چہرے کودن میں کتنی مرتبہ دھوناچاہیے؟ حساس جلدوالے افرادیہ خبرضرورپڑھ لیں

روزنامہ اوصاف  |  Nov 20, 2020

لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ دن میں جتنی مرتبہ چہرہ دھوئیں گے ، اتنا ہی ان کا چہرہ اچھا لگے گا یا ان کے چہرے کی اسکن اچھی ہوجائے گی ۔ تاہم حقیقت اس سے بالکل ہٹ کر ہے۔ نیویارک کی ایک مشہور ڈرماٹولوجسٹ ہیڈلے کنگ کا کہنا ہے کہ چہرہ دن میں کتنی مرتبہ دھونا چاہئے ، یہ انسان کی جلد پر انحصار کرتا ہے۔ کئی ماہرین کہتے ہیں کہ دن میں دو مرتبہ چہر ہ ضرور دھونا چاہئے تاہم یہ اسکن پر ہے کہ انسان کے چہرے کی اسکن کیسی ہے۔ خشک اور حساس جلد والے لوگ کتنی مرتبہ دھوئیں؟ ہیڈلے کنگ کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ جن کی جلد خشک ہے، یا جن لوگوں کی جلد حساس ہے، وہ اگر دن میں ایک مرتبہ بھی چہرہ دھولیں تو ان کیلئے کافی ہوگا۔ آئلی اسکن والے کتنی مرتبہ دھوئیں؟ ڈرماٹولوجسٹ کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جن کی جلد آئلی ہے، انہیں دن میں دو مرتبہ چہرہ ضرور دھونا چاہئے۔ تاکہ ان کے چہرے پر آئل جمع نہ ہوسکے۔ ہیڈلے کا کہنا ہے کہ اگر ورزش کریں، جم جاتے ہوں یا پھر میک اپ کیا ہو تو پھر ضروری ہے کہ ان تمام کاموں کےبعد چہرہ لازمی دھوئیں ۔ ضروری ہے کہ رات کو سونے سے قبل لازمی طور پر چہرہ دھوئیں ، تاکہ دن بھر چہرے پر جمع ہونے والی مٹی یا آئل وغیرہ جلد کو خراب کرنے کا باعث نہ بن سکیں۔ دن بھر ماحولیاتی آلودگی کے درمیان رہنے کی وجہ سے بھی چہرے کی جلد کو نقصان پہنچتا ہے ، یہ آلودگی چہرے کے کولاجن کو توڑنے اور چہرے پر جھریاں لانے کا سبب بن رہے ہوتے ہیں ۔ وہ افراد جو رات کے وقت سونے سے قبل کوئی کریم لگاتے ہیں، انہیں صبح کے وقت چہرہ ضرور دھولینا چاہئے تاکہ اس کریم کے اجزا چہرے پر دن بھر موجود نہ رہیں ، ورنہ چہرے پر دانے نکل آنے کا بھی خدشہ رہتا ہے۔ عام صابن کا استعمال؟ عام صابن کا چہرے پراستعمال نہ کریں، اگر عام صابن کا استعمال کرتے ہیں تو جان لیں کہ آپ کا چہرہ عام ہرگز نہیں ہے ۔ اسلئے بازار میں دستیاب صابن سے چہرے کو نہ دھوئیں ۔ کیونکہ ان کا پی ایچ لیول زیادہ ہوتا ہے ، جب صابن کا پی ایچ لیول اسکن کی نیچرل ایسیڈیٹی سے زیادہ تو پھر وہ اسکن کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہوتے ہیں ۔ ایسی صابن جن کی مہک اور خوشبو تیز ہو، ایسی صابن کو استعمال نہ کریں، ہلکی خوشبو اور کیمیکلز والی صابن یا فیس واش کا چہرے پر استعمال کریں ۔ 
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More