Getty Imagesمہوش سلمان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ان کی کمپنی کو این ویڈیا کی طرف سے تین ہزار جی پی یوز کی الاٹمنٹ ہوئی ہے
’آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی دوڑ میں ڈیٹا، سونے اور تیل کے ذخائر کی طرح ہے جسے آپ ملک سے باہر نہیں بھیج سکتے۔ خاص طور پر حساس ڈیٹا۔ لہذا اب سارا ڈیٹا پاکستان میں ہی رہے گا۔‘
یہ کہنا ہے پاکستان میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے منسلک خود مختار ڈیٹا سینٹر قائم والی کمپنی ڈیٹا والٹ پاکستان کی چیف ایگزیکٹو آفیسر مہوش سلمان کا جو پراُمید ہیں کہ اس سے پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔
ڈیٹا والٹ پاکستان نے حال ہی میں ٹیلی نار پاکستان کے اشتراک سے پاکستان کے پہلے خود مختار آرٹیفیشل انٹیلیجنس کلاؤڈ کو لانچ کیا ہے۔
ڈیٹا والٹ پاکستان کے مطابق کراچی میں قائم کیے گئے اس ڈیٹا سینٹر سے کاروباری ادارے، حکومتی محکمے اور ٹیلی کام کمپنیاں استفادہ کر سکتی ہیں اور اپنے حساس ڈیٹا کو محفوظ بنا سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان جیسے ممالک آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ڈیٹا پروسیسنگ کے لیے بیرون ملک واقع کلاؤڈ سرورز پر انحصار کرتے ہیں جس سے ڈیٹا پرائیویسی اور قومی سلامتی سے متعلق مسائل کا خدشہ رہتا ہے۔
دُنیا کے بڑے کلاؤڈ سرورز میں ایمیزون ویب سروس (اے ڈبلیو ایس)، مائیکروسافٹ (Azure) اور گوگل کلاؤڈ پلیٹ فارم (جی سی پی) سرفہرست ہیں۔
Getty Images
مہوش سلمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلقہ کوئی بھی کام کرنا چاہ رہا ہے تو اسے ’جی پی یوز‘ کی ضرورت پڑی ہے جہاں وہ اپنا ڈیٹا ہوسٹ کرتے ہیں۔
اُن کے بقول صحت، تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق اور ڈیٹا کا تجزیہ کرنے والی کمپنیاں اس سے استفادہ کر سکتی ہیں اور ان سب کو جی پی یوز کی ضرورت پڑتی ہے۔
کمپیوٹر میں استعمال ہونے والے سینٹرل پروسیسنگ یونٹ سی پی یو کی طرح گرافکس پروسیسنگ یونٹ جی پی یو بھی ہارڈ ویئر ہے جو تیزی سے ڈیٹا کو پراسیس کرتا ہے۔
امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں انٹیل اور این ویڈیا بڑے پیمانے پر جی پی یوز تیار کرتی ہیں، لیکن امریکہ کی جانب سے ان کی برآمد، خاص طور پر چین بھیجنے پر کنٹرول کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔
مہوش سلمان کا دعویٰ ہے کہ اُنھیں این ویڈیا سے تین ہزار جی پی یوز کی الاٹمنٹ ہوئی ہے۔
اُن کے بقول یہ کلاؤڈ پلیٹ فارم مشین لرننگ، بڑے لینگوئج ماڈلز ایل ایل ایم، ویڈیو اینالیٹکس، جنریٹو اے آئی اور بہت کم وقت میں ڈیٹا پراسیس کرنے کی سہولت دے گا۔
مصنوعی ذہانت کی دلچسپ لیکن ’ڈرا دینے والی‘ شکل ’جنریٹیو اے آئی‘ کیا ہے؟مصنوعی ذہانت کی وجہ سے ’30 کروڑ نوکریاں ختم ہو سکتی ہیں‘پاکستان کی ’قومی مصنوعی ذہانت پالیسی‘ اور ’2030 تک 35 سے 40 لاکھ نوکریاں‘: ’انھیں خطرہ ہو گا جو اے آئی استعمال کرنا نہیں جانتے‘کیا آپ کے پاس وہ نوکری ہے جس کو فی الحال مصنوعی ذہانت سے کوئی خطرہ نہیں ڈیٹا سینٹرز ہوتے کیا ہیں اور یہ کتنے اہم ہیں؟
آرٹیفیشل انٹیلی جینس کے ماہر ڈاکٹر فیصل کامران کہتے ہیں کہ ڈیٹا سینٹرز بنیادی طور پر وہ سرور ہوتے ہیں جو ہمیں 24 گھنٹے ڈیٹا فراہم کرتے ہیں۔ یہ سرور طاقت ور اور تیز رفتار کمپیوٹر مشینز پر مشتمل ہوتے ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ جس طرح ہم کسی ویب سائٹ تک رسائی حاصل کرتے ہیں تو بنیادی طور پر ہم انٹرنیٹ کے ذریعے ایک درخواست بھیج رہے ہوتے ہیں جس پر ہمیں ڈیٹا ملتا ہے۔
اُن کے بقول یہ مواد جس جگہ پر ذخیرہ ہوتا ہے، اسے سرور کہتے ہیں اور یہ ہر وقت ہمیں ڈیٹا فراہم کرتے ہیں اور جس پر بڑے بڑے سرورز کو رکھا جاتا ہے، اس جگہ کو ڈیٹا سینٹر کہتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ بڑی بڑی حکومتیں، بینک، کاروباری ادارے اپنے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے لیے بڑے بڑے ڈیٹا سینٹرز بناتے ہیں، جہاں اُن کا سارا ڈیٹا جمع کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر کامران کہتے ہیں کہ دُنیا کی بڑی کمپنیاں بشمول ایمیزون، گوگل اور مائیکرو سافٹ کے اپنے اپنے ڈیٹا سینٹرز ہیں۔
اُن کے بقول ڈیٹا سینٹرز بھی دو طرح کے ہوتے ہیں جس میں پبلک اور پرائیویٹ شامل ہیں۔
ایک وہ جو ادارے اپنے کام کے لیے بناتے ہیں۔ مثال کے طور پر پی ٹی سی ایل کا اپنا ڈیٹا سینٹر ہے اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ اُن کا ڈیٹا باہر نہ جائے۔
وہ کہتے ہیں کہ دوسری قسم پبلک ڈیٹا سینٹرز کی ہوتی ہے جسے کلاؤڈ بھی کہا جاتا ہے اور ان میں دُنیا بھر سے لوگ ادائیگی کے عوض اس میں معلومات سٹور کر سکتے ہیں یا سروسز حاصل کر سکتے ہیں جس طرح ایمیزون یا جی میل ہے۔
اُن کے بقول پاکستان میں جو آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مشتمل ڈیٹا سینٹر بنایا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے حکومتی ادارے اپنا ڈیٹا ایک ہی جگہ پر جمع کر سکیں گے اور یہ پابندی بھی ہو گی کہ کون اس ڈیٹا سینٹر تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور کون نہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ کے ملک کا ڈیٹا باہر نہ جائے اور اس حوالے سے خصوصی پروٹوکولز بنائے جائیں گے اور جس جگہ پر یہ ڈیٹا سینٹرز بنائے جاتے ہیں وہ بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی سی ایل) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا ڈیٹا سینٹر ہے۔ لیکن پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا ڈیٹا سینٹر ہو گا جس میں مختلف محکموں، سرکاری اداروں، بینکوں اور دیگر ادارے اپنا اور صارفین کا ڈیٹا محفوظ ہو گا۔
لاگت کے حوالے سے ڈاکٹر فیصل کامران کہتے ہیں کہ اس کا انحصار اس پر ہے کہ آپ کس نوعیت کا ہارڈ ویئر استعمال کرتے ہیں۔ کس طرح کا سافٹ ویئر ہو گا اور کتنی ہنر مند افرادی قوت کا آپ انتخاب کرتے ہیں۔
Getty Imagesآرٹیفیشل انٹیلی جنس کلاؤڈ
انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ماہر مجبتی محمد کہتے ہیں کہ کلاؤڈ سے مراد ایسی سرور مشینز ہیں جو ایک ہی جگہ پر رکھی جاتی ہیں اور اگر انھیں آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے منسلک کر دیا جائے تو پھر انھیں اے آئی کلاؤڈ کہا جاتا ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اب تک پاکستان میں مقامی طور پر ڈیٹا کو سٹور کرنے والا کوئی کلاؤڈ نہیں تھا، ان کے سرورز ملک سے باہر موجود ہوتے تھے۔ اب یہ سرور پاکستان میں ہی موجود ہوں گے اور کلاؤڈ کے ذریعے ان تک رسائی مل سکے گی۔
اُن کے بقول سادہ زبان میں بات کی جائے تو ماضی میں یہ ہوتا تھا کہ لوکل ایریا نیٹ ورکنگ (لین) کے ذریعے کمپیوٹرز ایک سرور مشین کے ساتھ منسلک ہوتے تھے۔ لیکن کلاؤڈ میں ایک ہی جگہ پر ڈیٹا سٹور کیا جاتا ہے اور انٹرنیٹ کے ذریعے کسی بھی مقام سے اس تک رسائی ہوتی ہے۔
مجبتی محمد کہتے ہیں کہ دُنیا میں بڑی کلاؤڈ کمپنیوں میں ایمیزون، گوگل اور مائیکرو سافٹ سرفہرست ہیں اور اس ڈیٹا تک رسائی کے لیے ان کمپنیوں نے اپنے اپنے قوانین بنا رکھے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اے آئی کلاؤڈ ریگولیٹرز اور پالیسی سازوں کے لیے ڈیٹا کے تحفظ اور نگرانی کے فریم ورک کا اچھا موقع ہے۔ یہ بلاشبہ ایک اہم لمحہ ہے۔
پاکستان کی نیشنل اے آئی پالیسی میں کیا کچھ شامل ہے؟
پاکستان کی وفاقی کابینہ نے رواں برس 'نیشنل آرٹیفیشل انٹیلیجنس' پالیسی منظور کی تھی۔
سنہ 2030 تک مصنوعی ذہانت کے شعبے میں 35 سے 40 لاکھ نوکریوں کا اضافہ ہو یا اے آئی کی مدد سے جی ڈی پی میں سات سے 12 فیصد تک کا متوقع اضافہ، یہ وہ چند بڑے اور 'پُرعزم' اہداف ہیں جن کا اعلان پاکستانی حکومت نے اس پالیسی کے تحت کیا تھا۔
حکومت کا ماننا ہے کہ نئی پالیسی پاکستان کو اے آئی کی عالمی دوڑ میں شامل کر سکتی ہے۔ پالیسی میں کہا گیا ہے کہ سٹارٹ اپس اور مصنوعی ذہانت سے متعلق لوگوں کے خیالات میں مدد دی جائے گی۔
تعلیم، صحت اور زراعت میں اے آئی کو شامل کرنے کے حکومتی دعوے بھی شامل ہیں۔ مثلاً کسان کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ کون سی فصل بہتر ہے یا مریض گھر بیٹھے ڈاکٹر سے مشورہ کر سکیں گے۔ ساتھ ہی حکومت یہ بھی یقین دلاتی ہے کہ شہریوں کا ڈیٹا محفوظ رکھا جائے گا۔
پاکستان کی ’قومی مصنوعی ذہانت پالیسی‘ اور ’2030 تک 35 سے 40 لاکھ نوکریاں‘: ’انھیں خطرہ ہو گا جو اے آئی استعمال کرنا نہیں جانتے‘مصنوعی ذہانت کی دلچسپ لیکن ’ڈرا دینے والی‘ شکل ’جنریٹیو اے آئی‘ کیا ہے؟آرٹیفیشل انٹیلیجنس ہمارے پینے کے پانی کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے؟کیا آپ کے پاس وہ نوکری ہے جس کو فی الحال مصنوعی ذہانت سے کوئی خطرہ نہیں