وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب، کورونا وباءکے اثرات سے نمٹنے کے لئے دس نکاتی ایجنڈا پیش کیا

اے پی پی  |  Dec 04, 2020

اسلام آباد۔4دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وباءکے اثرات سے نمٹنے کے لئے 10 نکاتی ایجنڈا پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس پر قابو پانے کے لئے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی، ترقی پذیر ممالک کے لئے ری سٹرکچرنگ کی جائے، پانچ سو ارب ڈالر کا خصوصی فنڈ قائم کیا جائے، پسماندہ ممالک کے قرضے معاف کئے جائیں، بین الاقوامی مالیاتی نظام کی از سر نو تعمیر کی ضرورت ہے، بدعنوان سیاستدانوں اور جرائم پیشہ افراد کی طرف سے لوٹی ہوئی دولت واپس کی جائے، معاشی سیکورٹی اور تنازعات کے خاتمے کے لئے اقوام متحدہ کے چارٹر پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، پاکستان نے کورونا وائرس کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے 8 ارب کا ریلیف پیکیج دیا اور سمارٹ لاک ڈائون کی کامیاب پالیسی پر عمل کیا، کورونا وائرس 15 لاکھ افراد کی جانیں لے چکا ہے، ویکسین ہر کسی کے لئے میسر ہونی چاہئے، کورونا وائرس پر قابو پانے کے لئے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی، بدعنوان سیاستدانوں اور جرائم پیشہ افراد کی لوٹی ہوئی دولت واپس کی جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کورونا وباءکے اثرات کا جائزہ لینے اور معاشی نقصانات پر توجہ مرکوز کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ورچوئل اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس خصوصی اجلاس کے انعقاد کی تجویز دینے پر غیر وابستہ تحریک کے چیئرمین اور آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے ممنون ہیں، کورونا وباءدوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے سنگین عالمی بحران ہے، اس وائرس سے تقریباً چھ کروڑ پچاس لاکھ افراد متاثر اور 15 لاکھ کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی ویکسین ہر کسی کے لئے میسر ہونی چاہئے، کورونا وباءکی وجہ سے لوگوں کی مشکلات میں بہت زیادہ ہوا ہے،1930ءکے بعد کورونا کے باعث سب سے بڑی معاشی بدحالی کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس وباءسے غریب ترین ملک اور تمام ممالک میں رہنے والے غریب افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں تقریباً دس کروڑ افراد کورونا کے باعث غربت کی نچلی سطح تک چلے جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ امیر ملکوں نے اپنی معیشتوں کو سنبھالنے کے لئے 13 ٹریلین ڈالر خرچ کئے جبکہ دوسری طرف ترقی پذیر ملک کے پاس معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے وسائل نہیں ہیں، ترقی پذیر ملک دو سے تین ٹریلین ڈالر کا بھی بندوبست نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سمارٹ لاک ڈائون کی کامیاب پالیسی پر عمل کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نہ صرف لوگوں کو وائرس سے بچانے بلکہ انہیں غربت سے مرنے سے بچانے کے لئے کوششیں کی ہیں اور ہم نے تقریباً 8 ارب ڈالر کا ریلیف پیکیج دیا ہے جو کہ ہماری جی ڈی پی کا تقریباً تین فیصد ہے اور اس کا مقصد غریبوں کی مدد کرنا اور معیشت کو مستحکم رکھنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں کورونا وباءکی دوسری شدید لہر کا سامنا ہے جس کا ہم بھرپور طریقے سے مقابلہ کر رہے ہیں اور ہمیں اپنی معاشی شرح نمو کی بحالی اور اسے برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ کورونا کے مریضوں کی تعداد میں بڑھتے ہوئے اضافے کا چیلنج درپیش ہے جن کی وجہ سے ہمارے ہسپتالوں پر دباﺅ بڑھ رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر نے معاشی استحکام کے لئے زیادہ سے زیادہ درکار فنڈ خرچ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے لیکن بہت سے ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بجٹ خسارے میں کمی کے لئے اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ دوسرے ترقی پذیر ممالک کو ہماری طرح کی صورتحال کا سامنا ہے کہ کس طرح معیشت کو مستحکم بنائیں اور دوسری طرف بجٹ خسارے میں بھی کمی لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اضافی سرمایہ تک رسائی ہی مالیاتی انتظام اور شرح نمو کی بحالی کا راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپریل میں انہوں نے قرضوں میں ریلیف سے متعلق عالمی اقدام کی اپیل کی تھی، مئی میں جی ٹوینٹی ممالک کی طرف سے قرضوں معطل کرنے اور بعد ازاں اگلے سال جون تک اس میں توسیع کرنے ان کے شکر گذار ہیں۔ اس کے علاوہ ہم آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی طرف سے قرضوں کی تیزی سے فراہمی کی سہولت کے لئے بھی اقدام کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک جتنی رقم اکٹھی ہوئی ہے وہ کورونا وباءکے اثرات سے نکلنے کے لئے وہ ترقی پذیر ممالک کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی نہیں ہے اور پانچ ترقی پذیر ممالک اپنے قرضوں کے حوالے سے پہلے ہی دیوالیہ ہو چکے ہیں اور دیگر ممالک بھی ان کی طرح دیوالیہ ہو سکتے ہیں۔ کئی ممالک کو بڑے پیمانے پر قرضوں کی واپسی اور محصولات میں کمی کا مسئلہ درپیش ہے اور وہ بھی معاشی تباہی کے دھانے پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے بعض علاقوں میں ممکنہ افلاس کے حوالے سے عالمی ادارہ خوراک کی رپورٹس تشویشناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور کینیڈا اور جمیکا کے وزراءاعظم نے ترقی کے لئے مالی معاونت کے حوالے سے امداد کا معاملہ اٹھایا۔ اس میں ترقی پذیر ممالک کی مالی معاونت کے لئے سینکڑوں آپشنز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس عمل کو بعض ٹھوس اقدامات کے ذریعے جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات، قرضے کے انتظام کا جامع اور مساوی طریقہ کار مرتب کرنے، ایک جمہوری ایس ڈی جی ٹریڈنگ سسٹم کے قیام اور ٹیکس کا منصفانہ بین الاقوامی نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کورونا وباءکی وجہ سے کئی ترقی پذیر ممالک میں اقتصادی تباہی کو روکنا ہے تو اس کے لئے بین الاقوامی برادری کو بعض ترجیحی اقدامات کی نشاندہی کرنا اور ان پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ انہوں نے فوری اقدامات کے لئے دس نکاتی ایجنڈا پیش کرتے ہوئے کہا کہ وباءکے خاتمے تک ترقی پذیر ملکوں کے قرضے موخر کئے جائیں، انتہائی پسماندہ ملکوں کے قرضے معاف کئے جائیں، جامع کثیر طرفہ فریم ورک کے تحت ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کی ری سٹرکچرنگ کی جائے، پانچ سو ارب ڈالر کا خصوصی فنڈ مختص کیا جائے، ملٹی لیٹرل ڈویلپمنٹ بینکوں کے ذریعے کم ترقی یافتہ ملکوں کے لئے رعایتی قرضوں کی سہولت دی جائے، کم شرح پر قلیل مدتی قرضے فراہم کئے جائیں۔ کم شرح پر مختصر مدت کے قرضوں کی فراہمی کے لئے نئی لیکویڈیٹی و سسٹین ایبلٹی فیسلٹی پیدا کی جائے۔ ترقی میں 0.7 فیصد کی معاونت کے حوالے سے وعدے طورے کئے جائیں۔ پائیدار بنیادی ڈھانچے کے لئے سالانہ 15 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کا انتظام کیا جائے، ترقی پذیر ملکوں میں موسمیاتی تبدیلی کے لئے سالانہ سو ارب ڈالر کی فراہمی کا ہدف یقینی بنایا جائے، ترقی پذیر ملکوں سے امیر ممالک، ٹیکس کے حوالے سے محفوظ آف شور مقامات پر غیر قانونی طور پر رقم کی منتقلی روکنے کے لئے فوری اقدامات ہونے چاہئیں۔ بدعنوان سیاستدانوں اور مجرموں کی طرف سے لوٹے گئے اثاثوں کی متعلقہ ممالک میں فوری واپسی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یقین دلاتے ہیں کہ اس ایک اقدام سے دوسرے بہت سے اقدامات کے مقابلے میں ترقی پذیر ممالک کو زیادہ فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا بحران سے باہر نکلنے کے لئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول اور پیرس معاہدے کے تحت متعین کردہ اہداف کے حصول کے لئے کوششوں کی ضرورت ہے۔ اجتماعی معاشی سیکورٹی اور تنازعات کے خاتمے کے لئے اقوام متحدہ کے چارٹر پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور اس چارٹر کے اصولوں کے مطابق ہمیں مستحکم اور پائیدار اقتصادی، سماجی اور سیاسی نظام کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More