کابل ایئرپورٹ بند: پاکستانی پارلیمانی وفد افغان فضائی حدود سے واپس

اردو نیوز  |  Apr 08, 2021

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سیکورٹی صورتحال خراب ہونے پر پاکستان کے پارلیمانی وفد کا دورہ افغانستان منسوخ کر دیا گیا ہے۔

وفد کے ہمراہ جانے والے پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق نے اردو نیوز کو بتایا کہ ان کا طیارہ ابھی کابل میں حامد کرزئی ایئر پورٹ پر لینڈ ہی کرنے والا تھا کہ اطلاع دی گئی کہ سکیورٹی کی وجہ سے ایئرپورٹ بند کر دیا گیا ہے۔ جس پر طیارہ واپس ہوا میں بلند ہو گیا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا پارلیمانی وفد سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی قیادت میں کابل جا رہا تھا اور اس میں دیگر جماعتوں کے ارکان اسمبلی بھی موجود تھے۔

یہ دورہ افغانستان کے ولسی جرگے (مجلس نمائندگان) کے سربراہ کی دعوت پر ہو رہا تھا۔

افغانستان کے ایوان نمائندگان کے سیکریٹری جنرل قادر زازے نے اردو نیوز کو بتایا کہ قریبی فوجی ایئرپورٹ پر دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کی وجہ سے پاکستانی طیارہ حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نہ اتر سکا۔

’حکام نے پاکستان کے طیارے کو 20 منٹ فضا میں رہنے دیا کہ اگر اس دوران دھماکہ خیز مواد کو ختم کیا جاتا ہے تو طیارے کو اجازت دی جائے گی، صرف پاکستانی طیارہ نہیں بلکہ چار داخلی پروازوں کو بھی واپس کیا گیا۔‘

انہوں نے کہا ایئرپورٹ کو چار گھنٹوں کے لیے بند کیا گیا تھا۔ ملٹری ایئرپورٹ پر عملے کے ایک رکن نے تقریباً 20 سال پرانے دھماکہ خیز مواد کی نشاندہی کی تھی۔

قادر زازے نے کہا کہ طیارے کی واپسی صرف سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہوئی۔

’پاکستانی طیارہ اسلام آباد پہنچنے پر ولسی جرگہ کے سربراہ اور پاکستانی قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کے درمیان رابطہ ہوا، یہ دورہ جلد ہوگا۔‘

کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے ایک عہدیدار نے اردو نیوز کو بتایا کہ افغان حکومت کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ ایئرپورٹ پر ایک چھوٹا سے دھماکہ ہوا ہے اور وہاں پر کچھ مواد بھی تھا۔

جمعرات کی صبح سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پارلیمانی وفد کے ہمراہ افغانستان روانہ ہوا تھا۔ وفد میں نمایندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق خان اور رکن پارلیمان غلام مصطفے شاہ، ساجد خان، رانا تنویر، گل داد خان، شیخ یعقوب اور شاندانہ گلزار بھی شامل  تھیں۔پارلیمانی وفد کے دورےکا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے فقدان کو ختم کرنا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More