پروٹون ایس یووی ایکس70 پاکستان میں رواں سال متعارف ہوگی

سماء نیوز  |  Sep 11, 2020

گاڑیاں بنانے والی ملیشیائی کمپنی آٹو پروٹون ’’الحاج کمپنی‘‘ کے ساتھ دسمبر 2020 میں ’’ساگا‘‘ نامی ایس یو وی ایکس70 کراس اوور گاڑی متعارف کروائے گی۔

کمپنی کے ایک آفیشل نے تصدیق کی ہے کہ سال کے آخر میں دو گاڑیاں متعارف کرائی جائیں گی اور ابتداء میں گاڑیاں درآمد کریں گے جبکہ جون 2021 تک گاڑیاں مقامی سطح پر تیار کی جائیں گی۔

ایکس 70 وہی گاڑی ہے جو دسمبر 2019 میں ملائشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد نے وزیر اعظم عمران خان کو تحفے میں دی تھی۔

نام ظاہر نہ کرنے والے حکام کے مطابق اسپورٹس یوٹیلٹی وہیکل (ایس یو وی) ایکس 70 کوریا کی کمپنی ہنڈائی اور کِیا کے مدمقابل ہوگی جس میں کم قیمت کے ساتھ زیادہ فیچرز مہیا کیے جائیں گے۔

ہنڈائی کی ٹکسن اور کِیا اسپورٹیج کا انجن 2000 سی سی ہے جبکہ ایکس70 کا انجن 1500 سی سی ہوگا۔ مگر حکام کا دعویٰ ہے کہ ایکس 70 میں 1500 سی سی ٹربو انجن ہوگا جو کہ ٹکسن اور کِیا اسپورٹیج کے انجن سے زیادہ طاقت ور ہوگا۔

پروٹون کو آٹو ڈویلپمنٹ پالیسی 2016-21 کے تحت گرین فیلڈ کا درجہ حاصل ہے۔ اس حیثیت کے تحت، نئی کمپنیوں جیسے پروٹون، کِیا، ہنڈائی اور چانگان وغیرہ پاکستان میں پہلے ہی کام کرنے والی فرموں جیسے کہ ٹویوٹا، ہونڈا اور سوزوکی کے مقابلے میں کم ڈیوٹی ادا کریں گی۔

اے ڈی پی 2016-21 کی پالیسی جون 2021 میں ختم ہوگی اور نئی کمپنیوں کے متعارف کردہ ماڈلز کو ڈیوٹی میں چھوٹ کے لئے غور کیا جائے گا۔

ایک اور ذرائع کے مطابق تمام نئی کمپنیاںں اے ڈی پی کی پالیسی ختم ہونے سے پہلے زیادہ سے زیادہ ماڈل لانچ کرنے کی کوشش کریں گی۔

توقع کی جارہی ہے کہ حکومت الیکٹرک گاڑیوں پر توجہ دینے والی مسافر کاروں کے لئے آئندہ سال نئی اے ڈی پی تیار کرے گی جبکہ حکومت کی جانب سے دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں، ٹرکوں اور بسوں کے لیے پہلے ہی الیکٹرک وہیکل پالیسی کا اعلان کیا جا چکا ہے۔

مسافر گاڑیوں کے لئے پالیسی نہیں دی گئی ہے کیونکہ اے ڈی پی 2016-21 ابھی ختم ہونا باقی ہے۔

پاکستان کی آٹو انڈسٹری ایس یو وی کو کیوں پسند کرتی ہے؟

جے ایس گلوبل کیپیٹل کے ریسرچ تجزیہ کار احمد لاکھانی کے مطابق پروٹون ایکس 70 ایس یو وی کراس اوور پچھلے دو سالوں میں متعارف کی جانے والی چوتھی گاڑی ہوگی۔ ریگل آٹو موبائل نے اس سال کے اوائل میں ایس یو وی پرنس گلوری کو لانچ کیا تھا اور اے ڈی پی کی پالیسی ختم ہونے سے پہلے چانگن اپنی ایس یو وی اور ایک سیڈان لانچ کرنے کے لئے تیار ہے۔

لاکھانی کا کہنا ہے کہ اعلیٰ درجے کی مہنگی گاڑیاں اسپورٹیج ، ٹکسن یا ایکس 70 کافی منافع بخش سیگمنٹ ہے۔ اسپورٹیج اور ٹکسن کی قیمت 50 لاکھ روپے کے قریب ہے جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ ایکس 70 تقریبا 40 لاکھ روپے میں فروخت ہوگی۔

لاکھانی نے کہا کہ ’’میرے خیال میں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امیر مزید امیر ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے پاس قوت خرید ہے اور وہ خرید رہے ہیں۔ کم قیمت والی گاڑیوں کی خاطر خواہ مانگ نہیں ہے جو کمپنیوں کو کمائی کمانے میں مدد فراہم کرسکتی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ سستی مسافر گاڑیوں کا ڈیٹا اصل آبادی کی نمائندگی نہیں کرتا۔ کسی قابل اعتماد برانڈ کی سب سے کم قیمت بھی 10 لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔

لاکھانی کا کہنا تھا کہ کم قیمت والی 70 سی سی موٹرسائیکلیں درحقیقت ہماری آبادی کی نمائندگی کرتی ہیں اور ہر سال کم قیمت والی چینی 70 سی سی موٹرسائیکلوں کی فروخت میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More