واٹس ایپ نے ڈیٹا شیئرنگ پالیسی کی ڈیڈلائن میں توسیع کر دی

بول نیوز  |  Jan 17, 2021

واٹس ایپ نے ڈیٹا شیئر کرنے سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کا علان کر دیا ہے۔

 تفصیلات کے مطابق واٹس ایپ نے ڈیٹا شیئرنگ پالیسی کی ڈیڈلائن 8 فروری سے بڑھا کر 15 مئی کر دی۔

متعلقہ خبرواٹس ایپ پالیسی: پاکستان میں پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل کی تیاری

واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی دنیا بھر میں متنازع بن چکی...

خیال رہے کہ واٹس ایپ نے یہ فیصلہ ڈیٹا شیئرنگ سے متعلق صارفین کے خدشات اور متبادل ایپس ’ٹیلی گرام ‘ اور ’سگنل‘ پر صارفین کے تیزی سے منتقل ہونے کے بعد کیا۔

اس حوالے سےواٹس ایپ کا کہنا ہے کہ پالیسی پر نظر ثانی کے لیے صارفین سے تجاویز طلب کی جائیں گی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 2021 میں واٹس ایپ میں نئی پرائیویسی پالیسی متعارف کروا دی گئیں تھی۔

واٹس ایپ میں 5 جنوری سے بہت بڑی تبدیلی کا آغاز ہوگیا تھا جس کا حصہ نہ بننے والے افراد کے لیے اس ایپلیکشن تک رسائی بلاک کر دینے کا کہا تھا۔

واٹس ایپ کے نئے ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کا نفاذ 8 فروری 2021 سے ہوگا اور صارفین کو انہیں لازمی قبول کرنا ہوگا۔

کمپنی کی جانب سے بھیجے جانے والے نوٹیفکیشن میں لکھا تھا ہے کہ واٹس ایپ اپنے شرائط و ضوابط اور پرائیوسی پالیسی کو اپ ڈیٹ کررہی ہے۔

اس نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ صارفین کے ڈیٹا کے حوالے سے کمپنی کا اختیار بڑھ جائے گا اور کاروباری ادارے فیس بک کی سروسز کو استعمال کرکے واٹس ایپ چیٹس کو اسٹور اور منیج کرسکیں گے۔

علاوہ ازیں فیس بک کی جانب سے واٹس ایپ کو اپنی دیگر سروسز سے منسلک کیا جاسکے گا۔

خیال رہے کیونکہ کمپنی نے نوٹیفیکشن میں لکھا تھا جب کوئی صارف میڈیا فائل کسی میسج میں فارورڈ کرے گا، تو ہم اس فائل کو عارضی طور پر انکرپٹڈ فارم میں اپنے سرور پر محفوظ کرلیں گے تاکہ فارورڈز ڈیلیوری کو زیادہ موثر بنانے میں مدد مل سکے’

دوسری جانب واٹس ایپ نے یہ بھی بتایا تھا کہ وہ کس طرح ڈیوائس ، کنکشن اور لوکیشن انفارمیشن کو پراسیس کرتی ہے۔

اسی طرح کمپنی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ڈیوائس کی لوکیشن کو بھی آپ کی اجازت کے ساتھ اس وقت اکٹھا کرتے ہیں، جب آپ ہمارے لوکیشن سے متعلق فیچرز کو استعمال کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ کمپنی کی جانب سے ٹرانزیکشن اینڈ پیمنٹس ڈیٹا کے الگ سیکشن کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے۔

-->
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More