Getty Images
بعض اوقات سوشل میڈیا پر ’ٹرینڈز‘ کے نام پر وائرل ہونے والی کئی چیزیں لوگ بغیر سوچے سمجھے اپنانے لگتے ہیں۔
حال ہی میں خواتین سے متعلق ایک نیا رجحان تیزی سے پھیل رہا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر کوئی خاتون اپنی ماہواری (پیریڈز) کا خون چہرے پر لگائے تو اس کی جلد روشن اور چمکدار ہو جاتی ہے۔
ٹک ٹاک، انسٹاگرام سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر بیرونِ ملک چند افراد نے اس خیال کو فروغ دیا اور اب ایشیا میں بھی بعض سوشل میڈیا انفلوئنسرز اسی راہ پر چل پڑے ہیں۔
یہ انفلوئنسرز اس عمل کو ’منٹسروئل ماسکنگ‘ کا نام دیتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ماہواری کے خون میں فطری طور پر ریٹینول کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، اور اسے چہرے پر لگانے سے جلد نہایت صحت مند اور خوبصورت ہوجاتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اس دعوے میں کتنی حقیقت ہے؟ اور اگر کوئی واقعی ایسا کرے تو اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟
Getty Imagesڈاکٹرز کیا کہتے ہیں؟
اس رجحان کے بارے میں بی بی سی تمل نے ڈرماٹولوجسٹ ڈاکٹر دنیش کمار سے بات کی۔
ان کے مطابق یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔
انھوں نے واضح طور پر کہا کہ ’ماہواری کے خون کو جلد پر لگانا ہرگز درست نہیں ہے۔‘
ڈاکٹر دنیش کمار کا کہنا تھا کہ ماہواری کے خون کے مثبت اثرات کے بارے میں کوئی سائنسی بنیاد موجود نہیں ہے۔
فضائی آلودگی کیسے لڑکیوں کی جلد بلوغت کا سبب بن رہی ہے؟لڑکیوں میں قبل از وقت ماہواری کا بڑھتا رجحان ماہواری کے درد کے بارے میں کب پریشان ہونا چاہیے؟ماہواری میں معمول سے زیادہ خون آنا خواتین میں کن مسائل کا باعث بن سکتا ہے؟
انھوں نے مزید کہا: ’یہ نہ تو ایک صاف ستھرا عمل ہے اور نہ ہی محفوظ۔ ماہواری کا خون جلد میں جذب ہوتا ہے۔ اس میں جراثیم موجود ہونے کا زیادہ امکان رہتا ہے۔
’اگر چہرے پر کہیں زخم، دانے یا کٹی ہوئی جلد ہو تو یہ خون اندر جا کر خارش، جلن اور مزید تکلیف کا باعث بن سکتا ہے۔‘
Getty Imagesماہواری کے خون میں کیا عناصر شامل ہوتے ہیں؟
امریکہ کی نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق ماہواری کے خون میں مردہ بافتیں (ڈیڈ ٹشوز) شامل ہوتے ہیں۔
حمل نہ ٹھہرنے کی صورت میں عورت کے رحم کی اندرونی تہہ یعنی اینڈومیٹریئم، ماہانہ سائیکل کے دوران ٹوٹ کر خون کی صورت جسم سے خارج ہو جاتی ہے۔
ماہواری کا یہ خون جب اندام نہانی کے راستے باہر آتا ہے تو اس کے ساتھ وہاں موجود دیگر رطوبتیں بھی مل جاتی ہیں۔
نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ اندام نہانی میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا جیسے لیکٹو باسلس بھی پیریڈز کے دوران اس خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔
اس خون میں تقریباً 300 اقسام کے پروٹین، تیزاب اور انزائمز پائے جاتے ہیں۔
مزید یہ کہ ماہواری کا خون بنیادی طور پر جسم سے نکالا جانے والا فضلہ ہے۔
اس مضمون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ٹیچ مین ٹیسٹ کے نتائج کے مطابق ماہواری کے خون میں کوئی مثبت خصوصیات نہیں پائی گئیں۔
Getty Imagesکیا خوبصورتی بڑھانے کے لیے اس خون کا استعمال کیا جا سکتا ہے؟
ڈاکٹر دنیش نے خبردار کیا کہ ماہواری کا خون ایک نازک اور پیچیدہ مرکب ہوتا ہے اور اسے چہرے پر لگانے سے فائدہ تو کوئی نہیں بلکہ چہرے کی نازک جلد کو نقصان پہنچنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ خراب یا کمزور جلد کی مرمت کے لیے باقاعدہ میڈیکل طریقے موجود ہیں، جیسے پلیٹلیٹ رِچ پلازما (پی آر پی) تھراپی، جس میں جسم کے اپنے خون کو استعمال کیا جاتا ہے۔
امریکہ کی نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق، پی آر پی تھراپی میں مریض کے خون سے پلازما الگ کرکے مخصوص مقدار دوبارہ جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔
ایک سے تین سیشنز کے بعد جلد کے کھلے مسام، جھریاں اور سیاہ دھبے کم ہو سکتے ہیں اور کولیجن کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔
ڈاکٹر دنیش کمار کے مطابق اس طرح کی تھراپیز صرف مستند ہسپتالوں اور تربیت یافتہ ماہرین سے ہی کروانی چاہئیں۔
انھوں نے یہ بھی تنبیہ کی کہ ایسی چیزیں جن میں جراثیم کی آلودگی کا امکان زیادہ ہو جیسے تھوک یا ماہواری کا خون، انھیں محض سوشل میڈیا پر ٹرینڈ ہونے کی وجہ سے چہرے پر لگانا خطرناک اور غیر محفوظ ہے۔
Getty Imagesجلد کی دیکھ بھال کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
چہرے کی نازک جلد کی حفاظت کے لیے ڈاکٹر دنیش کمار نے چند اہم مشورے دیے ہیں۔
ان کے مطابق:
چہرہ صاف کرنے کے لیے ہمیشہ فیس واش یا کلینزر کا استعمال کریں۔جلد کو نم رکھنے کے لیے لوشن یا کریم لگانا ضروری ہے۔گھر سے باہر جاتے وقت کم از کم ایس پی ایف 30 والا سن سکرین ضرور استعمال کریں۔خشک یا چکنی جلد والے لوگ، اپنی سکن ٹائپ کے مطابق ہی بیوٹی اور سکن کیئر مصنوعات کا انتخاب کریں۔
انھوں نے مزید کہا کہ مناسب نیند اور صحت مند غذا چمکدار اور تروتازہ جلد حاصل کرنے کے بہترین طریقے ہیں۔
ڈاکٹر دنیش کے مطابق صحت مند جلد کے لیے یہی بنیادی اقدامات کافی ہیں اور غیر ثابت شدہ طریقوں یا سوشل میڈیا کے مشکوک رجحانات پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔
فضائی آلودگی کیسے لڑکیوں کی جلد بلوغت کا سبب بن رہی ہے؟ماہواری کے درد کے بارے میں کب پریشان ہونا چاہیے؟ماہواری میں معمول سے زیادہ خون آنا خواتین میں کن مسائل کا باعث بن سکتا ہے؟’بے چینی اور سیکس سے بیزاری مینوپاز کی عام علامات ہیں‘لڑکیوں میں قبل از وقت ماہواری کا بڑھتا رجحان