Getty Images
انڈیا اور ترکی کے درمیان تعلقات پہلے سے ہی کشیدگی کا شکار ہیں اور اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انقرہ نے خطے میں موجود دیگر ممالک سے بھی تعلقات مستحکم کرنے شروع کر دیے ہیں۔
انڈیا کے حریف پاکستان کے لیے ترکی کی حمایت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور اب ترکی نے بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا اور مالدیپ جیسے ممالک سے بھی تعلقات مضبوط کرنا شروع کر دیے ہیں، جو انڈیا کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
ترکی کی بحیرہ ہند کے خطے میں پہنچنے کی کوششیں اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ وہ انڈیا کو روکنے اور نئے اتحاد بنانے کا خواہاں ہے۔
بظاہر انڈیا بھی ترکی کے اقدامات کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے اور انقرہ کے یونان، قبرص اور آرمینیا جیسے حریفوں سے اپنے اتحاد کو مضبوط کر رہا ہے۔
انڈیا کے خلاف پاکستان کی حمایت
انڈیا اور ترکی کے درمیان تعلقات اس وقت مزید کشیدگی کا شکار ہوئے جب مئی میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان چار روزہ عسکری تنازع دیکھنے میں آیا۔
اطلاعات کے مطابق اس تنازع کے دوران پاکستان نے انڈین فوج اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے ترکی کے مہیا کیے گئے ڈرونز اسسگارڈ اور سونگر استعمال کیے تھے، جس کے بعد نئی دہلی نے ترکی کو اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کیا تھا۔
برسوں سے ترکی پاکستان کو بیرکتار ڈرونز اور ایف 16 فائٹنگ فیلکن جہاز مہیا کر رہا ہے۔
ترکی نہ صرف پاکستان کا دوسرا بڑا اسلحہ سپلائر ہے بلکہ اس کا قریب ترین اتحادی بھی ہے، جو کشمیر پر بھی اس کے مؤقف کی تائید کرتا ہے۔
Getty Images
عسکری ساز و سامان مہیا کرنے کے علاوہ مئی میں ترک صدر رجب طیب اردوغان نے انڈیا کے خلاف پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔
یہی نہیں 29 اکتوبر کو ترکی کے قومی دن کے موقع پر بھی انڈیا دور دور ہی نظر آیا۔
اس کے فوراً بعد ترکی نے انڈیا کو امریکی اپاچی ہیلی کاپٹرز کی ڈیلیوری میں بھی رکاوٹ ڈالی اور ان کی فضائی کلیئرنس دینے سے انکار کر دیا۔
انڈیا کے پڑوس میں ترکی کے بڑھتے عسکری تعلقات
انڈیا کے پروسیوں کے ساتھ دفاعی سرگرمیوں میں اضافہ ترکی کی بحیرہ ہند کے خطے میں دلچسپی کا منھ بولتا ثبوت ہے۔
بنگلہ دیش میں انڈیا کی اتحادی حسینہ واجد کی معزولی کے بعد ترکی نے محمد یونس کی عبوری حکومت کے ساتھ فوجی تعلقات بہتر کیے ہیں۔
تین نومبر کو ترکی کے پارلیمانی وفد کے ساتھ ملاقات کے بعد محمد یونس کا کہنا تھا کہ ’بنگہ دیش ترکی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کام کرنے کو تیار ہے تاکہ لوگوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔‘
’یہ وہ جہاز ہے جو کبھی تباہ نہیں ہوتا‘: ترکی کا سی 130 طیارہ کیسے تباہ ہوا؟ قیاس آرائیاں اور سوالاتانڈین وزیر اعظم اور آرمی چیف کی ڈیپ فیک ویڈیوز: دلی دھماکے کے بعد ’گمراہ کن مہم‘ پر ترکی پریشان اور انڈیا کا ’پاکستانی اکاؤنٹس‘ پر الزامسٹیل ڈوم: ترکی کا کئی تہوں پر مشتمل فضائی دفاعی نظام کیا ہے اور یہ اسرائیل کے آئرن ڈوم سے کتنا مختلف ہے؟ترکی کا انڈونیشیا کو 48 ’ففتھ جنریشن‘ لڑاکا طیارے برآمد کرنے کا اعلان: ترک ساختہ ’کان‘ طیارے کیخصوصیات کیا ہیں؟
انڈیا میں میڈیا نے یہ بھی کہا کہ بنگلہ دیش ترکی سے بیرکتار ڈرونز، ٹی آر جی 300 راکٹ سسٹم اور اوتوکار تلپر لائٹ ٹینکس خریدنے کے لیے بھی مذاکرات کر رہا ہے۔
عسکری امور پر توجہ رکھنے والی ایک بنگلہ دیشی ویب سائٹ کے مطابق بنگلہ دیش ترکی سے سائپر لونگ رینج ایئر ڈیفینس سسٹم بھی خریدنے کا خواہاں ہے، کچھ انڈیا میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پر بات چیت بھی جاری ہے۔
انڈین اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بنگلہ دیش روایتی طور پر چین پر زیادہ انحصار کرتا رہا ہے تاہم سنہ 2022 میں ترک دفاعی برآمدات کا ایک بڑا خریدار بن کر سامنے آیا تھا۔
دفاعی امور پر مہارت رکھنے والے انڈین صحافی طاہر قریشی کہتے ہیں کہ ’بنگلہ دیش میں ترکی کے جمے ہوئے قدم اسے خلیج بنگال میں بھی سٹریٹجک موجودگی کا موقع فراہم کرتے ہیں، جس سے اس کی رسائی بحیرہ اسود سے بڑھ کر بحیرہ ہند تک پہنچ جاتی ہے۔‘
مالدیپ بحیرہ ہند میں ایک اور ملک ہے جہاں کے صدر محمد معیزو نے نومبر 2023 میں ترکی کا دورہ کیا تھا اور اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ ہوا۔
رواں برس اپریل میں ترکی نے مالدیپ کو ٹی سی جی ولکان پی 343 نامی بحری جہاز تحفے میں دیا تھا۔ اس سے قبل مارچ میں ترکی نے مالدیپ کو مسلح ڈرونز بھی فراہم کیے تھے۔
جنوری 2024 میں مالدیپ نے ترکی کے ساتھ 37 ملین ڈالر کا ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت اسے عسکری ڈرونز ملنے ہیں تاکہ اکنامک زون میں گشت بڑھائی جا سکے۔
رواں برس 22 سے 27 جولائی تک استنبول میں ہونے والی ایک دفاعی نمائش میں ترکی نے سری لنکا کی بھی میزبانی کی تھی۔
اس سے قبل جون میں ایک ترک جہاز بھی کولمبو میں لنگر انداز ہوا تھا، جسے سری لنکا نے ’دفاعی تعاون میں اضافے کی علامت‘ قرار دیا تھا۔
Getty Imagesجنوبی ایشیا میں غیر عسکری سرگرمیاں
انڈین میڈیا کا ایک حلقہ اس بات پر بھی زور دے رہا ہے کہ ترکی انڈیا کے پڑوس میں غیر عسکری سرگرمیاں اور اثر و رسوخ بھی بڑھا رہا ہے۔
ترک وزارتِ خارجہ کے مطابق اگست 2019 میں ترکی نے ’ایشیا انیشیٹو‘ کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد ایشیا میں اپنی موجودگی کو مزید بڑھانا تھا۔
رواں برس 29 مئی کو ترک حکومت کے حامی اخبار ینی شفق نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ’جنوبی ایشیا میں ترکی کے بڑھتے اثر و رسوخ‘ پر انڈیا کو تحفظات ہیں۔
انڈیا کی فرسٹ پوسٹ ویب سائٹ نے اپنے ایک مضمون میں کہا تھا کہ ’اردوغان اسلامی دنیا کے رہنما بننے کی کوشش کر رہے ہیں‘ اور ’پاکستان ترکی کا جونیئر پارٹنر اور نظریاتی مقابلے کا حصہ ہے۔‘
بنگلہ دیش میں بھی ترکی جماعت اسلامی سمیت متعدد گروہوں سے روابط بڑھا رہا ہے۔
انڈیا کی سی این این نیوز 18 ویب سائٹ نے انٹیلیجنس ذریعے سے منسوب ایک بیان میں خبر میں کہا تھا کہ ’ترکی کی انٹیلیجنس ایجنسیاں مبینہ طور پر بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی سمیت دیگر اسلامی گروہوں کو مالی لوجسٹیکل سپورٹ فراہم کر رہی ہیں۔‘
ترکی اپنی سرکاری امدادی تنظیم ترکش کوآپریشن اینڈ کوآرڈینیشن ایجنسی کے ذریعے بنگلہ دیش میں رونگیا پناہ گزینوں کو بھی امداد کر رہا ہے۔
نیپال میں سرکاری فنڈ سے چلنے والی ترک غیرسرکاری تنظیم آئی ایچ ایچ نے بھی ملک کے سرحدی علاقوں میں اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں، وہاں مسجدیں، مدرسے اور مسلمان اقلیتی آبادی کے لیے اسلامک سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔
انڈیا ترکی کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے کیا کر رہا ہے؟Getty Images
انڈین میڈیا کے مطابق انڈیا ترکی کے یونان، قبرص اور آرمینیا جیسے حریفوں سے اتحاد کو مضبوط کر رہا ہے۔
انڈیا ٹوڈے کی صحافی گیتا موہن نے 18 نومبر کو اپنے چینل پر کہا تھا کہ ’ترکی کا جنوبی ایشیا میں غیرمتوقع کردار انڈیا کے سکیورٹی میٹرکس کو تبدیل کر رہا ہے۔ انقرہ اب صرف تماشائی نہیں بلکہ ایک متحرک طاقت ہے۔‘
رواں برس 17 اور 18 ستمبر کو انڈیا کی تلوار کلاس فریگیٹ اور آئی این ایس تریکاند نے یونانی بحریہ کے ساتھ بحیرہ میرتون میں مشقیں کی تھیں۔ اس کے علاوہ ایسی ہی مشقیں 24 ستمبر کو قبرص کے ساتھ بھی ہوئی تھیں۔
ہندی اخبار نوبھارت ٹائمز نے 24 اکتوبر کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ان مشترکہ مشقوں کے سبب ترکی کے لیے ’پیچیدگیوں میں اضافہ‘ ہو سکتا ہے کیونکہ ’اس کے پروسی یونان سے بڑے عرصے سے تعلقات خراب ہیں۔‘
ایسی ایک رپورٹ میں 6 اکتوبر کو زی نیوز نے کہا تھا کہ انڈیا کی یہ سرگرمیاں ’ترکی کے خطے میں اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔‘
سلطان محمد ثانی: قسطنطنیہ کی فتح، جسے یورپ آج تک نہیں بھولا’حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش‘ اور جھوٹی گواہی: سلطان سلیمان کا کردار نبھانے والے ترک اداکار جنھیں ایک تعلق نے مشکل میں ڈال دیا’پاکستان کی حمایت کرنے پر برہم‘ انڈیا ترکی کو کیسے نشانہ بنا رہا ہے؟انڈیا میں ترکی اور آذربائیجان کے ’بائیکاٹ‘ کی بازگشت: ’انھوں نے پاکستان کا ساتھ دیا‘https://www.bbc.com/urdu/articles/c3wdqd3w14vo