سوشل میڈیا پرانفلوئنسر : اب نوجوان خلاباز بننے کی بجائے یوٹیوبر بننا چاہتے ہیں: سروے

بی بی سی اردو  |  Aug 16, 2022

Getty Images

نوجوان کے لیے آج کل سب سے زیادہ پسندیدہ کیرئیر سوشل میڈیا پرانفلوئنسر بننا ہے۔ لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہے، اس راہ میں تنخواہ میں فرق، کام کی تھکاوٹ، غیر یقینی صورت حال اور بہت کچھ ہے۔

یہ مضمون دی کنورسیشن پر شائع ہوا تھا اور کریئٹو کامن لائسنس کے تحت اسے دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔ اس مضمون کی مصنفہ نینا ولمنٹ یونیورسٹی آف یارک میں ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں۔

سنہ 2019 میں کیے گئے ایک عوامی سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ بچے خلا باز بننے کی بجائے یوٹیوبر بننا چاہتے ہیں۔

اس سروے کے نتائج سے میڈیا میں 'آج کل کے بچے' کے عنوان سے بہت سی شہ سرخیاں بنیں۔ لیکن اس میں حیرت کی بات نہیں ہے کہ برطانیہ میں 13 لاکھ نوجوان سوشل میڈیا پر مختلف نوعیت کا مواد تیار کر کے آمدنی کمانا چاہتے ہیں۔

سنہ 2021 کے ایک تخمینے کے مطابق عالمی سطح پر سوشل میڈیا انفلوئنسر مارکیٹ کا مالی حجم 13.8 بلین ڈالرز تھا۔

انفرادی سطح پر زوئیلا اور ڈیلیشیسلی ایلا جیسے سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی بالترتیب کل دولت 47 لاکھ پاؤنڈز اور 25 لاکھ پاؤنڈز ہے۔

اٹھارہ سے 26 برس کی عمر کے تقریباً تین لاکھ نوجوانوں کا پہلے ہی آمدن کا واحد ذریعے سوشل میڈیا پر مختلف قسم کا مواد تیار کرنا ہے۔

سوشل میڈیا پر جس طرز زندگی کی تشہیر کی جاتی ہے وہ بہت ہی دلکش ہے لیکن کیا سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا کرئیر قابل تقلید ہے۔

بیرونی چمک دمک کے پیچھے غیر یقینی آمدن، تنخواہ میں جنس کے لحاظ سے فرق، نسل اور معذوری اور ذہنی صحت جیسے مسائل ہیں۔ ٹراول انفلوئنسرز اور کنٹینٹ تیار کرنے والوں پر اپنی تحقیق کے دوران میں نے ان اثرات کا مشاہدہ کیا ہے اور میرا خیال ہے کہ جو نوجوان انفلوئنسرز بننا چاہتے ہیں انھیں ان سے آگاہ رہنا چاہیے۔

کامیاب انفلوئنسر افراد سب سے پہلے یہ دعویٰ کریں گے کہ کوئی بھی اسے اپنا میدان عمل بنا سکتا ہے اور اس انڈسٹری میں آ سکتا ہے۔ لو آئی لینڈ کے مقابلے میں شرکت سے انفلوئنسر بننے والی مولی مے ہیگ کو اس بات کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا گیا جب انھوں نے یہ کہا کہ ہر ایک کے پاس 'دن میں ایک جیسے 24 گھنٹے ہوتے ہیں' جبکہ حقیقت میں بہت کم لوگ انفلوئنسر کے طور پر اسے مالی منفعت کا سودا بنا پاتے ہیں۔

سوشل میڈیا کی معیشت کی ماہر بروک ایرن ڈفی نے فیشن بلاگرز، بیوٹی ولاگرز اور ڈیزائنرز کے کریئر پر تحقیق کی ہے۔ انھوں نے اپنی کتابNot Getting Paid to Do What You Love میں ایک بہت بڑے فرق کو واضح کیا ہے جو انفلوئنسر کے کریئر کو منافع بخش سمجھتے ہیں۔ انفلوئنسر بننے کی کوشش کرنے والے زیادہ تر لوگ کے اپنے پروجیکٹ کے لیے جنون کے ساتھ جو مواد تخلیق کرتے ہیں وہ اکثر کارپوریٹ برانڈز کے لیے مفت میں فراہم کردہ کام بن جاتے ہیں۔

برطانوی پارلیمنٹ کی ڈیجیٹل، کلچر، میڈیا اینڈ سپورٹ (DCMS) کمیٹی کی اپریل سنہ 2022 کی ایک رپورٹ میں انفلوئنسر کی صنعت میں تنخواہ کے فرق کو ایک اہم مسئلہ کے طور پر شناخت کیا گيا ہے۔ اس شعبے میں جنس، نسل اور معذوری کی بنیاد پر تنخواہوں میں بڑا فرق نظر آتا ہے۔ ڈی سی ایم ایس رپورٹ میں عالمی تعلقات عامہ کی ایک کمپنی ایم ایل ایس(MSL ) گروپ کے 2020 کے مطالعے کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں پتا چلا ہے کہ سفید فاموں اور سیاہ فاموں کی تنخواہوں کے درمیان 35 فیصد کا نسلی فرق موجود ہے۔

اے جی ایم ٹیلنٹ میں سینیئر ٹیلنٹ اور شراکت دار کے رہنما ادیسووا اجائی نے انفلوئنسر پے گیپ کے نام سے انسٹاگرام پر ایک اکاؤنٹ بنایا تاکہ اس فرق کو اجاگر کر سکیں۔ یہ اکاؤنٹ ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے جہاں انفلوئنسر گمنام طور پر برانڈز کے ساتھ تعاون کرنے کے اپنے تجربات کے بارے میں کہانیاں شیئر کرتے ہیں۔ نسلی تفاوت کے علاوہ، اکاؤنٹ نے معذوروں اور LGBTQ پلس انفلوئنسر افراد کی تنخواہوں کے فرق کو بھی ظاہر کیا ہے۔

Getty Images

ڈی سی ایم ایس (DCMS) کی رپورٹ میں 'روزگار کی حمایت اور تحفظ کی وسیع کمی' کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ زیادہ تر انفلوئنسرز اپنا ہی کام کرتے ہیں یعنی سیلف امپلائیڈ ہیں اور اس طرح انھیں مستقل نوکری کے مقابلے میں غیر مستقل آمدنی اور تحفظ کی کمی کا سامنا ہوتا ہے۔ یعنی انھیں بیماری یا چھٹی میں تنخواہ جیسی سہولت حاصل نہیں ہوتی ہے۔

انفلوئنسر کے میدان میں صنعتی معیارات کی عدم موجودگی اور تنخواہ کے متعلق کم شفافیت کی وجہ سے روزگار کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ انفلوئنسرز کو اکثر اس قسم کی باتوں کے لیے مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی قیمت خود طے کریں اور اپنے کام کی اجرت کا تعین کریں۔ نتیجتاً مواد تخلیق کرنے والے اکثر اپنی تخلیقی محنت کو کم اہمیت دیتے ہیں، اور بہت سے لوگ تو مفت میں ہی کام کرتے رہ جاتے ہیں۔

پلیٹ فارمز کو قوت بخشنا

انفلوئنسرز اکثر الگورتھم کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں کیونکہ پس پردہ الگورتھم پر مبنی کمپیوٹر پروگرام یہ تعین کرتے ہیں کہ کون سی پوسٹس، کس ترتیب میں، صارفین کو دکھائی جائیں گی۔ پلیٹ فارم اپنے الگورتھم کے بارے میں بہت کم تفصیل شیئر کرتے ہیں، تاہم بالآخر وہی یہ طے کرتے ہیں کون (انفلوئنسر) سوشل میڈیا پر کتنا نظر آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

خوبصورت نظر آنے کا شوق ’پارٹ ٹائم نوکری‘ بھی بن سکتا ہے

ترک انفلوئنسر پر جنسی کھلونوں کی تصاویر دکھانے پر مقدمہ

’انفلوئنسرز‘ کی چمک دمک سے بھرپور زندگی ماند کیوں پڑ رہی ہے؟

انسٹاگرام پر انفلوئنسرز کے ساتھ اپنے کام میں الگورتھم کی ماہر کیلی کوٹر اس بات پر روشنی ڈالتی ہیں کہ کس طرح انفلوئنسر کی تگودو سوشل میڈیا پر 'دکھائی دینے کا کھیل' بن جاتی ہے۔ انفلوئنسر پلیٹ فارم (اور اس کے الگورتھم) کے ساتھ کئی طریقوں سے ربط پیدا کرتے ہیں تاکہ انھیں دیکھایا جائے۔ اپنی تحقیق میں، میں نے محسوس کیا کہ انفلوئنسر ذاتی لمحات کو زیادہ سے زیادہ شیئر کرتے ہیں۔

نہ دکھائی دینے یعنی منظر سے غائب ہو جانے کا خطرہ انفلوئنسرو کو مستقل طور پر غیر محفوظ رکھتا ہے اور وہ پلیٹ فارم کو نئے مواد سے بھرنے کے لیے مسلسل دباؤ میں رہتے ہیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں، تو ان کی پوسٹ کو چھپا کر یا سرچ میں بہت نیچے دکھا کر انھیں الگورتھم کی طرف سے 'سزا' دی جا سکتی ہے۔

دماغی صحت کا بحران

آن لائن پر مسلسل موجودگی بالآخر انفلوئنسر کی صنعت کے سب سے زیادہ وسیع مسائل میں سے ایک کی طرف لے جاتی ہے اور یہ ذہنی صحت کے متعلق ہوتے ہیں۔ انفلوئنسرز دن یا رات کے کسی بھی وقت اپنے پلیٹ فارم، ورک سپیس اور سامعین سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے لیے، کام اور زندگی کے درمیان کوئی واضح دوری نہیں ہے۔ دکھائی نہ دینے کے خوف کی وجہ سے یہ انفلوئنسرز کے لیے ضرورت سے زیادہ کام کرنے اور دماغی صحت کے مسائل جیسے برن آؤٹ کا سامنا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

مواد کے تخلیق کاروں کی مستقل آن لائن موجودگی انھیں اہم آن لائن بدسلوکی کے خطرے سے بھی دو چار کر سکتی ہے۔ اس سلسلے میں یہ دونوں طرح سے ہو سکتے ہیں کہ وہ کیسے نظر آتے ہیں یا کیا کرتے ہیں (یا پوسٹ نہیں کرتے)، بلکہ کریئر کے طور پر انفلوئنسر کے منفی تاثرات کے معاملے میں بھی۔ آن لائن بدسلوکی ممکنہ طور پر ذہنی اور جسمانی صحت کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے جس میں ڈپریشن، بے چینی، جسمانی گڑبڑ اور کھانے میں گڑبڑ وغیرہ بھی شامل ہیں۔

اگرچہ انفلوئنسر بننا زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پرکشش لگتا ہے لیکن صنعت کے تاریک پہلوؤں کو اجاگر کرنے اور روزگار کے بہتر ضابطے اور اس شعبے میں ثقافتی تبدیلی کے ذریعے اسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More