Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’سوچا تھا دو دو ہزار مل جائیں تو عید اچھی گزر جائے گی‘

ایس ایس پی کیماڑی فدا کے مطابق فیکٹری انتظامیہ نے پروگرام کے بارے میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو آگاہ نہیں کیا تھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
’دو ہزار روپے لینے کے لیے آئے تھے۔ بیٹی نے کہا اگر دونوں جائیں گے تو چار ہزار مل جائیں گے، کچھ پیسے ہاتھ میں ہوں گے تو ابو کی دوائی اور چھوٹی بہنوں کی عید اچھی گزر جائے گی، لیکن کیا معلوم تھا کہ ان چند ہزار روپوں کے عوض اپنی بیٹی کو کھونا پڑ جائے گا۔‘
یہ کہنا تھا کراچی کے پسماندہ علاقے اورنگی ٹاؤن کی رہائشی سکینہ بی بی کا، جن کی بیٹی بھی سنیچر کو سائیٹ ایریا میں نارس چورنگی کے قریب کپڑے رنگنے کی ایک فیکڑی میں زکوٰۃ کی تقسیم کے موقع پر بھگدڑ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں شامل ہے۔
بھگدڑ مچنے سے کم از کم 11 افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سات خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رش زیادہ ہونے کی وجہ سے فیکڑی کے اندر بھگدڑ مچی اور قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔
حادثے میں ہلاک ہونے والی نو سالہ ماہ نور کی والدہ سکینہ بی بی نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ محلے کی ایک خاتون سے معلوم ہوا تھا کہ ہر سال اس فیکڑی میں ماہ رمضان میں غریبوں کی مدد کی جاتی ہے۔ سنیچر کی صبح بیٹی نے کہا کہ امی فیکڑی چلتے ہیں، دو ہزار اگر دونوں کو مل جائیں گے تو عید اچھی گزر جائے گی۔

بھگدڑ مچنے سے کم از کم 11 افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

ان کا کہنا تھا کہ ان کی پانچ بیٹیاں ہیں اور شوہر بیماری کی وجہ سے بستر پر ہیں۔ کرائے کا گھر ہے اور گزر بسر بہت مشکل سے ہو رہا ہے۔ بیٹی گھر کے حالات دیکھتی تھی اور کوشش کرتی تھی کہ کسی طریقے سے گھر کے حالات بہتر ہو جائیں۔ اسی نیت سے ہم آج گھر سے فیکڑی آئے تھے۔
سکینہ بی بی کے مطابق صبح ساڑھے 10 بجے محلے کی عورت کے ساتھ ہم فیکٹری پہنچے اور باہر دروازہ کھلنے کا انتظار کرنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا رش بڑھنے گا اور فیکٹری کے باہر کافی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے۔ کچھ دیر بعد فیکڑی کا گیٹ کھلا اور لوگ گیٹ سے اندر داخل ہوئے۔
’ترتیب سے لوگ ایک لائن میں کھڑے تھے کہ اچانک شور شرابے ہونے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے صورتحال سمجھ سے باہر ہو گئی۔ عورتیں بچے اِدھر سے اُدھر بڑھنے کی کوشش کرنے لگے اور ہم نیچے گر گئے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’کپڑے رنگنے کی فیکٹری میں جگہ جگہ پانی گرا ہوا تھا تو لوگ پھسل کر گرنے لگے، ہم بھی وہیں پھنس گئے اور جب ہوش آیا تو عباسی شہید ہسپتال میں تھے اور یہ خبر ملی کہ میری بیٹی اب اس دنیا میں نہیں رہی ہے۔‘
ایس ایس پی کیماڑی فدا حسین جاوری کے مطابق فیکٹری انتظامیہ نے آج کے پروگرام کے بارے میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو آگاہ نہیں کیا تھا۔

پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رش زیادہ ہونے کی وجہ سے فیکڑی کے اندر بھگدڑ مچی۔ (فوٹو: اے ایف پی)

ان کا کہنا ہے واقعے کے بعد فیکڑی انتظامیہ کے سات افراد کو حراست میں لیا ہے۔ انتظامیہ کے مزید افراد کو بھی جلد حراست میں لے لیا جائے گا۔ واقعے کی انکوائری ایس پی سائٹ مغیز ہاشمی کو دی گئی ہے۔
گورنر، وزیراعلٰی اور چیف سیکریٹری سندھ نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر کراچی سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے اپنے بیانات میں ان کا کہنا ہے ماہ صیام میں یہ افسوس ناک واقعہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔

شیئر: