مصنوعی مہنگائی کے ذمہ داروں کیخلاف بھرپور ایکشن کا حکم، پنجاب میں ناجائز منافع خوروں کی جگہ نہیں: عثمان بزدار

نوائے وقت  |  Feb 15, 2020

لاہور (نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے صوبہ بھر میں مصنوعی مہنگائی کے ذمہ داروںکے خلاف بھرپور ایکشن کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کسی دباؤ کے بغیر کارروائی جاری رکھی جائے۔ انتظامیہ پرائس کنٹرول کیلئے خود میدان میں نکلے۔ دفتروں میں بیٹھ کر عوام کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔ عملی اقدامات کر کے اشیائے ضروریہ کی مقررکردہ نرخوں پر فروخت یقینی بنائی جائے اور ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرا کر قانونی تقاضے پورے کئے جائیں۔ گراں فروشی کرنے والے قانون کے ساتھ معاشرے کے بھی مجرم ہیں۔ صارفین کے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنائیں گے۔ صوبے کے مختلف شہروں میں کسان پلیٹ فارم کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ تعداد 82 سے بڑھا کر 92 کر دی گئی ہے۔ پنجاب میں ناجائز منافع خوروں کیلئے کوئی جگہ نہیں ۔ عوام کو کسی صورت ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ علاوہ ازیں عثمان بزدار نے کہا ہے کہ ترک صدر اردگان کا دورہ پاکستان دونوں ملکوں کی بڑھتی ہوئی دوستی کا مظہر ہے۔ دونوں ملکوںکے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنائے گا۔ ترکی اور پاکستان ترقی اورخوشحالی کے سفر میں قدم سے قدم ملا کرچل رہے ہیں۔ عمران خان کے دور میں پاکستان اور ترکی کے تعلقات کو عروج ملا ہے۔ پاکستان اور ترکی کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں ۔ ترکی نے مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔وزیراعلیٰ نے اردگان کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ خطاب متاثر کن تھا۔ مسئلہ کشمیر پر ترک صدر نے ایک بار پھر پاکستانی موقف کی حمایت کرکے ہمارے دل جیت لئے ہیںاور یہ پاکستانی موقف کی فتح ہے۔ ترک صدر نے اپنے بے مثال خطاب میں پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کرکے 22 کروڑ عوام کی امنگوں کی ترجمانی کی ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف میں ترک صدر کی جانب سے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت پر ان کے شکرگزار ہیں۔ دریں اثناء عثمان بزدار نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت بھی کی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More