یورپی طیارہ ساز کمپنی ایئر بس کا کہنا ہے کہ اس کے ہزاروں اے 320 طیاروں کو فوری طور پر سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے دُنیا بھر میں درجنوں ایئر لائنز کی پروازوں کا شیڈول متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ایئر بس کے مطابق اس کے لگ بھگ چھ ہزار اے 320 طیاروں کو فوری طور پر سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کی ضرورت ہے۔
ایئر بس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں متعلقہ ایئر لائنز کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور بیشتر طیاروں کی اپ ڈیٹس میں دو گھنٹے لگیں گے۔
ایئر بسنے اس دوران مسافروں کو پیش آنے والی مشکلات پر معذرت بھی کی ہے۔
پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے بھی اے 320 طیارے استعمال کرتی ہے، جس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایئر بس نے سافٹ ویئر ورژن 104 کو تبدیل کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ پی آئی اے کے کسی بھی جہاز میں یہ ورژن لوڈڈ نہیں لہٰذا ہمارے تمام طیارے محفوظ ہیں۔
یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (EASA) نے ہدایت کی ہے کہ اس مسئلے کے حل تک تمام اے 320 طیاروں کی پروازیں روک دی جائیں۔
یہ مسئلہ اکتوبر میں میکسیکو سے امریکہ جانے والے جیٹ بلیو کی پرواز کی ’اونچائی میں اچانک کمی‘ کے بعد سامنے آیا تھا۔ اس واقعے میں کچھ مسافر زخمی بھی ہو گئے تھے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ یہ واقعہ شدید شمسی تابکاری کی وجہ سے ہوا جس نے ہوائی جہاز کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال ہونے والے کمپیوٹر میں موجود ڈیٹا کو نقصان پہنچایا۔
امریکہ کی چار ایئر لائنز امریکن، ڈیلٹا، جیٹ بلیو اوریونائیٹڈ ایئر لائنز بھی ایئر بس اے 320 طیارے استعمال کرتی ہیں اور ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران ایئر بس کے اس اعلان کے بعد ہزاروں پروازوں کی منسوخی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
Reutersکئی ممالک میں فلائٹ آپریشن متاثر
ایئربس کے اس اعلان کے بعد دنیا بھر میں کئی ایئر لائنز نے ممکنہ سروس میں خلل کا اعلان کیا، جن میں امریکن ایئر لائنز، ڈیلٹا، ایئر انڈیا اور وِز ایئر شامل ہیں۔
امریکن ایئر لائنز کا کہنا ہے کہ اس کے 340 طیارے متاثر ہوئے ہیں اور اسے ’کچھ آپریشنل تاخیر‘ کی توقع ہے لیکن امید ہے کہ اپ ڈیٹس سنیچر یا اتوار تک مکمل ہو جائے گی۔
ڈیلٹا ایئر لائنز کا کہنا ہے کہ وہ ایئربس کی ہدایات کی تعمیل کرے گی لیکن اس کے نتیجے میں آپریشنل اثر ’محدود‘ ہونے کی توقع ہے۔
ایئر انڈیا کا بھی کہنا ہے کہ ایئربس کی ہدایات سے ’ہمارے طے شدہ آپریشنز میں طویل تبدیلی اور تاخیر ہو سکتی ہے.‘
ویز ایئر نے اس ہفتے کے آخر میں پرواز کرنے والے مسافروں کو خبردار کیا ہے کہ انھیں اپ ڈیٹ کے نتیجے میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
لیکن برطانیہ کی نجی ایئر لائنز ایزی جیٹ کا کہنا ہے کہ اس نے پہلے ہی مطلوبہ سافٹ ویئر اپ ڈیٹ مکمل کر لیا ہے اور ہفتے کو معمول کے مطابق اپنی پروازیں چلانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
ایئر کینیڈا کا بھی کہنا ہے کہ وہ اپنے آپریشنز پر کسی اثر کی توقع نہیں کر رہا کیونکہ ’ہمارے بہت کم طیارے سافٹ ویئر کا وہ ورژن استعمال کرتے ہیں۔‘
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جاپان کی آل نپون ایئرویز (اے این اے) نے سنیچر کو 65 پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
پی کے 268: پی آئی اے کا طیارہ جو رن وے پر اُترنے کے بجائے ہمالیہ کی پہاڑی سے جا ٹکرایا طیارہ حادثے میں زندہ بچ جانے والی واحد مسافر کی کہانی: ’ہم ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھے ہوئے تھے، پھر اچانک گھپ اندھیرا ہو گیا‘فلائیٹ 163: کراچی سے جدہ جانے والا بدقسمت طیارہ جس کی لینڈنگ کے باوجود کوئی زندہ نہ بچ سکاایئر ٹربیولینس کے واقعات میں اضافہ: ایوی ایشن انڈسٹری فضائی سفر کو محفوظ اور ہموار بنانے کے لیے کیا کر رہی ہے؟
بی بی سی کے نامہ نگار تھیو لیگیٹ کہتے ہیں کہ دُنیا بھر میں چھہزار اے 320 طیارے متاثر ہو سکتے ہیں، جو ایئر بس کے عالمی بیڑے کا نصف ہیں اور یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے۔
اُن کے مطابق زیادہ تر طیاروں میں نیا کمپویٹر سافٹ ویئر انسٹال کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا لیکن پرانے ماڈل کے لگ بھگ 900 اے 320 طیاروں میں کمپویٹر تبدیل کرنے کی ضرورت ہو گی اور اُس وقت تک یہ گراؤنڈ رہیں گے۔ اس میں کتنا وقت لگے گا اس کا انحصار کمپیوٹرز کی دستیابی پر ہو گا۔
ہم نے لندن کے دو سب سے بڑے ہوائی اڈوں، ہیتھرو اور گیٹ وِک کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ ہیتھرو ایئر پورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس سے اس کے آپریشنز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جبکہ گیٹ وک میں کچھ خلل کا امکان ہے۔
برطانیہ کے ٹرانسپورٹ سیکریٹری ہیڈی الیگزینڈر کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی ایئر لائنز پر اس کا اثر محدود پیمانے پر ہو گا لیکن ویک اینڈ میں پرواز کرنے والے مسافروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ مزید معلومات کے لیے ایئر لائنز سے رابطہ کریں۔
Getty Imagesشمسی تابکاری ہوائی جہاز کے الیکٹرانکس کو کس طرح متاثر کرتی ہے؟
آسٹریلیا کی کنٹاس ایئر لائنز کے سابق پائلٹ ڈاکٹر ایان گیٹلی کہتے ہیں کہ پروازیں کورونل ماس ایجیکشن (سی ایم ای) سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
اس کی وضاحت کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ یہ اُس وقت ہوتا ہے جب سورج کی بیرونی سطح (کرونا) سے انتہائی گرم برقی گیسز (پلازما) کا اخراج ہوتا ہے اور یہ اوپری فضا میں زیادہ چارج شدہ ذرات پیدا کرتے ہیں جو ہوائی جہاز کے الیکٹرانکس میں مداخلت کر سکتے ہیں۔
اُن کے بقول سی ایم ای کی شدت جتنی زیادہ ہو گی، اتنا ہی زیادہ امکان ہے کہ سیٹلائٹس اور 28 ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں کے الیکٹرانکس نظام میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے خود اُس صورتحال کا سنہ 2003 میں اس کا سامنا کیا جب وہ لاس اینجلس سے نیویارک کی جانب جانے والی پرواز کے پائلٹ تھے۔
ڈاکٹر ایان گیٹلی کہتے ہیں کہ اس کے بعد اُنھوں نے اس کی تحقیق کا فیصلہ کیا۔
Getty Imagesایئر بس اے 320 طیارہ
ایئر بس اے 320 کو دنیا بھر کی ایئر لائنز کے لیے ’سب سے پسندیدہ طیارہ‘ قرار دیتی ہے۔
یہ طیارے 47 ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز کر سکتے ہیں اور ان میں 120 سے 244 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔
ایئر بس کے مطابق ان طیاروں میں 50 فیصد (سسٹین ایبل ایوی ایشن فیول) استعمال ہوتا ہے اور 2030 تک یہ 100 فیصد اس پر منتقل ہو جائے گا۔
توانائی کے قابل تجدید ذرائع سے بننے والا سسٹین ایبل ایوی ایشن فیول کاربن کے اخراج کو کافی حد تک کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
طیارے میں دو جدید ترین ٹربو فین انجنز ہوتے ہیں جو اس کے سابقہ ماڈلز کے مقابلے میں 20 فیصد کم ایندھن استعمال کرتے ہیں۔
خراب موسم میں ہچکولے کھاتی انڈین ایئرلائن انڈیگو کی پرواز، مسافروں میں خوف اور ’لاہور سے رابطہ‘دوران پرواز مسافر کی موت ہو جائے تو جہاز میں لاش کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟فضا میں طیارے آپس میں تصادم سے کیسے بچتے ہیں اور یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟کریش سے چار منٹ پہلے ریکارڈنگ کیوں بند ہوئی؟: جنوبی کوریا طیارہ حادثے سے متعلق وہ سوال جن کے جواب تاحال نہیں مل سکے’میں نے تو کلمہ پڑھ لیا تھا‘: ایک چھوٹا سا پرندہ ہوائی جہاز کو کیسے تباہ کر سکتا ہے؟اوپر چھت نہیں اور نیچے سمندر۔۔۔ جب 24 ہزار فٹ کی بلندی پر جہاز کی چھت ٹوٹ گئی اور ایئر ہوسٹس ہوا میں اڑ گئی