ پاؤنڈ کے لگ بھگ ہے۔

برطانوی ججز کے مطابق سنہ 2017 میں لندن کے بینک میں ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض ملک اور ان کی اہلیہ مبشرہ علی ملک کے پاس 56,917,357.00 پاؤنڈ تھے۔ دسمبر تک اسی بینک کے اکاؤنٹ میں یہ رقم بڑھ کر 138,505,397.00 پاؤنڈ ہو گئی۔ برطانونی جج جسٹس نکولا ڈیویز کے مطابق ایک خاص وقت میں برطانیہ میں ملک ریاض کے خاندان کے اثاثوں میں اس قدر اضافہ بہت زیادہ مشکوک ہے اور اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ یہ اضافہ حکومت پاکستان سے سزا سے بچنے کی خاطر کیا گیا، جب وہاں کچھ سیاسی اور جوڈیشل پیشرفت میں بحریہ ٹاؤن کا کردار مشکوک ہو گیا تھا۔ برطانوی جج کے مطابق پاکستانی اداروں کی نظروں سے بچا کر اس تناظر میں یہ پیسہ برطانیہ تک پہنچایا گیا اور اب یہاں یعنی لندن میں ان اثاثوں کی قابل وصول مالیت 119,426,532.82 پاؤنڈ بنتی ہے۔ ملک ریاض کا این سی اے کے ساتھ تصفیہ 2019 میں ہوا جس کی تفصیلات این سی اے کی پریس ریلیز سے حاصل ہوتی ہیں۔

این سی اے نے بتایا کہ اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاست پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کر دیا جائے گا۔ این سی اے نے تو اپنا وعدہ پورا کیا مگر یہ رقم پاکستان کے قومی خزانے میں پہنچنے کے بجائے سیدھی سپریم کورٹ کے اس اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں ملک ریاض بحریہ ٹاؤن کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 بلین روپے کی ایک تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔

یعنی جو رقم ریاست پاکستان کی ملکیت تھی وہ ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ ہوئی۔ ملک ریاض سے این سی اے نے جو معاہدہ کیا اس کی تفصیلات رازداری میں رکھی گئی ہیں اور این سی اے کے بعد حکومت پاکستان نے بھی یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ ریاست پاکستان کا پیسہ دوبارہ کیسے ملک ریاض کے استعمال میں لایا گیا۔

این سی اے کی وضاحت کے بعد ملک ریاض کی جانب سے ٹوئٹر پر شائع کیے گئے پیغام میں کہا گیا ہے کہ کچھ عادی ناقدین این سی اے کی رپورٹ کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں اور ان کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے سپریم کورٹ کو کراچی بحریہ ٹاؤن مقدمے میں 19 کروڑ پاؤنڈ کے مساوی رقم دینے کے لیے برطانیہ میں قانونی طور پر حاصل کی گئی ظاہر شدہ جائیداد کو فروخت کیا۔'

ملک ریاض سے تازہ ترین فیصلے سے متعلق ان کا مؤقف جاننے کے لیے جب بی بی سی نے رابطہ کیا تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی بحریہ ٹاؤن کے کسی ترجمان نے بھی اس فیصلے پر کوئی تبصرہ کیا۔

ویزہ منسوخی کب ہوتی ہے؟

مزمل مختار لندن میں وکالت کرتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ برطانیہ میں کسی بھی شخص کو عمومی نوعیت کے پیش نظر بھی ویزہ دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے یا اس کا ویزہ منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ مزمل مختار کے مطابق کورٹ آف اپیل کے بعد اب ملک ریاض اور ان کے خاندان کے لیے مزید ریلیف کے امکانات بہت کم رہ گئے ہیں کیونکہ کورٹ آف اپیل کے بعد بہت کم ہی امیگریشن سے متعلق کوئی فیصلہ سپریم کورٹ تک پہنچتا ہے۔

برطانوی ججز کے فیصلے کے مطابق ملک ریاض اور ان کے بیٹے کے خلاف بھی ان قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی ہے یعنی ان کے برطانیہ میں قیام کو برطانوی عوام کے مفاد کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔

جب ملک ریاض نے این سی اے سے معاہدہ کر لیا اور پیسے دینے پر آمادگی ظاہر کر دی تو اس کے بعد ان کے خلاف کارروائی رکی نہیں اور برطانوی وزارت داخلہ نے ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کے دسمبر 2019 میں ہی ویزے منسوخ کر دیے تھے۔

وزارت داخلہ کے اس فیصلے کو ملک ریاض نے وزارت داخلہ کے اپر ٹریبونل (ایک ایسا فورم جو ہائی کورٹ کے مساوی ہوتا ہے) کے سامنے چیلنج کیا مگر وہاں سے بھی فیصلہ ان کے خلاف آیا۔ اس کے بعد ملک ریاض اس اپر ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف کورٹ آف اپیل کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

ملک ریاض اور ان کے بیٹے کے پاس برطانیہ کے دس سال کے لیے ’ملٹی انٹری ویزے‘ تھے۔

ملک ریاض کی ویزے کی یہ مدت 28 جولائی 2021 کو ختم ہو گئی ہے جبکہ علی ریاض کا ویزہ بھی رواں برس مئی میں زائد المعیاد ہو گیا تھا۔

مزمل مختار کے مطابق اب ملک ریاض یا ان کے خاندان کے لیے مستقبل میں برطانیہ آنا تقریباً خواب ہی رہ گیا ہے۔ کورٹ آف اپیل کے فیصلے پر رائے دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ این سی اے کے ساتھ 190 ملین پاؤنڈ کا معاہدہ اور سپریم کورٹ آف پاکستان کا کراچی بحریہ ٹاؤن سے متعلق فیصلہ ملک ریاض اور ان کے بیٹے کے لیے مشکلات کا سبب بنا۔

یاد رہے کہ برطانیہ میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے خلاف بھی تحقیقات کا آغاز ہوا تھا مگر انھیں این سی اے نے تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔

ماہر قانون مزمل مختار کے مطابق اگر شہباز شریف یا ان کے خاندان کا کوئی فرد بھی این سی اے سے معاہدہ کر لیتا تو پھر اس کا نتیجہ بھی ان کے ویزہ منسوخی کی صورت میں نکلتا۔

ملک ریاض، بحریہ ٹاؤن
BBC

برطانوی عدالتوں میں بحریہ ٹاؤن کی گونج

برطانیہ نے ملک ریاض اور ان کے خاندان کے خلاف تحقیقات کے بعد معاہدہ تو ضرور کیا مگر اس معاہدے کے بعد ملک ریاض کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا اور برطانوی وزارت داخلہ ان کے خلاف مزید کارروائی عمل میں لائی۔

ملک ریاض اور ان کے خاندان کے خلاف یہ وجوہات دی گئی ہیں کہ وہ اور ان کی ملکیت میں کمپنی بحریہ ٹاؤن بدعنوانی سمیت غیر قانونی اور مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

برطانوی ججز نے تفصیلات کے ساتھ این سی اے کے فیصلے کا حوالہ دیا اور پھر ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کے خلاف پاکستان میں عدالتی فیصلوں کا بھی تفصیل سے حوالہ دیا۔

برطانوی ججز کے مطابق کراچی بحریہ ٹاؤن میں ملک ریاض نے سپریم کورٹ کو 460 بلین روپے دینے کی حامی بھری ہے، جس سے بحریہ ٹاؤن کے غیر قانونی اقدامات میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد ملتے ہیں۔

برطانوی ججز کے مطابق کوئی وجہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے کراچی بحریہ ٹاؤن سے متعلق چار جولائی 2018 کے فیصلے کو تسلیم نہ کیا جائے جو قانونی اور ایک مہذبانہ طریقہ اختیار کرتے ہوئے ججز نے سنایا۔ خیال رہے کہ کراچی بحریہ ٹاؤن سے متعلق یہ فیصلہ جسٹس اعجاز افضل خان (جو اب ریٹائرڈ ہو چکے ہیں) کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سنایا تھا۔ برطانوی عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس اعجاز کے بینچ کے فیصلے سے یہ واضح نے نتیجہ نکلتا ہے کہ اس سارے معاملے میں ملک ریاض، علی ریاض اور بحریہ ٹاؤن نہ صرف 'فنانشل مس کنڈکٹ' کے مرتکب ہوئے ہیں بلکہ وہ بدعنوانی میں بھی ملوث رہے ہیں۔ برطانوی ججز نے اپنے فیصلے میں این سی اے کے ساتھ ملک ریاض کے معاہدے کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اثاثوں کو منجمد کرنے والے فیصلے کو اس وجہ سے ختم کیا گیا تھا کہ ملک ریاض اور ان کے بیٹے نے 190 ملین پاؤنڈ جیسی خطیر رقم دینے پر آمادگی ظاہر کر دی تھی۔

برطانوی ججز کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے جسٹس اعجاز افضل اور جسٹس فیصل عرب کی رائے کی بنیاد مخصوص اداروں اور کمپنیوں کا مخصوص زمین (ہتھیانے) جیسی سرگرمیوں ملوث ہونا تھا۔

برطانیہ کی وزارت داخلہ نے اس فیصلے کو اس وجہ سے اہمیت دی کہ اس میں بڑے سنجیدہ نوعیت کے تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔

برطانوی عدالت کے مطابق پاکستانی ججز کے کراچی سے متعلق اس فیصلے میں ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 16896 ایکڑ کی زمین کی قیمت کا تخمینہ لگایا گیا جس کی قیمت ملک ریاض نے قسطوں میں ادا کرنے کی حامی بھری۔

پاکستان کی سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی ججز نے مزید کہا کہ وہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں کہ بحریہ ٹاؤن نے غیر قانونی سرگرمیوں کے ذریعے پیسہ بنایا۔

برطانوی عدالت کے فیصلے میں پاکستانی ججز کے بحریہ ٹاؤن سے متعلق دیے گئے فیصلوں کے متعدد حوالہ جات دیے گئے ہیں اور پھر ملک ریاض، علی ریاض اور ان کی کمپنی بحریہ ٹاؤن کی جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق مقدمے میں بھی ملوث ہونے اور پھر ڈیل کرنے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

مزمل مختار کے مطابق کورٹ آف اپیل نے سپریم کورٹ کے فیصلے میں بحریہ ٹاؤن سے متعلق ججز کی رائے کو بہت اہمیت دی ہے اور اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھا کہ اس سارے معاملے میں بدعنوانی جیسے اقدامات کا سہارا لیا گیا ہے اور پیسے کے زور پر غیر قانونی اقدامات کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

برطانیہ میں ’ناجائز دولت‘ کا کھوج لگانے والا یونٹ

’بحریہ ٹاؤن کو عدالتی رعایت پر وفاقی حکومت کو اعتراض نہیں ہوگا‘

ملک ریاض سے وصول کیے گئے کروڑوں پاؤنڈ پاکستان منتقل

ملک ریاض نے برطانوی عدالت کو اپنے دفاع میں کیا بتایا؟

ملک ریاض کے وکلا نے برطانوی ججز کو اپنے دفاع میں بتایا کہ فیصلے میں متعدد جگہوں پر جعلی بینک اکاونٹس مقدمے میں بننے والی جے آئی ٹی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جو کہ محض ایک استغاثہ کی دستاویزات سے زیادہ کچھ نہیں۔ ملک ریاض کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلوں میں بھی ان کے خلاف کوئی فوجداری کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

ملک ریاض نے برطانوی عدالتوں کے سامنے نیب کے ریفرنس کو بھی ایک عبوری نوعیت کی تحقیقات کہا ہے۔

برطانوی ججز کے مطابق یہ بات درست ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے بعد ملک ریاض کو فوجداری نوعیت کے مقدمات کا سامنا نہیں ہے مگر ان فیصلوں میں ان کے کردار اور ان کی کمپنی کے بدعنوانی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے بارے میں بہت کچھ ملتا ہے۔

مزمل مختار کے مطابق کورٹ آف اپیل نے واضح طور پر لکھا کہ ملک ریاض کے خلاف سپریم کورٹ کے ججز نے تمام مراحل کے بعد رائے قائم کی ہے اور اس رائے سے ملک ریاض، ان کے بیٹے اور ان کی کمپنی بحریہ ٹاؤن سے متعلق بہت کچھ پتا چلتا ہے کہ وہ کیسے غیر اخلاقی اور قانون کو نظر انداز کر کے اپنے معاملات آگے بڑھاتے ہیں اور سیاسی اثرورسوخ بھی استعمال کرتے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More