مقوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ،الجزیرہ کی خاتون صحافی قتل

سماء نیوز  |  May 11, 2022

عالمی معروف نشریاتی ادارے الجزیرہ کی خاتون صحافی شیریں ابوکلیح کو اسرائیلی فوجیوں نےبدھ کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ شیریں ابوکلیح جینین سٹی میں اسرائیلی حملے کی کوریج کررہی تھیں کہ اسرائیلی فوجی نے ان پرفائرنگ کردی۔

اس واقعے میں مقبوضہ بیت المقدس میں مقیم القدس اخبار کا فلسطینی رپورٹر بھی زخمی ہوا جس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

فلسطینی وزراتِ صحت کے ترجمان کے مطابق دونوں صحافی اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ کی زد میں آئے۔ واقعے کی فوٹیج میں ابوکلیح کو نیلے رنگ کی فلیک جیکٹ میں دیکھا جاسکتا ہے جس پر واضح طور پر لفظ ’’پریس‘‘ لکھا ہواہے۔ شیریں ابو کلیح عربی زبان کے چینل کی معروف رپورٹرتھیں۔

چینل انتظامیہ نے اسرائیلی فوجیوں پر الزام عائد کیا کہ اُنہوں نے جان بوجھ کر شیریں کو ہدف بنا کر قتل کیا۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جینین میں آپریشن کے دوران فلسطین کے مسلح برداردستے حملہ آور تھے جنہیں پسپا کرنے کے لئے جوابی فائرنگ جاری تھی اور اس فائرنگ کی زد میں دونوں صحافی بھی آگئے۔

ترجمان نے خدشہ ظاہر کیا کہ مذکورہ دونوں صحافی اسرائیلی فوجیوں کی گولیوں کا نہیں بلکہ فلسطینی بندوق برداروں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔

واضح رہےکہ اسرائیل نے 1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ کے بعد سے اس علاقے پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ فلسطینی چاہتے ہیں کہ یہ علاقہ ان کی مستقبل کی ریاست کا اہم حصہ بنے۔ اسرائیلی فوج کے زیر تسلط علاقے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔ اسرائیل نے مغربی کنارے میں 130 سے ​​زائد بستیاں تعمیرکیں جن میں تقریباً 500,000 یہودی آباد کار آباد ہیں، جن کے پاس مکمل اسرائیلی شہریت ہے۔

اسرائیل طویل عرصے سے الجزیرہ کی کوریج پر تنقید کرتا رہا ہے لیکن حکام عام طور پر اس ادارے کے صحافیوں کوآزادانہ کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

اس کےعلاوہ الجزیرہ کی ایک اوررپورٹر، گیوارا بودیری کوگزشتہ سال یروشلم میں ایک احتجاج کے دوران مختصر طور پر حراست میں لیا گیا تھا اور اس کا ہاتھ ٹوٹنے کا علاج کیا گیا تھا، جس کا الزام الجزیرہ نے پولیس کے ناروا سلوک پر لگایا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More