امریکا کا5تنظیموں کے نام دہشتگردوں کی فہرست سے نکالنے کافیصلہ

سماء نیوز  |  May 16, 2022

امریکا نے غیرملکی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست سے 5 ایسے انتہاء پسند گروہوں کے نام نکالے کا فیصلہ کیا ہے جن کے بارے میں خیال ہے کہ اب وہ فعال نہیں ہیں۔

ان انتہاء پسند گروہوں میں کئی ایسی تنظمیں بھی شامل ہیں جو کبھی بڑے خطرات کا سبب بنیں اور ان کی کارروائیوں میں ایشیا، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں لوگوں کی اموات بھی ہوئی تھیں۔

کے مطابق جن گروہوں کے نام غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالے گئے ہیں ان میں اسپین اور فرانس میں فعال رہنے والا علیحدگی پسند باسک گروپ (ای ٹی اے)، جاپان کا ایک فرقہ اوم شنریکیو، بنیاد پرست یہودی گروپ کہانے کیچ اور مجاہدین شوریٰ کونسل سمیت دو اسلامی گروپ شامل ہیں جو اسرائیل، مصر اور فلسطینی علاقوں میں متحرک تھے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے دہشت گرد گروپوں کی فہرست میں ترمیم سے متعلق جمعہ کو کانگریس کو آگاہ کیا۔

واضح رہے کہ کانگریس میں تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونیوالے جوہری معاہدے کو بچانے کی خاطر ایران کے ’پاسداران انقلاب‘ کو امریکا کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کرنے سے متعلق بحث جاری ہے۔

ایران کے ’پاسداران انقلاب‘ کو امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دہشت گرد قرار دیا تھا، تاہم اس سے متعلق جمعہ کو جاری ہونے والے سرکاری اعلامیے میں ذکر نہیں ہے۔

محکمۂ خارجہ کے مطابق ان 5 گروہوں کے نام دہشت گرد تنطیموں کی فہرست سے باضابطہ طور پر آئندہ ہفتوں میں ہٹا دیئے جائیں گے، ان تنظیموں کے نام فہرست سے خارج کرنے کے اعلامیے پر امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے دستخط موجود ہیں۔

دہشت گردی کی فہرست سے تنظیموں کے نام نکالنے کی عمومی وجہ یکساں ہے۔ وزیرِ خارجہ بلنکن نے کہا ہے کہ یہ تعین قانونی طور پر ہر 5 سال بعد ہونے والے انتظامی جائزے پر مبنی ہے، جائزے میں اس بات کو مدِ نظر رکھا جاتا ہے کہ آیا نامزد گروپ اب بھی فعال ہیں یا نہیں، اور کیا انہوں نے گزشتہ 5 برس میں دہشت گردی کی کارروائیاں کی ہیں اور کیا کسی تنظیم کو فہرست سے خارج کرنے یا برقرار رکھنے کا معاملہ امریکہ کی قومی سلامتی کے مفاد میں ہوگا۔

اس معاملے سے آگاہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلے کئی ماہ قبل قانون سازوں سے مشاورت کے بعد کئے گئے کہ آیا تازہ ترین 5 سالہ جائزوں کو آگے بڑھانا چاہئے، اس سے قبل 15 گروہوں کو فہرست سے نکالا گیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More