لاک ڈاون کے دوران کراچی والوں کا جذبہ جنون

اردو نیوز  |  Mar 24, 2020

سندھ حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیئے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کے بعد عوام گھروں تک محدود ہوگئے ہیں۔

ایسے میں کراچی والوں نے اٹلی کے شہریوں سے متاثر ہو کر خود کو مصروف رکھنے اور ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھانے کے لیئے گھروں کی با لکونی میں جمع ہوکر ملی نغمے گائے۔

سوموار کو کراچی میں لاک ڈاؤن کا پہلا دن تھا ۔ شہر بھر میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے ناکہ بندی کی ہوئی تھی۔ایسے میں ڈیفنس فیز 8 میں واقع کریک وسٹا اپارٹمنٹس کے رہائشیوں نے قومی ترانہ اور ملی نغمے گا کر ایک دوسرے کی ہمت بڑھائی اور بلند حوصلہ ہونے کا ثبوت دیا۔

رہائشیوں کی جانب سے اس دوران وڈیو بھی بنائی گئی جو سوشل میڈیا پہ وائرل ہو رہی ہیں۔ کریک وسٹا اپارٹمنٹس کے رہائشیوں نے ملی نغمہ "ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار" گا کر ایک دوسرے کو حوصلہ دیا اور پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے۔

تمام گھروں کے رہائشی بالکنی پہ آگئے کچھ نے قومی پرچم بھی اٹھایا ہوا تھا۔(فوٹو ٹوئٹر)

رہائشیوں نے پاکستانکا مشہور ترین ملی نغمہ "دل دل پاکستان" بھی گایا جسے پاکستان کا غیر رسمی قومی ترانہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس دوران تمام گھروں کے رہائشی بالکونی پہ آگئے۔ کچھ نے قومی پرچم بھی اٹھایا ہوا تھا۔

کریک وسٹا سے متصل سوسائٹی کے رہائشی شہریار جعفری نے اپنے گھر کی چھت سے یہ سارا منظر دیکھا۔ انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ یہ سب دیکھ کر انتہائی خوشگوار حیرت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے اس دور میں لوگوں کا بلند حوصلہ اور ہمت میرے لیےبھی انسپریشن ہے‘۔

کورونا وائرس کے خدشے کے پیشِ نظر سندھ میں فوج طلب کر لی گئی ہے۔ اتوار کی رات سے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کیا گیا ہے لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے پہ مکمل ممانعت ہے۔

شہر کی تمام سڑکوں شاہراہوں اور گلی محلوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار گشت کر رہے ہیں اور ناکے بھی لگائے ہیں۔

 شہری صرف انتہائی ضرورت میں گھر سے باہر نکل سکتے ہیں، وہ بھی اکیلے۔ اس صورتحال میں گھروں تک محدود ہونے کے باعث لوگ کچھ پریشان اور سہمے ہوئے ہیں۔

ایسے میں شہریوں کی جانب سے ایک دوسرے کی ہمت بندھانا اور حوصلہ بڑھانا انتہائی امید افزا بات ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More