دورۂ آسٹریلیا: ٹیم انڈیا کا ڈریسنگ روم مِنی ہسپتال کس طرح بن گیا؟

بی بی سی اردو  |  Jan 16, 2021

برسبین ٹیسٹ کے پہلے دن ٹیم انڈیا کے فاسٹ بولر نودیپ سینی انجری کے سبب اپنا آٹھواں اوور بھی پورا نہیں کر سکے۔

سینی کو اس میچ میں کھیلنے کا موقع صرف اس وجہ سے ملا کہ ٹیم کے باقاعدہ بولر زخمی ہوگئے تھے۔

اس دورے پر ٹیم انڈیا کے زخمی کھلاڑیوں کی تعداد ایک درجن تک جا پہنچی ہے۔

اس پریشانی کی وجہ سے ٹیم مینجمنٹ کو برسبین میں کھیلے جارہے چوتھے اور آخری ٹیسٹ میں ایک مضبوط الیون کو میدان میں اتارنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔

اس طرح انڈیا نے اس ٹیسٹ میچ میں جن پانچ بولروں کو کھلایا ان کا کل تجربہ صرف تین ٹیسٹ تھا۔ ان پانچ بولروں میں نودیپ سینی بھی شامل ہیں جو اب زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

صرف 10 دن قبل شرمناک شکست کے بعد انڈیا کی حیران کن کامیابی کیسے ممکن ہوئی

انڈیا کی بیٹنگ ڈھیر، آسٹریلیا کی جیت، ’کاش میں پہلے جاگ گیا ہوتا‘

کیا انڈین کرکٹر بہت زیادہ کرکٹ کھیل رہے ہیں؟

اب سوال یہ ہے کہ اس دورے پر کرکٹرز مسلسل زخمی یا ان فٹ کیوں ہو رہے ہیں؟ اس کی ایک وجہ ضرورت سے زیادہ کرکٹ سمجھی جاتی ہے۔

کورونا کی عالمی وبا کی وجہ سے آئی پی ایل کے سیزن کو مؤخر کیا گیا اور اسے آگے بڑھانے کی وجہ سے اس ٹی 20 لیگ کے فورا بعد ہی انڈین ٹیم کو آسٹریلیا کے دورے کے لیے روانہ ہونا پڑا۔

رہانے
Getty Images

اسی سبب کھلاڑیوں کو آئی پی ایل کی تھکاوٹ سے ابھرنے کا موقع نہیں ملا۔ اس لیگ کے بعد طویل سیریز میں کھلاڑیوں کی فٹنس جواب دیتی نظر آئی۔

آسٹریلین ٹیم کے ہیڈ کوچ جسٹن لینگر نے بھی حال میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ اس سیریز میں پریشانی کا سبب آئی پی ایل بھی ہوسکتی ہے۔

اس بار اس ليگ کے منعقد ہونے کا وقت ٹھیک نہیں تھا، بطور خاص اس بڑی سیریز سے پہلے۔

جسٹن لینگر نے کہا: ’مجھے بھی یہ لیگ پسند ہے۔ جس طرح ہم اپنی صلاحیتوں میں بہتری کے لیے پہلے کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے جاتے تھے اب آئی پی ایل میں وائٹ بال کرکٹ کھیل کر ہم خود کو تیار کرتے ہیں۔‘

دو طرح کی انجریز

کرکٹ میں عام طور پر مختلف سیریز میں زخمی ہونے والے کھلاڑیوں کو دو درجوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

  • پہلا مسئلہ ان بلے بازوں کا ہے جو بیٹنگ کے دوران گیند لگنے سے زخمی ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر پہلے سے کچھ کرنا ممکن نہیں ہے۔ اسی سلسلے میں محمد شامی کے ہاتھ میں فریکچر، رویندر جڈیجہ کے انگوٹھے میں فریکچر، اشون کی پسلیوں میں چوٹ اور کے ایل راہل کی کلائی میں چوٹ شامل ہیں۔
  • دوسرا مسئلہ فٹنس کی وجہ سے انجری اور چوٹ کا ہے۔ سیریز سے پہلے بہتر فٹنس کو برقرار رکھتے ہوئے اس مسئلے سے بچا جاسکتا ہے۔ لیکن اس بار مسئلہ یہ رہا ہے کہ دونوں ہی پریشانی ایک ساتھ پیش آئی ہیں۔ فٹنس کی پریشانی کے سبب زخمی ہونے والوں میں اومیش یادو، جسپریت بمراہ، نودیپ سینی اور ہنوما وہاری شامل ہیں۔

سب جانتے ہیں کہ ٹیم انڈیا میں شامل ہونے کے لیے تمام کھلاڑیوں کو فٹنس کے ایک سخت امتحان یعنی ’یو یو ٹیسٹ‘ سے گزرنا ہوتا ہے۔

ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ کھلاڑی کو ٹیم میں منتخب کرنے کے بعد بھی انھیں ٹیم کے ساتھ نہیں لے جایا گیا کیونکہ وہ یو یو ٹیسٹ میں ناکام رہے تھے۔ لیکن اب یہ کہا جا رہا ہے کہ اس ٹور میں کچھ کھلاڑیوں کو یو یو ٹیسٹ میں ناکام ہونے کے باوجود بھیج دیا گیا تھا۔

کورونا کی وجہ سے طویل عرصے تک کھلاڑیوں کے گھر پر رہنے کو بھی فٹنس کا مسئلہ سمجھا جاسکتا ہے۔ اس دوران کھلاڑی مسابقتی کرکٹ سے دور رہے اور اس کے ساتھ فٹنس پر زیادہ توجہ نہیں دے سکے۔

نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی تھکاوٹ بھی

آسٹریلیا کے دورے سے قبل کھلاڑیوں کو نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی تھکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا جب وہ آئی پی ایل میں کھیل رہے تھے اور وہ بھی ’بائیو ببل‘ میں رہتے ہوئے کھیل رہے تھے۔

یہ سچ ہے کہ ٹی ٹوئنٹی میں بولر کو صرف چار اوورز کی بولنگ کرنی پڑتی ہے لیکن جو کھلاڑی دائرے سے باہر ہوتے ہیں انھیں رنز بچانے اور تیز رفتاری سے گیند واپس پھینکنے کے لیے بہت جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔

اس طرح کی لیگ میں کھیلنے کے بعد کرکٹرز کو تھکان سے بازیابی کے لیے کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ لیکن آسٹریلیا کے دورے سے قبل کھلاڑیوں کو آرام کے لیے وقت نہیں مل سکا۔

اس مسئلے کے بارے میں سابق ٹیسٹ کرکٹر سنجیو شرما کا کہنا ہے کہ 'بہت زیادہ کرکٹ کھیلنا زخمی ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ آئی پی ایل کے فورا بعد آسٹریلیا کے دورے سے کرکٹرز کو بازیابی کا وقت نہیں مل سکا۔'

’اس میں بھی بمراہ جیسے تینوں فارمیٹس میں کھیلنے والے کرکٹرز پر بہت زیادہ بوجھ آ گیا۔ اگر تینوں فارمیٹ میں کھیلنے والے کرکٹرز کو درمیان میں آرام دیا جاتا ہے تو وہ صحت یاب ہوسکتے ہیں اور انجری کے مسئلے سے بچ سکتے ہیں۔‘

سنجیو نے کہا: ’آج کل دوروں کے مصروف شیڈول کی وجہ سے بھی یہ مسئلہ بڑھتا جارہا ہے۔ پہلے ٹیسٹ میچوں کا اہتمام اس طرح کیا جاتا تھا کہ کھلاڑی کو ایک کے بعد دوسرے ٹیسٹ کھیلنے کے لیے درمیان میں کافی وقت دیا جاتا تھا جس کی وجہ سے بولر، بطور فاسٹ بولرز کو بازیابی کے لیے وقت مل جاتا تھا۔‘

’اب آپ اس آسٹریلوی دورے پر ہی نظر ڈالیں تو اس میں پہلے ٹی ٹوئنٹی سیریز، پھر ون ڈے سیریز اور پھر ٹیسٹ سیریز ہوئی۔ ان سیریز میں انڈیا کے بولرز یکساں تھے۔ لہٰذا ان کے لیے اس سخت دورے کا بار اٹھانا مشکل ہو گیا۔‘

پہلے کرکٹرز اس طرح زخمی کیوں نہیں ہوتے تھے؟

کپل دیو جیسے پیس بولرز کی جانب سے سنہ 1980 اور 1990 کے دہائی میں کبھی انجری کی شکایتیں کیوں نہیں سنی گئیں؟

اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا: 'اس وقت کرکٹرز کو اس قدر زیادہ کرکٹ کھیلنا نہیں پڑتا تھا۔ اس وقت کرکٹرز کو رنجی ٹرافی میں کھیلنے کے علاوہ ایک سال میں چھ سات ٹیسٹ کھیلنے ہوتے تھے، لہٰذا انھیں بازیابی کے لیے کافی وقت مل جایا کرتا تھا۔‘

’فی الحال کرکٹرز کو 12-14 ٹیسٹوں کے علاوہ ایک سال میں 60 کے قریب ٹی 20 اور ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ انھیں آئی پی ایل کے سخت شیڈول میں بھی حصہ لینا ہے۔ اس سے اُنھیں آرام کے لیے وقت نہیں ملتا ہے۔ اور یہ سب مل کر چوٹوں کے بڑھتے ہوئے مسئلے کی وجہ نظر آتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’یہ سچ ہے کہ اس دورے پر انجری کا مسئلہ سنگین ہو گیا ہے۔ لیکن میرے مطابق یہاں کی سہولیات دوسرے بہت سے ممالک سے کہیں بہتر ہیں۔ ہمارے تیز بولرز 120 کلومیٹر کی رفتار سے نہیں بلکہ وہ 140 اور 150 کلومیٹر کی رفتار سے بولنگ کرتے ہیں۔ اس رفتار سے بولنگ کرنے والے بولروں کے لیے انجری کے خطرے میں اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ اس میں بہت زیادہ طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

اب آپ تصور کریں کہ تقریباً دو دہائی قبل اگر موجودہ کورونا جیسے حالات پیدا ہو جاتے تو غیر ملکی سیریز کے درمیان اگر ایسے مسئلے پیش آتے تو اس دورے کو ہی رد کرنا پڑ جاتا کیونکہ قرنطینہ کے اصول کے تحت متبادل کو بھیجنا مشکل ہوتا۔

آج کل اضافی کھلاڑیوں کو ٹیم کے ساتھ پریکٹس کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ اس کا مقصد ان نوجوان کھلاڑیوں کو تجربہ کار بنانا ہے جو آئندہ ٹیم کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ٹیم انڈیا اس سیریز میں ایک درجن کھلاڑیوں کے زخمی ہونے کے باوجود چوتھے اور آخری ٹیسٹ میچ میں ایک فٹ الیون میدان میں اتارنے میں کامیاب رہی ہے۔

اب یہ بات مختلف ہے کہ پہلے ہی دن ایک اور کھلاڑی انجری کا شکار ہو گیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More