انڈیا میں ڈیٹنگ ایپ پر ’امریکی ماڈل‘ بن کر سینکڑوں خواتین سے پہلے دوستی اور پھر بلیک میل کر کے طویل عرصے تک رقوم بٹورنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق 23 سالہ تشار سنگھ بشٹ دن کے وقت اترپردیش کے علاقے نوئڈا میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا اور رات کو سوشل میڈیا پر ایسا ’امریکی ماڈل‘ بن جاتا جو ’سول میٹ کی تلاش میں‘ انڈیا آیا ہوا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو دہلی کے مشرقی علاقے شکارپور سے گرفتار کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق دہلی کے رہائشی تشار سنگھ نے بی بی اے کیا ہوا ہے اور پچھلے تین برس سے ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کر رہا ہے۔
اس نے ایک ایپ کے ذریعے حاصل کیے گئے انٹرنیشنل فون نمبر سے سوشل میڈیا کے مشہور ڈیٹنگ پلیٹ فارمز جیسے بمبل اور سنیپ چیٹ وغیرہ پر پروفائلز بنائیں، جن میں خود کو امریکی ظاہر کیا۔
پولیس کے مطابق ’پروفائل میں اس نے اپنی جگہ برازیل سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کی تصاویر اور سٹوریز لگائیں۔‘
نشانہ بننے والی خواتین میں سے زیادہ تر کی عمریں 18 سے 30 سال کے درمیان ہیں، جنہوں نے پروفائل دیکھنے کے بعد اس سے دوستی کی تھی۔
تشار خواتین کا اعتماد حاصل کرنے کے بعد انہیں فون نمبر اور تصاویر بھجوانے کا کہتا جبکہ اپنی جگہ اسی برازیلین نوجوان کی تصاویر بھجواتا۔
لڑکیوں کی جانب سے بھجوائی جانے والی تصویروں اور شارٹ ویڈیوز کو شروع میں وہ اپنی تفریح کے لیے استعمال کرتا رہا تاہم بعدازاں بلیک میلنگ کا ذریعہ بنا لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ’وہ لڑکیوں کو انہی کی ویڈیوز بھجوا کر بلیک میل کرتا اور ماہانہ بنیادوں پر رقوم وصول کرتا تھا۔‘
پولیس کے مطابق ’اگر کوئی خاتون پیسے دینے سے انکار کرتی تو مواد کو انٹرنیٹ پر وائرل کرنے یا ڈارک ویب کو فروخت کرنے کی دھمکی دی جاتی۔‘
رپورٹ کے مطابق ملزم نے بمبل پر 500، سنیپ چیٹ اور واٹس ایپ پر 200 سے زائد خواتین کے ساتھ تعلق رکھا اور تقریباً سب سے ہی تصویریں اور ویڈیوز کی شکل میں قابل اعتراض مواد منگوا کر ذخیرہ کیا جو کئی برسوں سے بلیک میلنگ کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔
یہ معاملہ اس وقت کھلا جب دہلی یونیورسٹی کی سیکنڈ ایئر کی طالبہ نے سائبر پولیس سٹیشن سے رابطہ کیا۔
انہوں نے پولیس کو بتایا کہ تشار کے ساتھ نجی چیٹس اور تصاویر کا تبادلہ ہوتا رہا۔
درخواست کے مطابق ’تصاویر دیکھنے کے بعد میں نے ملنے کا کہا تو وہ مسلسل ٹال مٹول کرتا رہا اور پھر میری پرائیویٹ ویڈیو بھیج کر رقم کا مطالبہ کیا۔‘
سائبر کرائم سٹیشن کا کہنا ہے کہ ’شروع میں طالبہ نے دباؤ میں آ کر تھوڑی رقم بھیج دی، تاہم اس کا مطالبہ بڑھتا گیا، جس پر اس نے گھروالوں کوبتا دیا جنہوں نے رپورٹ کا مشورہ دیا۔‘
سائبر پولیس سٹیشن کے اے سی پی اروند یادیو نے تکنیکی ٹیم کی مدد سے تشار سنگھ بشٹ کی آن لائن سرگرمیاں اور لوکیشن چیک کی اور پھر چھاپہ مارا۔
ان کا کہنا ہے کہ ملزم کے موبائل اور لیپ ٹاپ سے بڑی تعداد میں دیگر خواتین سے متعلق مواد بھی ملا اور مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔