موٹروے پولیس اہلکار کو گاڑی تلے روندنے کا الزام: ملزمہ کو دو روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

بی بی سی اردو  |  Apr 25, 2024

BBC

صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کی ایک مقامی عدالت نے موٹر پولیس اہلکار پر گاڑی چڑھا دوڑنے اور اسے زخمی کرنے کے واقعے میں ملوث ملزم خاتون کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

اس واقعے کے چار ماہ بعد گرفتار ہونے والی خاتون کو جمعرات کی دوپہر سخت سکیورٹی میں جج ممتاز ہنجرا کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت سے ملزمہ کے دو دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تاہم ملزمہ کے وکیل شاہ خاور نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مؤکلہ کسی قتل یا ڈکیتی کے مقدمے میں نامزد ملزم نہیں ہیں، اس لیے ان کا جسمانی ریمانڈ دینے کی قانونی ضرورت نہیں ہے۔

عدالت نے ملزمہ کے وکیل کے دلائل سے متفق ہوتے ہوئے پولیس کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

چار ماہ سے زیادہ عرصے پرانا یہ واقعہ صوبہ پنجاب کے علاقے نارتھ چکری کا تھا۔ اس واقعے کی ایف آئی آر کے مطابق موٹر وے پولیس نے ایک خاتون کو حد رفتار سے تیز گاڑی چلانے پر روکا تو انھوں نے پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی اور بعدازاں ایک اہلکار پر گاڑی چڑھا دوڑی جس کے باعث وہ زخمی ہوا۔

چار ماہ پرانا یہ واقعہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد گذشتہ روز (24 اپریل) راولپنڈی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے مذکورہ خاتون کو گرفتار کر لیا ہے۔

جمعرات کو ملزمہ کو عدالت میں پیش کیا گیا تو جج نے ملزمہ کے وکیل کی درخواست پر اُن کا طبی معائنہ کروانے کا بھی حکم دیا۔ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے روبرو یہ الزام عائد کیا کہ پولیس نے بدھ کے روز جب ان کی موکلہ کو اسلام آباد سے گرفتار کیا تو اس دوران انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس موقع پر ملزمہ نے مبینہ تشدد سے پڑنے والے زخموں کے نشانات جج کو بھی دکھائے۔

خاتون کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجے جانے کے بعد اُن کے وکیل نے ضمانت کی درخواست بھی دائر کر دی ہے جس پر عدالت نے پراسیکوشن کو 27 اپریل کے لیے نوٹس جاری کیا ہے۔

راولپنڈی پولیس کے مطابق ملزمہ جس گاڑی کو چلا رہی تھیں وہ اُن کے نام پر رجسٹرڈ نہیں تھی اور اس گاڑی کو بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

ایکس (سابقہ ٹوئٹر) سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی اور اس پر سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ واقعے کے چار ماہ بعد تک جس ملزمہ کی شناخت ممکن نہیں ہو پا رہی تھی، اُن کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے 36 گھنٹے کے اندر ان کی گرفتاری کیسے ممکن ہوئی؟

ویڈیو میں کیا تھا؟

حد رفتار سے تیز گاڑی چلانے پر ڈرائیور کو روکنے کے بعد یہ ویڈیو بظاہر موٹروے پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے ہی بنائی گئی تھی۔

اس میں ڈرائیور اور موٹروے پولیس اہلکار کے درمیان تلخ کلامی سنی جا سکتی ہے جس میں خاتون کہتی ہیں کہ ’خبردار جو بکواس کی۔ آپ نے مجھے ’تو‘ کیسے کہا؟ اپنے یونیفارم کا احترام کیا کریں۔‘

اس کے بعد ملزمہ موٹروے اہلکاروں سے کہتی ہیں کہ ’اپنی اکیڈمی میں جائیں اور سیکھیں۔ جاہل کہیں کا۔۔۔‘

اس دوران موٹروے پولیس کا اہلکار انھیں سمجھانے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ ان کی ایک نہیں سنتیں۔

پھر وہ اپنی گاڑی کے سامنے کھڑے ایک اہلکار کو سامنے سے ہٹنے کا کہتی ہیں، جس پر وہ سر ہلا کر نہیں کا اشارہ کرتا ہے۔

اس پر خاتون ایکسلریٹر پر پیر دبا کر تیزی میں گاڑی چلا دیتی ہیں اور اہلکار اس سے ٹکرا کر ایک طرف گِر جاتا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ موٹروے پولیس کی ایک کار مذکورہ گاڑی کا پیچھا کرتی ہے۔ تاہم وہ انھیں پکڑنے میں ناکام رہی تھی۔

پولیس کے مطابق زخمی ہونے والے اہلکار کو اس کے بعد مقامی ہسپتال میں لے جا کر ان کا علاج کروایا گیا۔

سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے اس واقعے کی مذمت کی گئی ہے۔ اکثر صارفین کی رائے ہے کہ اس حرکت پر ڈرائیور کو کڑی سزا دی جانی چاہیے۔

شعیب نامی صارف نے لکھا کہ ’میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ لوگ کچھ سو روپے کے چالان پر لڑتے کیوں ہیں۔ چالان کٹوائیں اور آگے بڑھیں۔ کیا آپ نے محض اس لیے کسی پر گاڑی چڑھا دی تاکہ آپ کچھ سو روپے کے چالان سے بچ سکیں۔‘

سجاد اسلم نامی صارف کہتے ہیں کہ ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ جب امیر اورغریب کے لیے الگ قانون ہو گا تو ایسے ہی ہو گا۔ قومیں اسی لیے تباہ ہوتی ہیں کہ چھوٹے چوروں کو سزا ہو جاتی ہے اور بڑے مجرموں کو کوئی نہیں پوچھتا۔‘

شاہد امین پوچھتے ہیں کہ ’کیا اس خاتون کے خلاف ایکشن لیا جائے گا یا ان سے بھی معافی مانگی جائے گی؟‘

Getty Imagesفائل فوٹوواقعے پر درج کیا گیا مقدمہ

صحافی محمد زبیر خان کے مطابق یہ واقعہ یکم جنوری 2024 کا ہے جس پر راولپنڈی کے تھانہ نصیر آباد میں 2 جنوری 2024 کو (ریش ڈرائیونگ، کار سرکار میں مداخلت اور اقدام قتل کے الزامات کے تحت ’نامعلوم خاتون‘ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

مقدمہ موٹروے پولیس اہلکار محمد صابر کی درخواست پر درج کیا گیا ہے جس میں متن میں لکھا ہے کہ وہ نارتھ چکری میں اپنے ساتھی اہلکار محمد زاہد کے ہمراہ فرائض ادا کر رہے تھے کہ جب ایک گاڑی (ہنڈا سوک) 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی سپیڈ سے آ رہی تھی جبکہ حد رفتار 120 کلومیٹر تھی۔

وہ بتاتے ہیں کہ سپیڈنگ پر گاڑی کو سکواڈ نے روکا مگر نہ رُکی۔ ’نامعلوم خاتون انتہائی غفلت اور لاپرواہی کے ساتھ زگ زیگ کرتے ہوئے چلا رہی تھیں۔‘

موٹروے پولیس نے اس گاڑی کو ٹول پلازے پر روکا تاکہ سپیڈنگ پر چالان کیا جائے۔

مقدمے کے متن میں درج ہے کہ ’اس گاڑی کو ہم نے اپنے ساتھی اہلکاروں کے ہمراہ مرکزی ٹول پلازے پر روکا اور ڈرائیور کو آگاہ کیا کہ وہ تیز رفتاری سے جا رہی ہیں اور ان کے کوائف معلوم کرنا چاہے تو خاتون نے اپنے کوائف نہیں بتائے اور ساتھی اہلکار محمد زاہد کے ساتھ بدتمیزی کرنے کے علاوہ غلیظ الفاظ استعمال کرنا شروع کر دیے تھے۔‘

درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ خاتون ’کار سرکار میں مداخلت کرتے ہوئے ٹول پلازے پر لگے بیریئر کو ہٹا کر ٹول پلازے کا ٹیکس ادا کیے بغیر گاڑی کو بھگا کر لے گئیں۔‘

اس کے علاوہ موٹر وے پولیس کے اہلکار کا کہنا ہے کہ نامعلوم خاتون نے ’گاڑی انتہائی تیز رفتاری، غفلت و لاپرواہی سے چلائے ہوئے اور بہ قتل گاڑی مجھ پر چڑھا کر مجھے زخمی کر کے اور کارِ سرکار میں مداخلت کر کے فرار ہو کر اور بوتھ پر لگے بیریئر کو نقصان پہنچا کر ارتکاب جرم بالا کیا ہے۔‘

کرنل کی اہلیہ کی وائرل ویڈیو: اہلکار سے بدتمیزی کا مقدمہ نامعلوم عورت کے خلاف درجبی بی سی رپورٹر کی وائرل ویڈیو پر پولیس اہلکار گرفتارچالان کے وقت کسی کی ویڈیو بنانا حقوق کے خلاف یا احتیاط کے لیے ضروری؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More