انڈین حکومت کی کسانوں کو مذاکرات کی دعوت: ’کالے قانون کو واپس لینا ہوگا‘

اردو نیوز  |  Nov 28, 2020

انڈیا کی چھ ریاستوں کے کسانوں کی مطالبات کے حق میں احتجاج کے لیے دہلی کی طرف پیش قدمی کے پیش نظر انڈین  حکومت نے کسان رہنماؤں کو مذاکرات کے لیے مدعو کر لیا ہے۔

ان کسانوں کے متعدد مطالبات ہیں لیکن وہ ستمبر میں زراعت کے شعبے میں لائے جانے والے نئے قانون کی مخالفت کر رہے ہیں۔

پولیس کی جانب سے مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کیننز کا استعمال کیا گیا تھا تاہم جمعے کو رات گئے انہیں نئی دہلی میں داخلے کی اجازت دے دی گئی۔

ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے مناظر میں ان کسانوں میں سے کچھ کو دارالحکومت کی جانب بڑھتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ہزاروں تاحال شہر کی داخلی حدود سے باہر موجود ہیں۔

وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر کا کہنا ہے کہ ’ہم نے کسانوں کی تمام تنظیموں کو تین دسمبر کو بات چیت کے لیے بلایا ہے اور ہم پہلے بھی بات کر چکے ہیں اور اب بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔‘

 کسان رہنماؤں کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک اپنے گھروں کو واپس نہیں جائیں گے جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک اپنے گھروں کو واپس نہیں جائیں گے جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے (فوٹو:بزنس انسائیڈر)کسان تنظیمیں ستمبر میں منظور کیے جانے والے بل کو مسترد کرتے ہوئے گذشتہ دو ماہ سے سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے حکومت مقرر کر دہ نرخوں پر اناج خریدنا بند کر دے گی اور اس کے نتیجے میں تجارتی کمپنیاں ان کے غلے کی ستے داموں میں خریداری کریں گی۔

دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ زراعت کے شعبے میں اصلاحات کے لیے ان قوانین کی ضرورت تھی۔

کسانوں کے ایک رہنما مجہیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ ’ہم اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں، جب تک ہم دارالحکومت تک نہیں پہنچ جاتے اور حکومت کو ان کالے قوانین کے خاتمے پر مجبور نہیں کر دیتے اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔‘

اپوزیشن جماعتوں اور مودی حکومت کے کچھ اتحادیوں نے ان قوانین کو ’کسان مخالف‘ قرار دیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More