ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بہتری، ’وقتی طور پر ریلیف‘

اردو نیوز  |  Aug 16, 2022

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بہتری کا تسلسل کاروباری ہفتے کے دوسرے روز منگل کو بھی رپورٹ کیا جا رہا ہے۔

انٹر بینک میں گزشتہ ماہ کے آخری دنوں میں 239 روپے پر ٹریڈ کرنے والا ڈالر اس وقت 213 روپے 48 پیسے پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے کے مثبت جواب اور تحریری معاہدے کی تصدیق کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہو رہا ہے۔ پاکستان سٹاک ایکس چینج میں تیزی کا رجحان ہے اور 100 انڈیکس 43 ہزار پوائنٹس کی سطح پر موجود ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق وقتی طور پر کچھ ریلیف ضرور ملا ہے لیکن مستقل حل کے لیے پیسے کمانے کے ذرائع بڑھانا ہوں گے۔

فاریکس ڈیلرز کے مطابق منگل کے روز مارکیٹ کے آغاز سے ہی ڈالر کی گراوٹ کا سلسلہ جاری رہا۔ کاروبار کے ابتدائی دو گھنٹوں میں ڈالر کی طلب و رسد میں نمایاں کمی رپورٹ ہوئی ہے۔

اس وقت مارکیٹ میں ڈالر کے فروخت کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے جبکہ خریدار کم ہیں۔ فاریکس ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ٹریڈنگ کے پہلے سیشن میں ڈالر کی قیمت میں 58 پیسے کی کمی رپورٹ ہوئی ہے۔

گزشتہ روز انٹر بینک میں ڈالر 213 روپے 98 پیسے پر بند ہوا تھا جبکہ اس وقت ڈالر 213 روپے 48 پیسے پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان سٹاک ایکس چینج میں بھی منگل کے روز تیزی کا رجحان برقرار رہا۔ معاشی ماہر عبدالعظیم نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ملک میں سیاسی محاز آرائی اور مشکل معاشی صورتحال میں روپے میں گراوٹ کی وجہ سے سرمایہ کار گزشتہ ماہ محتاط نظر آئے جس کا براہ راست اثر مارکیٹ پر بھی پڑا اور انڈیکس 42 ہزار کی سطح سے 40 ہزار پوائنٹس کی سطح پر رپورٹ کیا گیا۔‘

معاشی ماہر خرم شہزاد سمجھتے ہیں کہ عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے قرض کی قسط رواں ماہ میں ملنے کی خبروں کے بعد دوست ممالک کی جانب سے پیسے ملنے کے امکانات نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے۔ روپے کی قدر میں بہتری کے ساتھ ساتھ اسٹاک مارکیٹ میں بھی بہتری رپورٹ ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’قرض کے ساتھ ساتھ ملک میں پیسے کمانے کی صلاحیت بڑھانے کی بھی ضرورت ہے، امپورٹ بل میں کمی اور ایکسپورٹ میں اضافے سے ہی معیشت کو مضبوط سہارا ملے گا۔‘

منگل کے روز کاروباری اوقات کے پہلے حصے میں پی ایس ایکس 100 انڈیکس 203 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 43 ہزار 825 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے جبکہ ابھی دوسرا سیشن باقی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More