شاہ رخ خان اپنی شرٹ سے کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟

اردو نیوز  |  Sep 26, 2022

بالی وُڈ کنگ شاہ رخ خان کی نئی فلموں کا جہاں مداح شدت سے انتظار کر رہے ہیں وہیں شاہ رخ خان بھی اپنی آنے والی فلم ’پٹھان‘ کے انتظار میں ہیں۔

اتوار کو بالی وُڈ کنگ نے ٹویٹ کیا کہ ’میں بھی پٹھان کا انتظار کر رہا ہوں۔‘

شاہ رخ خان نے ٹویٹ کے ساتھ بغیر شرٹ کی تصویر اپلوڈ کرتے ہوئے لکھا کہ ’آج میں اپنی شرٹ سے: تم ہوتی تو کیسا ہوتا۔۔۔۔ تم اس بات پر حیران ہوتی، تم اس بات پر کتنی ہنستی۔۔۔۔۔ تم ہوتی تو ایسا ہوتا۔۔‘

Me to My Shirt today:‘Tum hoti toh kaisa hota….Tum iss baat pe hairaan hoti,Tum iss baat pe kitni hansti…….Tum hoti toh aisa hota..’ Me also waiting for #Pathaan pic.twitter.com/EnLPXw9csA

— Shah Rukh Khan (@iamsrk) September 25, 2022

شاہ رخ خان اس تصویر کے ذریعے اپنی آنے والی فلم ’پٹھان‘ میں اپنے کردار کے حوالے سے بتا رہے ہیں کہ وہ اس میں کیسے نظر آئیں گے۔

شاہ رخ خان کی جانب سے شرٹ کے لیے ٹویٹ میں لکھی گئی شاعری دراصل 1981 میں امیتابھ بچن اور ریکھا کی فلم ’سلسلہ‘ کے گانے ’یہ کہاں آگئے ہم‘ میں استعمال کی جانے والی شاعری ہے۔

شاہ رخ خان کی 2023 میں تین فلمیں ریلیز ہو رہی ہیں۔

اگلے سال 25 جنوری کو’پٹھان‘ سینما گھروں کی زینت بنے گی۔

پٹھان کے بعد شاہ رخ خان کی فلم ’جوان‘ دو جون کو ریلیز ہوگی اور اس کے بعد سال کے آخر یعنی 22 دسمبر کو فلم ’ڈنکی‘ ریلیز کی جائے گی۔

شاہ رخ خان کی اس بغیر شرٹ کی تصویر پر مداح تبصرے کر رہے ہیں۔

سوراج سریش نے لکھا ہے کہ ’عمر صرف ایک عدد ہے، وہ ہمارے لیے ایک مثال ہیں، انھیں 50 کی دہائی میں بھی اتنا فٹ دیکھنا بہت اچھا لگ رہا ہے۔‘

Age is just a number! What an inspiration he is to all of us. It's amazing to see him this fit even in his 50s https://t.co/WlXIm8lH3K

— Suraj Suresh (@Suraj_Suresh16) September 25, 2022

نکھل کارن کہتے ہیں کہ ’اس پوسٹ کے بعد اب میرے سے پٹھان کے لیے مزید انتظار نہیں ہو رہا۔‘

سونیا سنگھ نے کہا کہ ’آپ نے ہمارا اتوار مزید بہتر بنا دیا ہے۔‘

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More